<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 18:55:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 18:55:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واجبات کی عدم ادائیگی پر تھر میں کوئلے کی کان کے چینی آپریٹر نے پیداوار نصف کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201140/</link>
      <description>&lt;p&gt;تھر میں کان کنی کرنے والے چینی آپریٹر نے مبینہ طور پر 6 کروڑ ڈالر کے واجبات کی عدم ادائیگی پر اپنی پیداوار کم کر کے نصف کردی ہے، جس سے کوئلے سے چلنے والے ایک ہزار 360 میگا واٹس کے بجلی گھر چلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1748450/chinese-mine-operator-in-thar-halves-production"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن (سی ایم ای سی) تھر کول فیلڈ کے بلاک-2 میں ایک اوپن پٹ لگنائٹ کان کے آپریٹر کے طور پر سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے ساتھ ایک آف شور معاہدے کے تحت کام کرتی ہے، اس نے اینگرو کو باضابطہ طور آپریشن محدود کرنے کے بارے میں مطلع کردیا ہے جس کے نتیجے میں ایک ماہ کے اندر کان کنی مکمل طور پر رک سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ چینی کنٹریکٹر کو مئی 2022 سے کوئی ادائیگی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی ایم سی کو حکومت سندھ کی حمایت حاصل ہےاور وہ بلاک-2 کے دوسرے مرحلے کے لیے آپریشن اور مینٹیننس (او اینڈ ایم) کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن (ای پی سی) کے تحت چینی کنٹریکٹر کو ڈالر میں ادائیگیوں کی مقروض ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1044246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی ایم سی کی سینئر انتظامیہ نے مالیاتی حکام کے اعلیٰ سطح پر اس مسئلے کو اٹھایا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ زرمبادلہ کی کمی کے پیش نظر ادائیگی پر دستخط کرنے سے گریزاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ڈالر کی شدید قلت کا سامنا ہے کیونکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ قرض پروگرام بدستور تعطل کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً حکومت نے لیکویڈیٹی بحران سے بچنے کے لیے اسٹاپ گیپ (فرق کو روکنے کے) اقدام کے طور پر ڈالر کے اخراج پر رسمی اور غیر رسمی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مسئلے سے واقف ایک شخص نے کہا کہ اینگرو کے پاس لیکویڈیٹی کی کوئی کمی نہیں، اس کے پاس بھرپور نقد موجود ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وزارت خزانہ اور مرکزی بینک اسے غیر ملکی کانٹریکٹر کو آگے کی ادائیگی کے لیے مقامی کرنسی کو ڈالر میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے رہے’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1088013"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعلقہ کمپنیوں سے ہوئی مفاہمت کے مطابق جس میں اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ کے پاس مادی سرمایہ کاری ہے کمپنی نے 2022 میں 8 ارب 47 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے نقدی اور دیگر اثاثوں پر موجودہ اثاثے جنہیں ایک سال کے اندر نقد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، سال 2022 کے آخر میں ایک کھرب 4 ارب 40 کروڑ روپے تھے جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نےکہاکہ انہی 1,360 میگاواٹ پاور پلانٹس کو درآمد شدہ کوئلے پر چلانے سے ایندھن کا بل ایک ماہ کے اندر 6 کروڑ ڈالر کے بقایا واجبات سے تجاوز کر جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ ہے کہ تھر کا کوئلہ مقامی پاور پلانٹس کو نمایاں رعایت پر دستیاب ہے اور اس کی قیمت عالمی منڈی کے مطابق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیسی کوئلے کی قیمت موجودہ دوسرے مرحلے میں تقریباً 42 ڈالر فی ٹن ہے جبکہ بین الاقوامی نرخ تقریباً 135 ڈالر ہے، جب تیسرا مرحلہ اپریل 2024 تک مکمل ہو جائے گا تو تھر کے کوئلے کی قیمت مزید کم ہو کر 27 ڈالر فی ٹن رہ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1099777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینگرو کارپوریشن کو ایک حالیہ خط میں چینی کمپنی کے نمائندے ژاؤ وینکے نے کہا کہ چینی کمپنی کا کیش فلو ’خراب حالت‘ میں ہے کیونکہ 6 کروڑ ڈالر کے واجبات کسی بھی ٹھیکیدار کے لیے بہت بڑی رقم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا کہ ہم شدید مالیاتی  فقدان کا شکار ہیں، ہمیں موصول ہونے والی ادائیگی پر مشکل سے کام جاری رہ سکتا ہے جبکہ ہمارے ذیلی ٹھیکیداروں اور سپلائرز وغیرہ کی ادائیگی کا ذکر نہیں کیا جارہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی کانٹریکٹرز نے پاکستانی کمپنی کو بھی خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے واجبات کے نتیجے میں فیز 3کے لیے کان کی توسیع میں ’نمایاں طور پر‘ رکاوٹ پیدا ہو گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پاور پلانٹس کو تھر کے کوئلے کی بجائے درآمدی کوئلہ استعمال کرنا پڑے گا’۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تھر میں کان کنی کرنے والے چینی آپریٹر نے مبینہ طور پر 6 کروڑ ڈالر کے واجبات کی عدم ادائیگی پر اپنی پیداوار کم کر کے نصف کردی ہے، جس سے کوئلے سے چلنے والے ایک ہزار 360 میگا واٹس کے بجلی گھر چلتے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1748450/chinese-mine-operator-in-thar-halves-production">رپورٹ</a></strong> کے مطابق چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن (سی ایم ای سی) تھر کول فیلڈ کے بلاک-2 میں ایک اوپن پٹ لگنائٹ کان کے آپریٹر کے طور پر سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے ساتھ ایک آف شور معاہدے کے تحت کام کرتی ہے، اس نے اینگرو کو باضابطہ طور آپریشن محدود کرنے کے بارے میں مطلع کردیا ہے جس کے نتیجے میں ایک ماہ کے اندر کان کنی مکمل طور پر رک سکتی ہے۔</p>
<p>ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ چینی کنٹریکٹر کو مئی 2022 سے کوئی ادائیگی نہیں ہوئی۔</p>
<p>ایس ای سی ایم سی کو حکومت سندھ کی حمایت حاصل ہےاور وہ بلاک-2 کے دوسرے مرحلے کے لیے آپریشن اور مینٹیننس (او اینڈ ایم) کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن (ای پی سی) کے تحت چینی کنٹریکٹر کو ڈالر میں ادائیگیوں کی مقروض ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1044246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایس ای سی ایم سی کی سینئر انتظامیہ نے مالیاتی حکام کے اعلیٰ سطح پر اس مسئلے کو اٹھایا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ زرمبادلہ کی کمی کے پیش نظر ادائیگی پر دستخط کرنے سے گریزاں ہیں۔</p>
<p>پاکستان کو ڈالر کی شدید قلت کا سامنا ہے کیونکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ قرض پروگرام بدستور تعطل کا شکار ہے۔</p>
<p>نتیجتاً حکومت نے لیکویڈیٹی بحران سے بچنے کے لیے اسٹاپ گیپ (فرق کو روکنے کے) اقدام کے طور پر ڈالر کے اخراج پر رسمی اور غیر رسمی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔</p>
<p>اس مسئلے سے واقف ایک شخص نے کہا کہ اینگرو کے پاس لیکویڈیٹی کی کوئی کمی نہیں، اس کے پاس بھرپور نقد موجود ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وزارت خزانہ اور مرکزی بینک اسے غیر ملکی کانٹریکٹر کو آگے کی ادائیگی کے لیے مقامی کرنسی کو ڈالر میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے رہے’۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1088013"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>متعلقہ کمپنیوں سے ہوئی مفاہمت کے مطابق جس میں اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ کے پاس مادی سرمایہ کاری ہے کمپنی نے 2022 میں 8 ارب 47 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا۔</p>
<p>کمپنی کے نقدی اور دیگر اثاثوں پر موجودہ اثاثے جنہیں ایک سال کے اندر نقد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، سال 2022 کے آخر میں ایک کھرب 4 ارب 40 کروڑ روپے تھے جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ذرائع نےکہاکہ انہی 1,360 میگاواٹ پاور پلانٹس کو درآمد شدہ کوئلے پر چلانے سے ایندھن کا بل ایک ماہ کے اندر 6 کروڑ ڈالر کے بقایا واجبات سے تجاوز کر جائے گا۔</p>
<p>اس کی وجہ یہ ہے کہ تھر کا کوئلہ مقامی پاور پلانٹس کو نمایاں رعایت پر دستیاب ہے اور اس کی قیمت عالمی منڈی کے مطابق نہیں ہے۔</p>
<p>دیسی کوئلے کی قیمت موجودہ دوسرے مرحلے میں تقریباً 42 ڈالر فی ٹن ہے جبکہ بین الاقوامی نرخ تقریباً 135 ڈالر ہے، جب تیسرا مرحلہ اپریل 2024 تک مکمل ہو جائے گا تو تھر کے کوئلے کی قیمت مزید کم ہو کر 27 ڈالر فی ٹن رہ جائے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1099777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اینگرو کارپوریشن کو ایک حالیہ خط میں چینی کمپنی کے نمائندے ژاؤ وینکے نے کہا کہ چینی کمپنی کا کیش فلو ’خراب حالت‘ میں ہے کیونکہ 6 کروڑ ڈالر کے واجبات کسی بھی ٹھیکیدار کے لیے بہت بڑی رقم ہے۔</p>
<p>خط میں کہا گیا کہ ہم شدید مالیاتی  فقدان کا شکار ہیں، ہمیں موصول ہونے والی ادائیگی پر مشکل سے کام جاری رہ سکتا ہے جبکہ ہمارے ذیلی ٹھیکیداروں اور سپلائرز وغیرہ کی ادائیگی کا ذکر نہیں کیا جارہا۔</p>
<p>چینی کانٹریکٹرز نے پاکستانی کمپنی کو بھی خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے واجبات کے نتیجے میں فیز 3کے لیے کان کی توسیع میں ’نمایاں طور پر‘ رکاوٹ پیدا ہو گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پاور پلانٹس کو تھر کے کوئلے کی بجائے درآمدی کوئلہ استعمال کرنا پڑے گا’۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201140</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Apr 2023 10:01:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/19085939b99d1c2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/19085939b99d1c2.jpg"/>
        <media:title>چینی کانٹریکٹر نے ایک خط میں کہا کہ  ہمیں موصول ہونے والی ادائیگی پر مشکل سے کام جاری رہ سکتا ہے— فائل فوٹو: امتیاز دھارانی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
