<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:33:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:33:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>71 لاکھ 90 ہزار ڈالر مالیت کے اسمارٹ فونز کی غیر قانونی درآمد کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200499/</link>
      <description>&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں 71 لاکھ 90 ہزار ڈالر مالیت کے موبائل فون لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولے یا بینکنگ چینل کو استعمال کیے بغیر غیرقانونی طور پر درآمد کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1746689/fbr-detects-illegal-import-of-smartphones-worth-719m"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایف بی آر کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے موبائل فونز اور ان کے پرزوں کی درآمد پر غیر اعلانیہ پابندی کے باوجود دسمبر  سے فروری کے درمیان موبائل فونز کی درآمد سے متعلق ساڑھے 86 ڈالر مالیت کے 52 گڈز ڈیکلریشنز (جی ڈی) کلیئر کیے گئے، یہ موبائل فون مکمل طور پر تیار شدہ (سی بی یو) حالت میں درآمد کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے نشاندہی کی کہ صرف 14 لاکھ 60 ہزار ڈالر پاکستان سے باہر بینکنگ چینل کے ذریعے قانونی طور پر ادا کیے گئے جبکہ 71 لاکھ 90 ہزار ڈالر غیر قانونی طور پر ادا کیے گئے تاہم ایف بی آر نے ان موبائل فونز کی درآمد کے لیے دبئی میں مقیم فراہم کنندگان کو ادائیگیوں کے طریقہ کار کا ذکر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گڈز ڈیکلریشنز (جی ڈی) ایک آن لائن ڈیکلریشن فارم ہوتا ہے جس میں پاکستان سے درآمد یا برآمد کردہ سامان کی مقدار، یونٹ کی قیمت اور ادائیگی کی شرائط کی مکمل تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر عہدیدار نے کہا کہ ’ڈیٹا کے موازنے سے پتا چلتا ہے کہ 71 لاکھ 90 ہزار ڈالر کے موبائل فونز کی باضابطہ طور پر ادائیگی نہیں کی گئی بلکہ اس کے لیے کوئی غیر قانونی طریقہ اپنایا گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ذرائع نے تصدیق کی کہ موبائل مینوفیکچررز نے ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد موبائل فونز مکمل طور پر تیار شدہ حالت میں ان کو فراہم کردہ ایک سہولت کے تحت درآمد کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ بینکنگ سیکٹر کی جانب سے درآمدات پر عائد پابندیوں کے پیشِ نظر اب بھی کچھ کمپنیاں اپنے مینوفیکچرنگ لائسنس کے تحت موبائل فون ادرآمد کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام درآمد شدہ فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز پی ٹی آے کے ذریعے رجسٹر کروانے ہوں گے جسے بڑی تعداد میں آئی ایم ای آئی نمبروں کی رجسٹریشن کے لیے کمرشل موبائل فون ڈیلرز کی جانب سے سرٹیفیکیشن آف کمپلائنس (سی او سی) موصول ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ہفتوں میں موبائل فونز کی درآمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ ملک میں موجود تمام 30 مینوفیکچرنگ یونٹس بند کر دیے گئے ہیں کیونکہ حکومت نے لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں وزارت آئی ٹی کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ کمپنیوں کو کچھ موبائل فون درآمد کرنے کی اجازت ہے لیکن اس سہولت کے غلط استعمال سے ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں 71 لاکھ 90 ہزار ڈالر مالیت کے موبائل فون لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولے یا بینکنگ چینل کو استعمال کیے بغیر غیرقانونی طور پر درآمد کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1746689/fbr-detects-illegal-import-of-smartphones-worth-719m"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایف بی آر کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے موبائل فونز اور ان کے پرزوں کی درآمد پر غیر اعلانیہ پابندی کے باوجود دسمبر  سے فروری کے درمیان موبائل فونز کی درآمد سے متعلق ساڑھے 86 ڈالر مالیت کے 52 گڈز ڈیکلریشنز (جی ڈی) کلیئر کیے گئے، یہ موبائل فون مکمل طور پر تیار شدہ (سی بی یو) حالت میں درآمد کیے گئے۔</p>
<p>ایف بی آر نے نشاندہی کی کہ صرف 14 لاکھ 60 ہزار ڈالر پاکستان سے باہر بینکنگ چینل کے ذریعے قانونی طور پر ادا کیے گئے جبکہ 71 لاکھ 90 ہزار ڈالر غیر قانونی طور پر ادا کیے گئے تاہم ایف بی آر نے ان موبائل فونز کی درآمد کے لیے دبئی میں مقیم فراہم کنندگان کو ادائیگیوں کے طریقہ کار کا ذکر نہیں کیا۔</p>
<p>خیال رہے کہ گڈز ڈیکلریشنز (جی ڈی) ایک آن لائن ڈیکلریشن فارم ہوتا ہے جس میں پاکستان سے درآمد یا برآمد کردہ سامان کی مقدار، یونٹ کی قیمت اور ادائیگی کی شرائط کی مکمل تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایف بی آر عہدیدار نے کہا کہ ’ڈیٹا کے موازنے سے پتا چلتا ہے کہ 71 لاکھ 90 ہزار ڈالر کے موبائل فونز کی باضابطہ طور پر ادائیگی نہیں کی گئی بلکہ اس کے لیے کوئی غیر قانونی طریقہ اپنایا گیا‘۔</p>
<p>پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ذرائع نے تصدیق کی کہ موبائل مینوفیکچررز نے ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد موبائل فونز مکمل طور پر تیار شدہ حالت میں ان کو فراہم کردہ ایک سہولت کے تحت درآمد کیے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ بینکنگ سیکٹر کی جانب سے درآمدات پر عائد پابندیوں کے پیشِ نظر اب بھی کچھ کمپنیاں اپنے مینوفیکچرنگ لائسنس کے تحت موبائل فون ادرآمد کر رہی ہیں۔</p>
<p>تمام درآمد شدہ فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز پی ٹی آے کے ذریعے رجسٹر کروانے ہوں گے جسے بڑی تعداد میں آئی ایم ای آئی نمبروں کی رجسٹریشن کے لیے کمرشل موبائل فون ڈیلرز کی جانب سے سرٹیفیکیشن آف کمپلائنس (سی او سی) موصول ہوئے ہیں۔</p>
<p>حالیہ ہفتوں میں موبائل فونز کی درآمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ ملک میں موجود تمام 30 مینوفیکچرنگ یونٹس بند کر دیے گئے ہیں کیونکہ حکومت نے لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں وزارت آئی ٹی کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ کمپنیوں کو کچھ موبائل فون درآمد کرنے کی اجازت ہے لیکن اس سہولت کے غلط استعمال سے ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان پہنچے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200499</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Apr 2023 11:22:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قلب علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/091102373c59c35.jpg?r=110538" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/091102373c59c35.jpg?r=110538"/>
        <media:title>تمام درآمد شدہ فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز پی ٹی آے کے ذریعے رجسٹر کروانے ہوں گے—فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
