<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 18:16:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 18:16:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین، بھارت کی سستی ایل این جی کی اندھا دھند خریداری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200758/</link>
      <description>&lt;p&gt;مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سستی قیمتیں ایشیا میں قیمت کے حوالے سے حساس خریداروں کو واپس اپنی جانب مائل کر رہی ہیں، ایسے میں چین اور بھارت نے مارچ کے دوران اس کی درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1747374/china-india-aggressively-buying-cheaper-spot-lng"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق شمالی ایشیا میں ڈیلیوری کے لیے ایل این جی کی اسپاٹ قیمت 6 اپریل تک کے ہفتے کے دوران 12.50 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس (ایم ایم بی ٹی یو) تھی، جو اس سے گزشتہ ہفتے سے مستحکم تھی اور جون 2021 کے بعد سب سے کم سطح تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل این جی کے نرخ دسمبر کے دوران اس کی شمالی موسم سرما کی عروج کی قیمت 38 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے 67 فیصد گر گئے تھے جبکہ گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں اس کی ریکارڈ بلند ترین 70.50 ڈالر سے بھی 82.3 فیصد کم ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں میں اضافہ اس وقت ہوا تھا جب یوکرین پر روس کے حملے سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کے دوران انتہائی ٹھنڈے ایندھن کی یورپی مانگ میں اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1183598"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجناس کے تجزیہ کار کےپیلر کے مطابق مارچ میں چین کی ایل این جی کی درآمدات کا تخمینہ 55 لاکھ 50 ہزار ٹن ہے، جو فروری کے 49 لاکھ 50 ہزار ٹن اور گزشتہ سال مارچ کے 47 لاکھ 70 ہزار ٹن سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے گزشتہ سال جاپان میں ایل این جی کے دنیا کے سب سے بڑے درآمد کنندہ کی حیثیت کھو دی تھی، اس کی بڑی وجہ قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی اس کی یوٹیلیٹیز اسپاٹ مارکیٹ کا پیچھے ہٹنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت ایل این جی کا ایک اور درآمد کنندہ تھا جو  گزشتہ برس کی ریکارڈ بلند ترین قیمتوں کی وجہ سے پیچھے ہوگیا تھا لیکن قیمتیں دوبارہ جگہ پر اتے ہی مارکیٹ میں واپس آرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کےپیلر کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی مارچ کی درآمدات کا تخمینہ 18 لاکھ 40 ہزار ٹن ہے، جو فروری کے 12 لاکھ 70 ہزار ٹن سے زیادہ ہے، جو جنوری 2017 کے بعد سب سے کم ماہانہ حجم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1182425"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2022 کے بعد سے بھارت کی سب سے زیادہ درآمدات مارچ کی تھیں جو گزشتہ سال مارچ کے 17 لاکھ 70 ہزار ٹن سے بھی تجاوز کر گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر چھوٹے ایشیائی ایل این جی درآمد کنندگان، جیسے پاکستان، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ نے بھی فروری سے مارچ میں زیادہ درآمد ریکارڈ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابل غور بات یہ ہے کہ مارچ میں ایشیا کی ایل این جی کی مجموعی درآمدات بڑی حد تک مستحکم تھیں، جو فروری کے 2 کروڑ 21 لاکھ 80 ہزار ٹن سے تھوڑا بڑھ کر 2 کروڑ 23 لاکھ 50 ہزار ٹن رہیں، لیکن یومیہ کی بنیاد پر کم تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سستی قیمتیں ایشیا میں قیمت کے حوالے سے حساس خریداروں کو واپس اپنی جانب مائل کر رہی ہیں، ایسے میں چین اور بھارت نے مارچ کے دوران اس کی درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1747374/china-india-aggressively-buying-cheaper-spot-lng">رپورٹ</a></strong> کے مطابق شمالی ایشیا میں ڈیلیوری کے لیے ایل این جی کی اسپاٹ قیمت 6 اپریل تک کے ہفتے کے دوران 12.50 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس (ایم ایم بی ٹی یو) تھی، جو اس سے گزشتہ ہفتے سے مستحکم تھی اور جون 2021 کے بعد سب سے کم سطح تھی۔</p>
<p>ایل این جی کے نرخ دسمبر کے دوران اس کی شمالی موسم سرما کی عروج کی قیمت 38 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے 67 فیصد گر گئے تھے جبکہ گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں اس کی ریکارڈ بلند ترین 70.50 ڈالر سے بھی 82.3 فیصد کم ہو گئی ہے۔</p>
<p>قیمتوں میں اضافہ اس وقت ہوا تھا جب یوکرین پر روس کے حملے سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کے دوران انتہائی ٹھنڈے ایندھن کی یورپی مانگ میں اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1183598"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اجناس کے تجزیہ کار کےپیلر کے مطابق مارچ میں چین کی ایل این جی کی درآمدات کا تخمینہ 55 لاکھ 50 ہزار ٹن ہے، جو فروری کے 49 لاکھ 50 ہزار ٹن اور گزشتہ سال مارچ کے 47 لاکھ 70 ہزار ٹن سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>چین نے گزشتہ سال جاپان میں ایل این جی کے دنیا کے سب سے بڑے درآمد کنندہ کی حیثیت کھو دی تھی، اس کی بڑی وجہ قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی اس کی یوٹیلیٹیز اسپاٹ مارکیٹ کا پیچھے ہٹنا تھا۔</p>
<p>بھارت ایل این جی کا ایک اور درآمد کنندہ تھا جو  گزشتہ برس کی ریکارڈ بلند ترین قیمتوں کی وجہ سے پیچھے ہوگیا تھا لیکن قیمتیں دوبارہ جگہ پر اتے ہی مارکیٹ میں واپس آرہا ہے۔</p>
<p>کےپیلر کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی مارچ کی درآمدات کا تخمینہ 18 لاکھ 40 ہزار ٹن ہے، جو فروری کے 12 لاکھ 70 ہزار ٹن سے زیادہ ہے، جو جنوری 2017 کے بعد سب سے کم ماہانہ حجم تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1182425"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جون 2022 کے بعد سے بھارت کی سب سے زیادہ درآمدات مارچ کی تھیں جو گزشتہ سال مارچ کے 17 لاکھ 70 ہزار ٹن سے بھی تجاوز کر گئیں۔</p>
<p>دیگر چھوٹے ایشیائی ایل این جی درآمد کنندگان، جیسے پاکستان، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ نے بھی فروری سے مارچ میں زیادہ درآمد ریکارڈ کی۔</p>
<p>قابل غور بات یہ ہے کہ مارچ میں ایشیا کی ایل این جی کی مجموعی درآمدات بڑی حد تک مستحکم تھیں، جو فروری کے 2 کروڑ 21 لاکھ 80 ہزار ٹن سے تھوڑا بڑھ کر 2 کروڑ 23 لاکھ 50 ہزار ٹن رہیں، لیکن یومیہ کی بنیاد پر کم تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200758</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Apr 2023 11:38:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/131129233d5b685.png?r=113009" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/131129233d5b685.png?r=113009"/>
        <media:title>جون 2022 کے بعد سے بھارت کی سب سے زیادہ درآمدات مارچ کی تھیں—تصویر: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
