<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:58:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:58:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں ترسیلات زر میں 10.8 فیصد کمی ریکارڈ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200563/</link>
      <description>&lt;p&gt;بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر میں رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں 10.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے دوران ترسیلات زر میں ماہانہ بنیادوں پر 27.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سالانہ بنیادوں پر 10.7 فیصد کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلات زر کی مد میں ڈھائی ارب ڈالر موصول ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2023کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران ترسیلات زر کی مد میں مجموعی طور پر ساڑھے 20 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ برس کی اسی مدت کےمقابلے میں 10.8 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198510"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے دوران سب سے زیادہ ترسیلات زر سعودی عرب سے موصول ہوئیں جو کہ 56 کروڑ 39 لاکھ ڈالر تھیں، برطانیہ سے 42 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 40 کروڑ 67 لاکھ ڈالر اور امریکا سے 31 کروڑ 60 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ فروری میں ماہانہ بنیادوں پر ترسیلات زر میں 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جنوری کے آخری ہفتے میں شرح تبادلہ پر کیپ ہٹانے کے بعد ڈالر کے 230 روپے سے موجودہ حقیقی قیمت 280 روپے پر ہونے کے بعد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1198510"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسٹیٹ بینک نے رپورٹ کیا مالی سال 23-2022 کے ابتدائی 8 مہینے (جولائی تا فروری) میں مجموعی طور پر 17 ارب 99 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر آئیں جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 20 ارب 18 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، یہ 10.8 فیصد کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروری میں رقوم کی آمد 4.9 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 98 کروڑ ڈالر رہی، جو جنوری میں ایک ارب 89 کروڑ ڈالر تھی، اس میں بہتری اچھا عندیہ ہے لیکن جب ترسیلات زر کا موازنہ گزشتہ برس کی اسی مہینے کی 2 ارب 19 کروڑ ڈالر سے کیا جائے تو اس میں 9.4 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197116"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری میں ڈالر کی بُلند قیمت کے سبب ترسیلات زر بڑھنے کی امید تھی، شرح تبادلہ سے کیپ ہٹانے کے نتیجے میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی لیکن اس سے ترسیلات کے رجحان میں تبدیلی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی کی وجہ سے ترسیلات زر غیرقانونی ذرائع سے بھیجی جا رہی تھیں کیونکہ غیرقانونی گرے مارکیٹ میں ڈالر کی 30 سے 40 روپے زیادہ قیمت کی پیش کش کی جارہی تھی، اس پس منظر میں آئی ایم ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شرح تبادلہ کو اس سطح پر لائیں جو پاک۔افغان سرحد پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح تبادلہ سے کیپ ہٹانے سے نہ صرف ڈالر کی افغانستان اسمگلنگ میں کمی آئی بلکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی میں بھی بہتری آئی، جس کے سبب درآمدکنندگان کے لیے سبز کرنسی خریدنے میں آسانی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ کے آخر میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مارکیٹ اور بینکوں کو زیادہ ترسیلات زر آنے کی امید ظاہر کی گئی تھی کیونکہ عام طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانی خیرات، زکوۃ اور مقدس مہینے میں زیادہ اخرجات کی وجہ سے 15 سے 20 فیصد زیادہ رقم بھیجتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر میں رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں 10.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے دوران ترسیلات زر میں ماہانہ بنیادوں پر 27.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سالانہ بنیادوں پر 10.7 فیصد کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلات زر کی مد میں ڈھائی ارب ڈالر موصول ہوئے۔</p>
<p>مالی سال 2023کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران ترسیلات زر کی مد میں مجموعی طور پر ساڑھے 20 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ برس کی اسی مدت کےمقابلے میں 10.8 فیصد کم ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198510"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے دوران سب سے زیادہ ترسیلات زر سعودی عرب سے موصول ہوئیں جو کہ 56 کروڑ 39 لاکھ ڈالر تھیں، برطانیہ سے 42 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 40 کروڑ 67 لاکھ ڈالر اور امریکا سے 31 کروڑ 60 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔</p>
<p>واضح رہے کہ فروری میں ماہانہ بنیادوں پر ترسیلات زر میں 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جنوری کے آخری ہفتے میں شرح تبادلہ پر کیپ ہٹانے کے بعد ڈالر کے 230 روپے سے موجودہ حقیقی قیمت 280 روپے پر ہونے کے بعد ہوا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1198510"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسٹیٹ بینک نے رپورٹ کیا مالی سال 23-2022 کے ابتدائی 8 مہینے (جولائی تا فروری) میں مجموعی طور پر 17 ارب 99 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر آئیں جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 20 ارب 18 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، یہ 10.8 فیصد کمی ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروری میں رقوم کی آمد 4.9 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 98 کروڑ ڈالر رہی، جو جنوری میں ایک ارب 89 کروڑ ڈالر تھی، اس میں بہتری اچھا عندیہ ہے لیکن جب ترسیلات زر کا موازنہ گزشتہ برس کی اسی مہینے کی 2 ارب 19 کروڑ ڈالر سے کیا جائے تو اس میں 9.4 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197116"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فروری میں ڈالر کی بُلند قیمت کے سبب ترسیلات زر بڑھنے کی امید تھی، شرح تبادلہ سے کیپ ہٹانے کے نتیجے میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی لیکن اس سے ترسیلات کے رجحان میں تبدیلی ہوئی۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی کی وجہ سے ترسیلات زر غیرقانونی ذرائع سے بھیجی جا رہی تھیں کیونکہ غیرقانونی گرے مارکیٹ میں ڈالر کی 30 سے 40 روپے زیادہ قیمت کی پیش کش کی جارہی تھی، اس پس منظر میں آئی ایم ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شرح تبادلہ کو اس سطح پر لائیں جو پاک۔افغان سرحد پر ہے۔</p>
<p>شرح تبادلہ سے کیپ ہٹانے سے نہ صرف ڈالر کی افغانستان اسمگلنگ میں کمی آئی بلکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی میں بھی بہتری آئی، جس کے سبب درآمدکنندگان کے لیے سبز کرنسی خریدنے میں آسانی ہوئی۔</p>
<p>گزشتہ ماہ کے آخر میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مارکیٹ اور بینکوں کو زیادہ ترسیلات زر آنے کی امید ظاہر کی گئی تھی کیونکہ عام طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانی خیرات، زکوۃ اور مقدس مہینے میں زیادہ اخرجات کی وجہ سے 15 سے 20 فیصد زیادہ رقم بھیجتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200563</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Apr 2023 13:40:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/10133213e14ca8c.jpg?r=133253" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/10133213e14ca8c.jpg?r=133253"/>
        <media:title>مارچ میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلات زر کی مد میں ڈھائی ارب ڈالر موصول ہوئے—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
