<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:55:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:55:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’اسمارٹ فون ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو کمزور کر رہا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201025/</link>
      <description>&lt;p&gt;موبائل فون ہماری زندگی کا ایک ایسا اہم حصہ بن چکا ہے کہ اگر کچھ وقت کے لیے ہمارے ہاتھ میں اسمارٹ فون نہ ہو تو اسے دیوانوں کی طرح ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر کا بل ادا کرنا ہو یا موسم کی صورتحال معلوم کرنی ہو، کسی کے گھر کا راستہ معلوم کرنا ہو یا کسی کو گھر پر دعوت دینی ہو، یہی نہیں بلکہ ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے ہم موبائل فون کا استعمال ضروری سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں سے اپنے تعلقات قائم رکھنے کے لیے موبائل فون کی مختلف ایپس استعمال کرتے ہیں، مزید یہ کہ کورونا کی وبا کے بعد سے ہماری زندگی اور ٹیکنالوجی کے درمیان تعلق بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کمپنی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.brusselstimes.com/232851/people-touch-their-smartphone-over-2600-times-a-day-research-shows"&gt;تحقیق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق انسان اپنے اسمارٹ فون کو ایک دن میں اوسطاً  2 ہزار 617 بار اٹھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20230403-how-cellphones-have-changed-our-brains"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق موبائل فون جتنے زیادہ کارآمد ہوتے جائیں گے اتنا زیادہ ہم اس کا استعمال کریں گے، اور جتنا زیادہ ہم اسمارٹ فون استعمال کریں گے ہمارے اندر موبائل فون کو اٹھانے اور استعمال کرنے کی عادت بڑھتی جائے گی چاہے ہمیں ضرورت ہو یا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حالیہ تحقیق کے مطابق محققین نے کچھ لوگوں کو موبائل فون کمرے سے باہر رکھنے کی ہدایت کی اور پھر انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے کچھ سوالات حل کیے اور معلومات یاد کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جب موبائل فون ان سے دور تھے تو کام کے دوران معلومات کی یاد دہانی، سوال حل کرنے پر توجہ مرکوز سمیت دیگر کاموں میں کارکردگی بہتر نظر آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گارڈین اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/global/2022/jul/03/is-your-smartphone-ruining-your-memory-the-rise-of-digital-amenesia"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی کی نیورو سائنسدان باربرا سہاکیان کا کہنا ہے کہ ’2010 میں لوگوں کے تین مختلف گروپس کے ساتھ ایک تجربہ کیا گیا جس میں انہیں ایک کتاب کے صفحے پڑھنے کا کام سونپا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/171356227f3a961.png'  alt='فوٹو: گارڈین' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: گارڈین&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ گروپ اے نے  پڑھنے سے پہلے اور گروپ بی کو پڑھنے کے دوران موبائل فون پر پیغامات موصول ہوئے جبکہ گروپ سی کو موبائل فون پر کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوا کہ گروپ سی کے مقابلے میں جن لوگوں کو پیغامات موصول ہوئے انہوں نے کتاب میں کیا پڑھا انہیں کچھ یاد نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی امور اور ٹیکنالوجی کے ماہر، ایلکس ڈنیڈن کہتے ہیں کہ اسمارٹ فون کا رواج اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ ہمیں اس کی لت پڑ گئی ہے، اسمارٹ فون ’ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو کمزور کر رہے ہیں اور ہمارے کام کاج کی صلاحیت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>موبائل فون ہماری زندگی کا ایک ایسا اہم حصہ بن چکا ہے کہ اگر کچھ وقت کے لیے ہمارے ہاتھ میں اسمارٹ فون نہ ہو تو اسے دیوانوں کی طرح ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں۔</p>
<p>گھر کا بل ادا کرنا ہو یا موسم کی صورتحال معلوم کرنی ہو، کسی کے گھر کا راستہ معلوم کرنا ہو یا کسی کو گھر پر دعوت دینی ہو، یہی نہیں بلکہ ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے ہم موبائل فون کا استعمال ضروری سمجھتے ہیں۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں سے اپنے تعلقات قائم رکھنے کے لیے موبائل فون کی مختلف ایپس استعمال کرتے ہیں، مزید یہ کہ کورونا کی وبا کے بعد سے ہماری زندگی اور ٹیکنالوجی کے درمیان تعلق بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>امریکی کمپنی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.brusselstimes.com/232851/people-touch-their-smartphone-over-2600-times-a-day-research-shows">تحقیق</a></strong> کے مطابق انسان اپنے اسمارٹ فون کو ایک دن میں اوسطاً  2 ہزار 617 بار اٹھاتا ہے۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20230403-how-cellphones-have-changed-our-brains">رپورٹ</a></strong> کے مطابق موبائل فون جتنے زیادہ کارآمد ہوتے جائیں گے اتنا زیادہ ہم اس کا استعمال کریں گے، اور جتنا زیادہ ہم اسمارٹ فون استعمال کریں گے ہمارے اندر موبائل فون کو اٹھانے اور استعمال کرنے کی عادت بڑھتی جائے گی چاہے ہمیں ضرورت ہو یا نہ ہو۔</p>
<p>ایک حالیہ تحقیق کے مطابق محققین نے کچھ لوگوں کو موبائل فون کمرے سے باہر رکھنے کی ہدایت کی اور پھر انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے کچھ سوالات حل کیے اور معلومات یاد کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔</p>
<p>تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جب موبائل فون ان سے دور تھے تو کام کے دوران معلومات کی یاد دہانی، سوال حل کرنے پر توجہ مرکوز سمیت دیگر کاموں میں کارکردگی بہتر نظر آئی۔</p>
<p>گارڈین اخبار کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/global/2022/jul/03/is-your-smartphone-ruining-your-memory-the-rise-of-digital-amenesia">رپورٹ</a></strong> کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی کی نیورو سائنسدان باربرا سہاکیان کا کہنا ہے کہ ’2010 میں لوگوں کے تین مختلف گروپس کے ساتھ ایک تجربہ کیا گیا جس میں انہیں ایک کتاب کے صفحے پڑھنے کا کام سونپا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/171356227f3a961.png'  alt='فوٹو: گارڈین' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: گارڈین</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ گروپ اے نے  پڑھنے سے پہلے اور گروپ بی کو پڑھنے کے دوران موبائل فون پر پیغامات موصول ہوئے جبکہ گروپ سی کو موبائل فون پر کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوا کہ گروپ سی کے مقابلے میں جن لوگوں کو پیغامات موصول ہوئے انہوں نے کتاب میں کیا پڑھا انہیں کچھ یاد نہیں تھا۔</p>
<p>تعلیمی امور اور ٹیکنالوجی کے ماہر، ایلکس ڈنیڈن کہتے ہیں کہ اسمارٹ فون کا رواج اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ ہمیں اس کی لت پڑ گئی ہے، اسمارٹ فون ’ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو کمزور کر رہے ہیں اور ہمارے کام کاج کی صلاحیت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201025</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Apr 2023 14:18:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/171357474e149e4.png?r=135801" type="image/png" medium="image" height="535" width="952">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/171357474e149e4.png?r=135801"/>
        <media:title>فوٹو: منی ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
