<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 19:12:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 19:12:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کی 2023 میں عالمی شرح نمو 2.8 فیصد تک کم رہنے کی پیش گوئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200657/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے عالمی معیشت کے لیے اپنے آؤٹ لک کو کچھ کم کرتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ معاشی اور جغرافیائی سیاسی خدشات کے باوجود زیادہ تر ممالک رواں سال کساد بازاری سے محفوظ رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی کہ عالمی معیشت رواں برس 2.8 فیصد اور 2024 میں 3 فیصد بڑھے گی ، یہ جنوری میں کی گئی اس کی سابقہ پیش گوئی سے 0.1 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی معیشت میں 2023 کے دوران 1.6 فیصد اضافہ متوقع ہے جو آئی ایم ایف کی سابقہ پیش گوئی سے 0.2 فیصد زیادہ ہے،  اس کے بعد امریکی شرح نمو آئندہ برس 1.1  تک سست ہو جائے گی جو جنوری میں کی گئی پیش گوئی سے 0.1  فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے چیف ماہر معاشیات  نے آئی ایم ایف کی  ورلڈ اکنامک آؤٹ لک (ڈبلیو ای او) ) رپورٹ کی ریلیز سے قبل پریس بریفنگ میں کہا کہ عالمی معیشت گزشتہ چند برسوں کے جھٹکوں خاص طور پر وبائی مرض کووڈ 19، یوکرین پر روسی حملے کے مضر اور منفی اثرات سے نکل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1200620"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی قیادت امید کرتی ہے کہ رواں سال موسم بہار کے اجلاسوں کو مثبت و متحرک اصلاحات اور فنڈ ریزنگ ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ممکنہ طور پر ان کی کوششوں کے راہ میں رکن ممالک میں بلند افراط زر، بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مالیاتی استحکام کے خدشات آڑے آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ای او کی جانب سے پیش کردہ منظر مجموعی طور پر مایوس کن ہے جس میں مختصر اور درمیانی دونوں مدتوں میں عالمی شرح نمو سست رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1200443"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ تقریباً 90 فیصد کے قریب ترقی یافتہ معیشتیں رواں سال سست شرح نمو کا تجربہ کریں گی جب کہ ایشیا کی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں معاشی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے،صرف بھارت اور چین میں ہی مجموعی ترقی کا آدھا ریکارڈ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کم آمدنی والے ممالک کا اس دوران بلند شرح سود کی وجہ سے قرض لینے کے زیادہ اخراجات، ان کی برآمدات کی طلب میں کمی کے باعث دوہری مشکل کا شکار ہونے کا خدشہ ہے اور اس سے ان ممالک میں غربت اور بھوک مزید بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ای او کی پیش گوئی کے مطابق آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ عالمی افراط زر رواں برس 7 فیصد تک کم ہو جائے گا جو کہ گزشتہ سال 8.7 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے عالمی معیشت کے لیے اپنے آؤٹ لک کو کچھ کم کرتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ معاشی اور جغرافیائی سیاسی خدشات کے باوجود زیادہ تر ممالک رواں سال کساد بازاری سے محفوظ رہیں گے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی کہ عالمی معیشت رواں برس 2.8 فیصد اور 2024 میں 3 فیصد بڑھے گی ، یہ جنوری میں کی گئی اس کی سابقہ پیش گوئی سے 0.1 فیصد کم ہے۔</p>
<p>امریکی معیشت میں 2023 کے دوران 1.6 فیصد اضافہ متوقع ہے جو آئی ایم ایف کی سابقہ پیش گوئی سے 0.2 فیصد زیادہ ہے،  اس کے بعد امریکی شرح نمو آئندہ برس 1.1  تک سست ہو جائے گی جو جنوری میں کی گئی پیش گوئی سے 0.1  فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے چیف ماہر معاشیات  نے آئی ایم ایف کی  ورلڈ اکنامک آؤٹ لک (ڈبلیو ای او) ) رپورٹ کی ریلیز سے قبل پریس بریفنگ میں کہا کہ عالمی معیشت گزشتہ چند برسوں کے جھٹکوں خاص طور پر وبائی مرض کووڈ 19، یوکرین پر روسی حملے کے مضر اور منفی اثرات سے نکل رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1200620"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی قیادت امید کرتی ہے کہ رواں سال موسم بہار کے اجلاسوں کو مثبت و متحرک اصلاحات اور فنڈ ریزنگ ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>لیکن ممکنہ طور پر ان کی کوششوں کے راہ میں رکن ممالک میں بلند افراط زر، بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مالیاتی استحکام کے خدشات آڑے آسکتے ہیں۔</p>
<p>ڈبلیو ای او کی جانب سے پیش کردہ منظر مجموعی طور پر مایوس کن ہے جس میں مختصر اور درمیانی دونوں مدتوں میں عالمی شرح نمو سست رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1200443"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ تقریباً 90 فیصد کے قریب ترقی یافتہ معیشتیں رواں سال سست شرح نمو کا تجربہ کریں گی جب کہ ایشیا کی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں معاشی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے،صرف بھارت اور چین میں ہی مجموعی ترقی کا آدھا ریکارڈ کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کم آمدنی والے ممالک کا اس دوران بلند شرح سود کی وجہ سے قرض لینے کے زیادہ اخراجات، ان کی برآمدات کی طلب میں کمی کے باعث دوہری مشکل کا شکار ہونے کا خدشہ ہے اور اس سے ان ممالک میں غربت اور بھوک مزید بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ای او کی پیش گوئی کے مطابق آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ عالمی افراط زر رواں برس 7 فیصد تک کم ہو جائے گا جو کہ گزشتہ سال 8.7 فیصد تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200657</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Apr 2023 21:57:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/1121443654a5e0d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/1121443654a5e0d.jpg"/>
        <media:title>آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی کہ عالمی معیشت رواں برس 2.8 فیصد اور 2024 میں 3 فیصد بڑھے گی—فائل/فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
