<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:11:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:11:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد میں ہندو میرج ایکٹ نافذ، ’اقلیتی افراد اپنی شادیاں مروجہ رسومات پر کرسکیں گے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200407/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کی انتظامیہ نے ہندو میرج ایکٹ 2017 کے قواعد 5 سال سے بھی زائد عرصے کے بعد نوٹیفائی کردیے، جس کے نتیجے میں اقلیتی ارکان اپنی شادیاں مروجہ رسومات کے عین مطابق کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1746302/islamabad-notifies-rules-for-hindu-marriage-act"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ’اسلام آباد کیپٹل ٹریٹری ہندو میریج رولز 2023‘کے عنوان سے جاری نوٹیفکیشن کی بدولت پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی 2017 میں منظور ہونے والے ایکٹ کے نفاذ کے لیے راہ ہموار ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان کو اسلام آباد انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کے تمام یونین کونسلوں کو نوٹیفکیشن بھیج دیا گیا ہے تاکہ اس پر عمل درآمد ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قواعد کے مطابق اسلام آباد کی متعلقہ یوسیز ایک ’مہاراج‘ رجسٹر کریں گے جو شادیوں کے لیے ’پنڈت یا مہاراج‘ کا انتظام کریں گے، جو ہندو مذہب کی آگاہی رکھنے والا مرد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1172252"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی پولیس کی جانب سے کیریکٹر سرٹیفیکیٹ کے حصول کے ساتھ ساتھ ہندو برادری کے کم ازکم 10 ارکان کی تحریری منظوری کے بعد ’مہاراج‘ کا تقرر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلمانوں کے رجسٹرڈ نکاح خواں کی طرح یوسیز مہاراج کو’شادی پرت’ (شادی کا سرٹیفکیٹ) جاری کریں گی جو متعلقہ یوسیز میں شادی رجسٹر کرے گا، تمام شادیاں یونین کونسلز میں رجسٹرڈ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قواعد کے مطابق میریج ایکٹ کے تحت مقرر ’مہاراج‘ حکومت کی مقررہ فیس کے علاوہ شادی کے امور پر پیسے نہیں لے گا، ’مہاراج‘ کے انتقال یا اس کے لائسنس کی منسوخی کی صورت میں ان کے پاس رکھا ہوا ریکارڈ متعلقہ یوسیز میں جمع کرادیا جائے گا جو ان کے بعد مقرر ہونے والے کے سپرد کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قواعد کا سیکشن 7 شادی کے خاتمے یا دوبارہ شادی سے متعلق ہے، قواعد میں اسلام آباد میں رہنے والے ہندو افراد کو شادی میں کسی تنازع کی صورت میں ویسٹ پاکستان فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کے تحت عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اہم-اقدام" href="#اہم-اقدام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’اہم اقدام‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;قواعد کا ڈرافٹ تیار کرنے والے اسلام آباد انتظامیہ کے ضلعی اٹارنی محفوظ پراچا نے ڈان کو بتایا کہ اقلیتی برادری کا حق یقینی بنانے کے لیے نوٹیفکیشن ’اہم اقدام‘ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1145366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اب پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا بھی ان قواعد کو اپنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محفوظ پراچا نے کہا کہ ’سیاسی اور ٹیکنیکلی صوبوں کے لیے اسلام آباد میں نافذ کیا گیا قانون نافذ کرنا آسان ہے بجائے اس کے کہ ہر سطح پر نئی قانون سازی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندو شادی کے قواعد کی منظوری کے لیے بنیادی کوششیں ’نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن فار منارٹی رائٹس‘ (این ایل ڈی) نے کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ایل ڈی کے رکن جے پرکاش کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بڑی تعداد میں ہندو مستقل طور پر رہائش پذیر ہیں اور یہ ضروری تھا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ مقامی برادری کے فائدے کے لیے اس قانون پر عمل درآمد کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے سیکیورٹی خدشات کے باعث ہجرت کی وجہ سے اسلام آباد میں گزشتہ دہائی میں ہندو برادری کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کی انتظامیہ نے ہندو میرج ایکٹ 2017 کے قواعد 5 سال سے بھی زائد عرصے کے بعد نوٹیفائی کردیے، جس کے نتیجے میں اقلیتی ارکان اپنی شادیاں مروجہ رسومات کے عین مطابق کر سکیں گے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1746302/islamabad-notifies-rules-for-hindu-marriage-act"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ’اسلام آباد کیپٹل ٹریٹری ہندو میریج رولز 2023‘کے عنوان سے جاری نوٹیفکیشن کی بدولت پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی 2017 میں منظور ہونے والے ایکٹ کے نفاذ کے لیے راہ ہموار ہوگئی ہے۔</p>
<p>ڈان کو اسلام آباد انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کے تمام یونین کونسلوں کو نوٹیفکیشن بھیج دیا گیا ہے تاکہ اس پر عمل درآمد ہو۔</p>
<p>قواعد کے مطابق اسلام آباد کی متعلقہ یوسیز ایک ’مہاراج‘ رجسٹر کریں گے جو شادیوں کے لیے ’پنڈت یا مہاراج‘ کا انتظام کریں گے، جو ہندو مذہب کی آگاہی رکھنے والا مرد ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1172252"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مقامی پولیس کی جانب سے کیریکٹر سرٹیفیکیٹ کے حصول کے ساتھ ساتھ ہندو برادری کے کم ازکم 10 ارکان کی تحریری منظوری کے بعد ’مہاراج‘ کا تقرر ہوگا۔</p>
<p>مسلمانوں کے رجسٹرڈ نکاح خواں کی طرح یوسیز مہاراج کو’شادی پرت’ (شادی کا سرٹیفکیٹ) جاری کریں گی جو متعلقہ یوسیز میں شادی رجسٹر کرے گا، تمام شادیاں یونین کونسلز میں رجسٹرڈ ہوں گی۔</p>
<p>قواعد کے مطابق میریج ایکٹ کے تحت مقرر ’مہاراج‘ حکومت کی مقررہ فیس کے علاوہ شادی کے امور پر پیسے نہیں لے گا، ’مہاراج‘ کے انتقال یا اس کے لائسنس کی منسوخی کی صورت میں ان کے پاس رکھا ہوا ریکارڈ متعلقہ یوسیز میں جمع کرادیا جائے گا جو ان کے بعد مقرر ہونے والے کے سپرد کر دیا جائے گا۔</p>
<p>قواعد کا سیکشن 7 شادی کے خاتمے یا دوبارہ شادی سے متعلق ہے، قواعد میں اسلام آباد میں رہنے والے ہندو افراد کو شادی میں کسی تنازع کی صورت میں ویسٹ پاکستان فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کے تحت عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت ہوگی۔</p>
<h3><a id="اہم-اقدام" href="#اہم-اقدام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’اہم اقدام‘</h3>
<p>قواعد کا ڈرافٹ تیار کرنے والے اسلام آباد انتظامیہ کے ضلعی اٹارنی محفوظ پراچا نے ڈان کو بتایا کہ اقلیتی برادری کا حق یقینی بنانے کے لیے نوٹیفکیشن ’اہم اقدام‘ تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1145366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ اب پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا بھی ان قواعد کو اپنا سکتے ہیں۔</p>
<p>محفوظ پراچا نے کہا کہ ’سیاسی اور ٹیکنیکلی صوبوں کے لیے اسلام آباد میں نافذ کیا گیا قانون نافذ کرنا آسان ہے بجائے اس کے کہ ہر سطح پر نئی قانون سازی کی جائے۔</p>
<p>ہندو شادی کے قواعد کی منظوری کے لیے بنیادی کوششیں ’نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن فار منارٹی رائٹس‘ (این ایل ڈی) نے کی ہیں۔</p>
<p>این ایل ڈی کے رکن جے پرکاش کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بڑی تعداد میں ہندو مستقل طور پر رہائش پذیر ہیں اور یہ ضروری تھا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ مقامی برادری کے فائدے کے لیے اس قانون پر عمل درآمد کرتی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے سیکیورٹی خدشات کے باعث ہجرت کی وجہ سے اسلام آباد میں گزشتہ دہائی میں ہندو برادری کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200407</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Apr 2023 15:46:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قلب علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/07145746021dada.jpg?r=150028" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/07145746021dada.jpg?r=150028"/>
        <media:title>قواعد کے مطابق ہندو برادری کی شادیاں متعلقہ یونین کونسلوں میں رجسٹر ہوں گی—فائل/فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
