<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:39:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:39:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد معیشت کی بحالی کیلئے ’قابل عمل‘ حکمت عملی تیار کر رہی ہے، عمران خان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200779/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وزیراعظم اور پاکستان  تحریک انصاف کے چیئرمین  عمران خان نے کہا ہے کہ اگر  وہ  اقتدار میں آئے تو  ان کی پارٹی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کرکے ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے اور قرض واپس کرنے کے لیے  قابل عمل حکمت عملی تیار کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اشاعتی ادارے ’فنانشل ٹائمز‘  کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے معاشی ماہرین کے ساتھ بیٹھ کر غور کر رہے ہیں کہ کوئی ایسا منصوبہ تیار کیا جائے جس کے ساتھ ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرسکیں اور انہیں اپنا قرض واپس ادا کرنے کے لئے کوئی قابل عمل پلان فراہم کر سکیں اور ساتھ ہی ہماری معیشت بھی چلتی رہے تاکہ ہماری قرض ادا کرنے کی صلاحیت کم نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ  ملک فروری سے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی قسط حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات چیت کر رہا ہے جو کہ 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز وزیر خزانہ کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے لیے آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر جہاد آذر نے اس یقین کا اظہارکیا تھا کہ آئی ایم ایف بورڈ سے منظوری کے بعد پاکستان کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ جلد ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1200730"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ ہم کچھ بھی کرتے ہیں، جب ہم آگے دیکھتے ہیں تو قرض بڑھ رہا ہے، ہماری معیشت آہستہ آہستہ سکڑ رہی ہے، میری پارٹی کے نقطہ نظر میں ہم نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ ہم پھنس گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے میں ناکامی پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے قرض لینے کے تسلسل سے نکلنے کی ضرورت ہے، اس سائیکل نے ترقی پذیر معیشتوں کو روک رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اصلاحات کے بغیر قرض ادائیگی میں حائل مشکلات پر قابو پانے میں جد وجہد کرے گا، انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی پارٹی مزید قرض کے حصول میں ریلیف حاصل کرنے کے بجائے ملکی اصلاحات کو ترجیح دے گی اور اگر ان کی پارٹی اقتدار میں واپس آتی ہے تو ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانشل ٹائمز نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ اقتدار میں آنے کے بعد معیشت کو بحال کرنے کے ان کے منصوبوں میں نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور ٹیکس بیس کو بڑھانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  معیشت کو بحال کرنے اور ملک کو چلانے کی راہ میں حائل مسائل کا حل کیا مزید قرضے حاصل کرنا ہے یا حل ہمارے ملک کو چلانے کے طریقے کی تنظیم نو کرنا ہے ؟  پی ٹی آئی سربراہ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ہمیں ملک کو چلانے کے طریقوں کی سرجری کرنے کی ضرورت ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں، ایک بار جب آپ ڈالر میں قرض لینا شروع کر دیں تو آپ کو اپنا قرض ڈالر میں ہی ادا کرنا پڑتا ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک کی ڈالر آمدنی میں بہتری یا اضافہ نہیں ہو رہا تو وہ اپنا قرض کیسے ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم برآمدات کے ذریعے اپنی ڈالر آمدنی کو نہیں بڑھاتے، میں نہیں سمجھتا کہ ہم پاکستان کا قرض کیسے ادا کر پائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وزیراعظم اور پاکستان  تحریک انصاف کے چیئرمین  عمران خان نے کہا ہے کہ اگر  وہ  اقتدار میں آئے تو  ان کی پارٹی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کرکے ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے اور قرض واپس کرنے کے لیے  قابل عمل حکمت عملی تیار کررہی ہے۔</p>
<p>برطانوی اشاعتی ادارے ’فنانشل ٹائمز‘  کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے معاشی ماہرین کے ساتھ بیٹھ کر غور کر رہے ہیں کہ کوئی ایسا منصوبہ تیار کیا جائے جس کے ساتھ ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرسکیں اور انہیں اپنا قرض واپس ادا کرنے کے لئے کوئی قابل عمل پلان فراہم کر سکیں اور ساتھ ہی ہماری معیشت بھی چلتی رہے تاکہ ہماری قرض ادا کرنے کی صلاحیت کم نہ ہو۔</p>
<p>عمران خان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ  ملک فروری سے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی قسط حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات چیت کر رہا ہے جو کہ 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کا حصہ ہے۔</p>
<p>گزشتہ روز وزیر خزانہ کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے لیے آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر جہاد آذر نے اس یقین کا اظہارکیا تھا کہ آئی ایم ایف بورڈ سے منظوری کے بعد پاکستان کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ جلد ہو جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1200730"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اپنے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ ہم کچھ بھی کرتے ہیں، جب ہم آگے دیکھتے ہیں تو قرض بڑھ رہا ہے، ہماری معیشت آہستہ آہستہ سکڑ رہی ہے، میری پارٹی کے نقطہ نظر میں ہم نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ ہم پھنس گئے ہیں۔</p>
<p>ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے میں ناکامی پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے قرض لینے کے تسلسل سے نکلنے کی ضرورت ہے، اس سائیکل نے ترقی پذیر معیشتوں کو روک رکھا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اصلاحات کے بغیر قرض ادائیگی میں حائل مشکلات پر قابو پانے میں جد وجہد کرے گا، انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی پارٹی مزید قرض کے حصول میں ریلیف حاصل کرنے کے بجائے ملکی اصلاحات کو ترجیح دے گی اور اگر ان کی پارٹی اقتدار میں واپس آتی ہے تو ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔</p>
<p>فنانشل ٹائمز نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ اقتدار میں آنے کے بعد معیشت کو بحال کرنے کے ان کے منصوبوں میں نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور ٹیکس بیس کو بڑھانا شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  معیشت کو بحال کرنے اور ملک کو چلانے کی راہ میں حائل مسائل کا حل کیا مزید قرضے حاصل کرنا ہے یا حل ہمارے ملک کو چلانے کے طریقے کی تنظیم نو کرنا ہے ؟  پی ٹی آئی سربراہ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ہمیں ملک کو چلانے کے طریقوں کی سرجری کرنے کی ضرورت ہے ۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں، ایک بار جب آپ ڈالر میں قرض لینا شروع کر دیں تو آپ کو اپنا قرض ڈالر میں ہی ادا کرنا پڑتا ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک کی ڈالر آمدنی میں بہتری یا اضافہ نہیں ہو رہا تو وہ اپنا قرض کیسے ادا کرے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم برآمدات کے ذریعے اپنی ڈالر آمدنی کو نہیں بڑھاتے، میں نہیں سمجھتا کہ ہم پاکستان کا قرض کیسے ادا کر پائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200779</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Apr 2023 17:54:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/131747520ad635a.jpg?r=175740" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/131747520ad635a.jpg?r=175740"/>
        <media:title>عمران خان نے کہا کہ جب ہم آگے دیکھتے ہیں تو قرض بڑھ رہا ہے، ہماری معیشت آہستہ آہستہ سکڑ رہی ہے—فائل فوٹو:وی او اے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
