<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 05:20:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 05:20:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی بی اے کے ٹیچر ’غیرت‘ کے نام پر دشمنی کی وجہ سے قتل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200385/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندرانی قبیلے کے مسلح افراد  نے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے معروف ٹیچر کو ’غیرت‘ کے نام پر جاری دشمنی کی وجہ سے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1746323/iba-teacher-killed-over-honour-enmity"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ڈاکٹر محمد اجمل ساوند اپنے گاؤں شاولی سے واپس سکھر جا رہے تھے کہ حملہ آوروں نے سڑک کے کنارے درختوں کے پیچھے چھپ کر کندھ کوٹ کے علاقے شالو میں ان کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کندھ کوٹ کے سینئر سپرٹنڈنٹ آف پولیس عرفان علی سمو نے ڈان کو تنازع کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سندرانی اور ساوند قبیلے کے دو گروپوں کے درمیان 2022 سے جھگڑا تھا جس کی وجہ ’غیرت‘ کے معاملے پر ان کے درمیان لڑائی کا شروع ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ShamilaGhyas/status/1643995483956981768"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق غیرت کے تنازع میں سندرانی قبیلے کی ایک لڑکی اور ساوند کمیونٹی کا ایک شخص ملوث تھا، اس آدمی کو ’کارو‘ قرار دے کر ستمبر میں قتل کر دیا گیا تھا جبکہ ’کاری‘ قرار دی جانے والی لڑکی کی قسمت کے بارے میں صورتحال واضح نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی نے بتایا کہ گزشتہ برس ہونے والے تصادم میں سندرانی قبیلے کی ایک خاتون اور چار مرد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ برس کے تصادم کے فوری بعد ساوند قبیلے سے تعلق رکھنے والے گروپ نے اپنے گھروں کا چھوڑ دیا تھا اور شاولی گاؤں میں بھاگ گئے تھے، بظاہر اس کی وجہ انتقام  سے بچنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی نے کہا کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور ڈاکٹر اجمل ساوند کے مشتبہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1139492"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی اور ساوند کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور پروفیسر کی لاش کو تعلقہ ہسپتال منتقل کیا، پوسٹ مارٹم کے بعد ڈاکٹر کے جسدخاکی کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکھر کے علاقے سوسائٹی میں نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں ٹیچر، طلبا، حکومتی حکام اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے  شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی بی اے کے وائس چانسلر آصف شیخ نے کہا کہ پیرس کی ڈیکارٹس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر اجمل ساوند گزشتہ 8 سالوں سے انسٹی ٹیوٹ کے لیے کام کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اجمل ساوند کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں ایک ممتاز اسکالر تھے اور انہوں نے اپنے تحقیقی کام کے ذریعے انسٹی ٹیوٹ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندرانی قبیلے کے مسلح افراد  نے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے معروف ٹیچر کو ’غیرت‘ کے نام پر جاری دشمنی کی وجہ سے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1746323/iba-teacher-killed-over-honour-enmity"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ڈاکٹر محمد اجمل ساوند اپنے گاؤں شاولی سے واپس سکھر جا رہے تھے کہ حملہ آوروں نے سڑک کے کنارے درختوں کے پیچھے چھپ کر کندھ کوٹ کے علاقے شالو میں ان کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔</p>
<p>کندھ کوٹ کے سینئر سپرٹنڈنٹ آف پولیس عرفان علی سمو نے ڈان کو تنازع کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سندرانی اور ساوند قبیلے کے دو گروپوں کے درمیان 2022 سے جھگڑا تھا جس کی وجہ ’غیرت‘ کے معاملے پر ان کے درمیان لڑائی کا شروع ہونا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ShamilaGhyas/status/1643995483956981768"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کے مطابق غیرت کے تنازع میں سندرانی قبیلے کی ایک لڑکی اور ساوند کمیونٹی کا ایک شخص ملوث تھا، اس آدمی کو ’کارو‘ قرار دے کر ستمبر میں قتل کر دیا گیا تھا جبکہ ’کاری‘ قرار دی جانے والی لڑکی کی قسمت کے بارے میں صورتحال واضح نہیں ہے۔</p>
<p>ایس ایس پی نے بتایا کہ گزشتہ برس ہونے والے تصادم میں سندرانی قبیلے کی ایک خاتون اور چار مرد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔</p>
<p>پولیس افسر کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ برس کے تصادم کے فوری بعد ساوند قبیلے سے تعلق رکھنے والے گروپ نے اپنے گھروں کا چھوڑ دیا تھا اور شاولی گاؤں میں بھاگ گئے تھے، بظاہر اس کی وجہ انتقام  سے بچنا تھا۔</p>
<p>ایس ایس پی نے کہا کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور ڈاکٹر اجمل ساوند کے مشتبہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1139492"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مقامی اور ساوند کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور پروفیسر کی لاش کو تعلقہ ہسپتال منتقل کیا، پوسٹ مارٹم کے بعد ڈاکٹر کے جسدخاکی کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا گیا۔</p>
<p>سکھر کے علاقے سوسائٹی میں نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں ٹیچر، طلبا، حکومتی حکام اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے  شرکت کی۔</p>
<p>آئی بی اے کے وائس چانسلر آصف شیخ نے کہا کہ پیرس کی ڈیکارٹس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر اجمل ساوند گزشتہ 8 سالوں سے انسٹی ٹیوٹ کے لیے کام کر رہے تھے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اجمل ساوند کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں ایک ممتاز اسکالر تھے اور انہوں نے اپنے تحقیقی کام کے ذریعے انسٹی ٹیوٹ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200385</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Apr 2023 10:43:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم شمسی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/07092309aa9b6ae.png?r=094226" type="image/png" medium="image" height="488" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/07092309aa9b6ae.png?r=094226"/>
        <media:title>انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اجمل ساوند کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں ایک ممتاز اسکالر تھے— فوٹو: ٹوئٹر / شمائلہ غیاث
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
