<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 15:55:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 15:55:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر کمپنی کا وجود ختم ہوگیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200810/</link>
      <description>&lt;p&gt;معروف سوشل میڈیا کمپنی ٹوئٹر کا وجود ختم ہوگیا ہے کیونکہ ایلون مسک نے ٹوئٹر کو اپنی ایک اور کمپنی ’ایکس ہولڈنگز کارپوریشن‘ میں ضم کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوربز کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/sites/dereksaul/2023/04/11/twitter-inc-no-longer-exists-as-elon-musk-inches-closer-to-x-everything-app-ambitions/?sh=122c8f4c209b"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ٹوئٹر اب ایلون مسک کی ایکس ہولڈنگز کارپوریشن کا حصہ بن گئی ہے،  ایکس کارپوریشن ایک نجی ادارہ ہے اور ایکس ہولڈنگز کارپوریشن اس کی سرپرست کمپنی ہے، جس میں نیورلنک، اسپیس ایکس، ٹیسلا اور دی بورنگ کمپنی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ٹوئٹر کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم برقرار رہے گا تاہم ایکس کارپوریشن میں اس کی شمولیت سپر ایپ کی تشکیل کی جانب پہلا قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال ایلون مسک نے ٹوئٹ کیا تھا کہ وہ ٹوئٹر کو سپر ایپ (ایوری تھنگ ایپ) کے ساتھ منسلک کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/elonmusk/status/1577428272056389633"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب لورا لومر نامی خاتون نے ٹوئٹر کے خلاف کیلیفورنیا کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون کا اکاؤنٹ 2019 میں بند کردیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے ٹوئٹر کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق ٹوئٹر کمپنی کا وجود ختم ہوگیا ہے اب اسے ایکس کارپوریشن کا حصہ بنادیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک اس سے پہلے بھی ٹوئٹر کو چین کی وی چیٹ کی طرح سپر ایپ بنانے کا عندیہ ظاہر کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سپر ایپ کے لیے وہ  ماضی میں ایکس دی ایوری تھنگ ایپ کا نام بھی ایک ٹوئٹ میں استعمال کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی دستاویز سامنے آنے کے بعد ایلون مسک نے ٹوئٹ کیا  جس پر ’ایکس‘ لکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/elonmusk/status/1645684041264529408"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں ایلون مسک کے نے 44 ارب ڈالر کی قیمت پر ٹوئٹر خریدا تھا جس کے بعد ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کردیا گیا اور بند اکاؤنٹس بھی بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی کمپنی کے  80 فیصد ملازمین کو برطرف کرلیا ہے اور آمدنی میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر کو خریدنے کے بعد ایلون مسک نے مفت بلیو ٹک پروگرام کو ختم کرتے ہوئے  اکاؤنٹ کو ویری فائیڈ کرانے سبسکرپشن سروس کا آغاز کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ اب یکم اپریل کے بجائے اب ’20 اپریل تک بلیو ٹک کو ہٹانے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>معروف سوشل میڈیا کمپنی ٹوئٹر کا وجود ختم ہوگیا ہے کیونکہ ایلون مسک نے ٹوئٹر کو اپنی ایک اور کمپنی ’ایکس ہولڈنگز کارپوریشن‘ میں ضم کرلیا ہے۔</p>
<p>فوربز کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/sites/dereksaul/2023/04/11/twitter-inc-no-longer-exists-as-elon-musk-inches-closer-to-x-everything-app-ambitions/?sh=122c8f4c209b">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ٹوئٹر اب ایلون مسک کی ایکس ہولڈنگز کارپوریشن کا حصہ بن گئی ہے،  ایکس کارپوریشن ایک نجی ادارہ ہے اور ایکس ہولڈنگز کارپوریشن اس کی سرپرست کمپنی ہے، جس میں نیورلنک، اسپیس ایکس، ٹیسلا اور دی بورنگ کمپنی شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق ٹوئٹر کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم برقرار رہے گا تاہم ایکس کارپوریشن میں اس کی شمولیت سپر ایپ کی تشکیل کی جانب پہلا قدم ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال ایلون مسک نے ٹوئٹ کیا تھا کہ وہ ٹوئٹر کو سپر ایپ (ایوری تھنگ ایپ) کے ساتھ منسلک کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/elonmusk/status/1577428272056389633"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب لورا لومر نامی خاتون نے ٹوئٹر کے خلاف کیلیفورنیا کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔</p>
<p>خاتون کا اکاؤنٹ 2019 میں بند کردیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے ٹوئٹر کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔</p>
<p>دستاویزات کے مطابق ٹوئٹر کمپنی کا وجود ختم ہوگیا ہے اب اسے ایکس کارپوریشن کا حصہ بنادیا گیا ہے۔</p>
<p>ایلون مسک اس سے پہلے بھی ٹوئٹر کو چین کی وی چیٹ کی طرح سپر ایپ بنانے کا عندیہ ظاہر کر چکے ہیں۔</p>
<p>اس سپر ایپ کے لیے وہ  ماضی میں ایکس دی ایوری تھنگ ایپ کا نام بھی ایک ٹوئٹ میں استعمال کر چکے ہیں۔</p>
<p>عدالتی دستاویز سامنے آنے کے بعد ایلون مسک نے ٹوئٹ کیا  جس پر ’ایکس‘ لکھا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/elonmusk/status/1645684041264529408"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں ایلون مسک کے نے 44 ارب ڈالر کی قیمت پر ٹوئٹر خریدا تھا جس کے بعد ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کردیا گیا اور بند اکاؤنٹس بھی بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بھی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے اپنی کمپنی کے  80 فیصد ملازمین کو برطرف کرلیا ہے اور آمدنی میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔</p>
<p>ٹوئٹر کو خریدنے کے بعد ایلون مسک نے مفت بلیو ٹک پروگرام کو ختم کرتے ہوئے  اکاؤنٹ کو ویری فائیڈ کرانے سبسکرپشن سروس کا آغاز کیا تھا۔</p>
<p>ایلون مسک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ اب یکم اپریل کے بجائے اب ’20 اپریل تک بلیو ٹک کو ہٹانے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200810</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Apr 2023 11:13:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/14090037bf696e8.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/14090037bf696e8.gif"/>
        <media:title>فوٹو: دی ایج
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
