<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:28:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:28:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملیریا سے تحفظ کی دوسری ویکسین کے استعمال کی منظوری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200843/</link>
      <description>&lt;p&gt;افریقی ملک گھانا نے ملیریا سے تحفظ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی، حالانکہ مذکورہ ویکسین کی آزمائش کے حتمی نتائج کا تاحال اعلان ہی نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/malaria-vaccine-ghana-malaria-07ca79be0da3b406b89ede08454bb48b"&gt;&lt;strong&gt;اے پی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;) کے مطابق افریقی ملک گھانا کی وزارت صحت نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے بچوں کے لیے بنائی گئی ملیریا سے تحفظ کی خصوصی ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویکسین کی آزمائش کے آخری اور چوتھے مرحلے کے نتائج تاحال جاری نہیں کیے گئے، تاہم اس کے پہلے نتائج سے ثابت ہوا تھا کہ ویکسین بیماری پر 80 فیصد اثر دکھاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194462"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کو خصوصی طور پر کم سن اور کم عمر بچوں کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کی آزمائش گھانا، برکینا فاس اور کینیا سمیت دیگر افریقی ممالک میں کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویکسین کی آزمائش کے پہلے تینوں مراحل کے نتائج حوصلہ کن آئے تھے، جن سے معلوم ہوا تھا کہ ویکسین کے بعد بچے 80 فیصد ملیریا سے محفوط بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویکسین کی حتمی آزمائش اپنے آخری مراحل میں ہے، جس کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے اس کے استعمال کی منظوری لے گی، تاہم اس سے قبل ہی گھانا کی وزارت صحت نے ویکسین کو محفوظ قرار دے کر اس کے استعمال کی مںظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویکسین ملیریا سے تحفظ کی اب تک کی دوسری جب کہ بچوں کے لیے پہلی ویکسین ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 2021 میں برطانوی دوا ساز کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس کے) کی ویکسین کو عالمی ادارہ صحت نے استعمال کے لیے منظور کیا تھا جب کہ دوسری دوا ساز کمپنی بائیو این ٹیک کی ملیریا ویکسین کی آزمائش بھی گزشتہ برس شروع کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائیو این ٹیک کی ویکسین کے ساتھ ہی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کی آزمائش بھی شروع کی گئی تھی، جس کی آزمائش کا آخری مرحلہ مکمل ہونے سے قبل ہی گھانا نے اس کے استعمال کی مںظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویکسین 5 سے 36 ماہ کے بچوں کے لیے بنائی گئی ہے اور اس کے اب تک کے نتائج کے مطابق ویکسین 80 فیصد تک بیماری سے محفوظ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افریقی ملک گھانا نے ملیریا سے تحفظ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی، حالانکہ مذکورہ ویکسین کی آزمائش کے حتمی نتائج کا تاحال اعلان ہی نہیں کیا گیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/malaria-vaccine-ghana-malaria-07ca79be0da3b406b89ede08454bb48b"><strong>اے پی</strong></a>) کے مطابق افریقی ملک گھانا کی وزارت صحت نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے بچوں کے لیے بنائی گئی ملیریا سے تحفظ کی خصوصی ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی۔</p>
<p>مذکورہ ویکسین کی آزمائش کے آخری اور چوتھے مرحلے کے نتائج تاحال جاری نہیں کیے گئے، تاہم اس کے پہلے نتائج سے ثابت ہوا تھا کہ ویکسین بیماری پر 80 فیصد اثر دکھاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194462"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کو خصوصی طور پر کم سن اور کم عمر بچوں کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کی آزمائش گھانا، برکینا فاس اور کینیا سمیت دیگر افریقی ممالک میں کی گئی تھی۔</p>
<p>ویکسین کی آزمائش کے پہلے تینوں مراحل کے نتائج حوصلہ کن آئے تھے، جن سے معلوم ہوا تھا کہ ویکسین کے بعد بچے 80 فیصد ملیریا سے محفوط بن جاتے ہیں۔</p>
<p>مذکورہ ویکسین کی حتمی آزمائش اپنے آخری مراحل میں ہے، جس کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے اس کے استعمال کی منظوری لے گی، تاہم اس سے قبل ہی گھانا کی وزارت صحت نے ویکسین کو محفوظ قرار دے کر اس کے استعمال کی مںظوری دے دی۔</p>
<p>مذکورہ ویکسین ملیریا سے تحفظ کی اب تک کی دوسری جب کہ بچوں کے لیے پہلی ویکسین ہوگی۔</p>
<p>اس سے قبل 2021 میں برطانوی دوا ساز کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس کے) کی ویکسین کو عالمی ادارہ صحت نے استعمال کے لیے منظور کیا تھا جب کہ دوسری دوا ساز کمپنی بائیو این ٹیک کی ملیریا ویکسین کی آزمائش بھی گزشتہ برس شروع کی گئی تھی۔</p>
<p>بائیو این ٹیک کی ویکسین کے ساتھ ہی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کی آزمائش بھی شروع کی گئی تھی، جس کی آزمائش کا آخری مرحلہ مکمل ہونے سے قبل ہی گھانا نے اس کے استعمال کی مںظوری دے دی۔</p>
<p>مذکورہ ویکسین 5 سے 36 ماہ کے بچوں کے لیے بنائی گئی ہے اور اس کے اب تک کے نتائج کے مطابق ویکسین 80 فیصد تک بیماری سے محفوظ رکھتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200843</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Apr 2023 18:28:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/141550047b9b192.jpg?r=155039" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/141550047b9b192.jpg?r=155039"/>
        <media:title>—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
