<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:24:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:24:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ بینک کا ٹیکس نظام کو آسان بنانے پر زور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201018/</link>
      <description>&lt;p&gt;ورلڈ بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں شرائط کو آسان بنانے، خامیوں کو دور کرنے اور ٹیکس کے بوجھ کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے نظر ثانی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1748072/wb-calls-for-simpler-tax-regime"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ’ایک جدید اور مؤثر ٹیکس نظام کو فعال بنانا‘ کے عنوان سے شائع کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران اس حوالے سے متعدد حکمت عملیوں اور اعلانات کے باوجود مطلوبہ نتائج تاحال حاصل نہیں کیے جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ٹیکس نظام کو ازسرنو ترتیب دینے کے بجائے ایک مخصوص حکمت عملی وضع کرنا زیادہ امید افزا ہو سکتا ہے جس میں معاوضے کے طریقہ کار، اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور ٹیکس دہندگان کی خدمات میں مسلسل سرمایہ کاری جیسی اصلاحات شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک نے تجویز دی کہ ان اصلاحات کا طویل مدتی مقصد چھوٹی فرموں کے لیے ایک سادہ نظام بنانا ہے، یہ ذاتی انکم ٹیکس کا ایک ایسا نظام ہو جس میں صرف ذریعہ آمدنی پر ٹیکس لگانے پر توجہ مرکوز کی جائے اور یہ ایک غیر تحریف آمیز جامع سیلز ٹیکس کا نظام ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194702"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی رپورٹ میں ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے روڈ میپ کا خاکہ بھی پیش کیا گیا جس سیلز ٹیکس میں اصلاحات کے لیے ریٹ اسٹرکچر کو یکجا کرنے اور مقامی طور پر فروخت ہونے والی مصنوعات پر زیرو ریٹنگ کو ختم کرنے کو اولین ترجیح دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سیلز ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے میں تمام صنعتوں کے لیے رجسٹریشن کی حد کو برابر کرنا شامل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ورلڈ بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں شرائط کو آسان بنانے، خامیوں کو دور کرنے اور ٹیکس کے بوجھ کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے نظر ثانی کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1748072/wb-calls-for-simpler-tax-regime"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ’ایک جدید اور مؤثر ٹیکس نظام کو فعال بنانا‘ کے عنوان سے شائع کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران اس حوالے سے متعدد حکمت عملیوں اور اعلانات کے باوجود مطلوبہ نتائج تاحال حاصل نہیں کیے جاسکے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ٹیکس نظام کو ازسرنو ترتیب دینے کے بجائے ایک مخصوص حکمت عملی وضع کرنا زیادہ امید افزا ہو سکتا ہے جس میں معاوضے کے طریقہ کار، اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور ٹیکس دہندگان کی خدمات میں مسلسل سرمایہ کاری جیسی اصلاحات شامل ہوں۔</p>
<p>ورلڈ بینک نے تجویز دی کہ ان اصلاحات کا طویل مدتی مقصد چھوٹی فرموں کے لیے ایک سادہ نظام بنانا ہے، یہ ذاتی انکم ٹیکس کا ایک ایسا نظام ہو جس میں صرف ذریعہ آمدنی پر ٹیکس لگانے پر توجہ مرکوز کی جائے اور یہ ایک غیر تحریف آمیز جامع سیلز ٹیکس کا نظام ہونا چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194702"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ورلڈ بینک کی رپورٹ میں ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے روڈ میپ کا خاکہ بھی پیش کیا گیا جس سیلز ٹیکس میں اصلاحات کے لیے ریٹ اسٹرکچر کو یکجا کرنے اور مقامی طور پر فروخت ہونے والی مصنوعات پر زیرو ریٹنگ کو ختم کرنے کو اولین ترجیح دی گئی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سیلز ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے میں تمام صنعتوں کے لیے رجسٹریشن کی حد کو برابر کرنا شامل ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201018</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Apr 2023 11:32:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/1711251998cddb1.jpg?r=112955" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/1711251998cddb1.jpg?r=112955"/>
        <media:title>ورلڈ بینک کی رپورٹ میں ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے روڈ میپ کا خاکہ بھی پیش کیا گیا —فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
