<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:06:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:06:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کابل کے ساتھ معاملات کیلئے ’صبر، باہمی تعاون‘ کی ضرورت ہے، حنا کھر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200820/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری کو افغانستان کو چھوڑ دینے کے خلاف خبردار کیا، جو اس وقت انسانی بحران کا شکار ہے اور اسے اپنی بقا کے لیے فوری امداد کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1747588/patience-reciprocity-needed-in-dealing-with-kabul-khar"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ثمرقند میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے ’صبر‘ اور ’باہمی تعاون‘ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو عبوری افغان حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں لچکدار ہونے کی ضرورت ہے اور اس عمل کی مناسب طور پر حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ انسانی امداد کو کسی بھی سیاسی تحفظات سے الگ رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1184340"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کابل کے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کو معطل کرنے اور خواتین عملے کو قومی اور بین الاقوامی این جی اوز کے لیے کام کرنے سے روکنے کے فیصلے کا ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عبوری افغان حکومت کی کچھ پالیسیوں اور اقدامات نے رابطوں کے لیے کوئی ترغیب فراہم نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ لوگ عبوری افغان حکومت کے ساتھ رابطہ رکھنے کی افادیت پر سوال اٹھا رہے ہیں انہوں نے ان طریقوں کو ’غلط جگہ‘ پر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1646504298434506752"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری اس وقت خود کو افغانستان کے ساتھ تعطل کا شکار پاتی ہے، پوری نہ ہونے والی توقعات کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں سنگین انسانی بحران کو روکنے، معاشی بدحالی کو روکنے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے درکار اہم حمایت کو روک دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’ہم افغان عوام سے بات کیے بغیر ان کی بات نہیں کر سکتے، عبوری افغان حکومت کے ساتھ تعمیری روابط ضروری ہیں ، دوستوں اور پڑوسیوں کی حیثیت سے ہمارے پاس افغانستان سے علیحدگی اختیار کرنے کی آسائش نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ رابطے بہت لمبے عرصے سے ایک خواب بنے ہوئے ہیں،  حنا ربانی کھر نے اس ’تعطل‘ کو علاقائی امن اور خوشحالی کے راستے میں تبدیل کرنے کی وکالت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت نے کہا کہ کیا کہ سی اے ایس اے-1000 ٹرانس افغان ریلویز، تاپی اور دیگر جیسے کنیکٹیویٹی منصوبے محض اقتصادی منصوبے نہیں تھے، وہ مشترکہ مستقبل کے لیے اسٹریٹجک سرمایہ کاری تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس کے موقع پر حنا ربانی کھر نے چین، روس اور ایران کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری کو افغانستان کو چھوڑ دینے کے خلاف خبردار کیا، جو اس وقت انسانی بحران کا شکار ہے اور اسے اپنی بقا کے لیے فوری امداد کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1747588/patience-reciprocity-needed-in-dealing-with-kabul-khar">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ثمرقند میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے ’صبر‘ اور ’باہمی تعاون‘ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو عبوری افغان حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں لچکدار ہونے کی ضرورت ہے اور اس عمل کی مناسب طور پر حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ انسانی امداد کو کسی بھی سیاسی تحفظات سے الگ رہنا چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1184340"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کابل کے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کو معطل کرنے اور خواتین عملے کو قومی اور بین الاقوامی این جی اوز کے لیے کام کرنے سے روکنے کے فیصلے کا ذکر کیا۔</p>
<p>وزیر مملکت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عبوری افغان حکومت کی کچھ پالیسیوں اور اقدامات نے رابطوں کے لیے کوئی ترغیب فراہم نہیں کی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ لوگ عبوری افغان حکومت کے ساتھ رابطہ رکھنے کی افادیت پر سوال اٹھا رہے ہیں انہوں نے ان طریقوں کو ’غلط جگہ‘ پر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1646504298434506752"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری اس وقت خود کو افغانستان کے ساتھ تعطل کا شکار پاتی ہے، پوری نہ ہونے والی توقعات کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں سنگین انسانی بحران کو روکنے، معاشی بدحالی کو روکنے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے درکار اہم حمایت کو روک دیا گیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’ہم افغان عوام سے بات کیے بغیر ان کی بات نہیں کر سکتے، عبوری افغان حکومت کے ساتھ تعمیری روابط ضروری ہیں ، دوستوں اور پڑوسیوں کی حیثیت سے ہمارے پاس افغانستان سے علیحدگی اختیار کرنے کی آسائش نہیں ہے‘۔</p>
<p>یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ رابطے بہت لمبے عرصے سے ایک خواب بنے ہوئے ہیں،  حنا ربانی کھر نے اس ’تعطل‘ کو علاقائی امن اور خوشحالی کے راستے میں تبدیل کرنے کی وکالت کی۔</p>
<p>وزیر مملکت نے کہا کہ کیا کہ سی اے ایس اے-1000 ٹرانس افغان ریلویز، تاپی اور دیگر جیسے کنیکٹیویٹی منصوبے محض اقتصادی منصوبے نہیں تھے، وہ مشترکہ مستقبل کے لیے اسٹریٹجک سرمایہ کاری تھے۔</p>
<p>کانفرنس کے موقع پر حنا ربانی کھر نے چین، روس اور ایران کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200820</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Apr 2023 10:38:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/141039334962a0e.jpg?r=104409" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/141039334962a0e.jpg?r=104409"/>
        <media:title>کانفرنس کے موقع پر محترمہ کھر نے چین، روس اور ایران کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی— فائل فوٹو: وزارت خارجہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
