<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:17:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:17:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کی آبادی رواں برس چین سے 29 لاکھ زیادہ ہونے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201160/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت دنیا کا سب سے بڑا آبادی والا ملک بننے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کی رواں برس کے وسط تک چین سے 29 لاکھ زیادہ  آبادی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کی عالمی آبادی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کی آبادی کا تخمینہ ایک ارب 42 کروڑ 86 لاکھ افراد لگایا گیا ہے جبکہ چین کی آبادی ایک ارب 42 کروڑ 57 لاکھ رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا بڑے فرق کے ساتھ تیسرا بڑا آبادی والا ملک ہوگا، جس کی آبادی فروری 2023 تک دستیاب معلومات کے مطابق  34 کروڑ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے سابقہ اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے آبادی کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ بھارت اس ماہ چین سے آگے نکل جائے گا لیکن تازہ رپورٹ میں اس کی تاریخ کے حوالے سے نہیں بتایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1648602879782170627"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے آبادی کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ بھارت اور چین سے آنے والے اعداد و شمار کے بارے میں ’غیر یقینی صورتحال‘ کی وجہ سے تاریخ بتانا ممکن نہیں ہے، خاص طور پر بھارت میں آخری مردم شماری 2011 میں ہوئی تھی اور 2021 میں ہونے والی اگلی  مردم شماری عالمی وبا کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بھارت اور چین کا 8 ارب ساڑھے چار کروڑ کی عالمی آبادی  میں ایک تہائی سے زیادہ حصہ ہے لیکن دونوں ایشیائی ممالک میں آبادی بڑھنے کی رفتار میں کمی ہورہی ہے تاہم چین میں زیادہ کمی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی آبادی میں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1195613/"&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ 6 دہائیوں میں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پہلی بار کم ہوئی، سال 2022 کے اختتام تک چین کی آبادی ایک ارب 40 کروڑ سے زائد ریکارڈ کی گئی جو کہ 2021 کے مقابلے میں ساڑھے 8 لاکھ کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد وشمار کے مطابق بھارت کی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح 2011 سے اوسطاً 1.2 فیصد رہی ہے، جو اس سے قبل گزشتہ 10 سال میں 1.7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں یو این ایف پی اے کے نمائندے اینڈریا وجنار نے بتایا کہ بھارت میں سروے کے نتیجے سے ظاہر ہوا ہے کہ آبادی کے حوالے سے ملک کے زیادہ تر لوگ پریشان ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آبادی کے اندازے کی وجہ سے بے چینی یا خطرے کی گھنٹی نہیں بجنی چاہیے بلکہ اگر انفرادی حقوق اور انتخاب کو برقرار رکھا جا رہا ہو تو انہیں ترقی اور خواہشات کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت دنیا کا سب سے بڑا آبادی والا ملک بننے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کی رواں برس کے وسط تک چین سے 29 لاکھ زیادہ  آبادی ہوگی۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کی عالمی آبادی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کی آبادی کا تخمینہ ایک ارب 42 کروڑ 86 لاکھ افراد لگایا گیا ہے جبکہ چین کی آبادی ایک ارب 42 کروڑ 57 لاکھ رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا بڑے فرق کے ساتھ تیسرا بڑا آبادی والا ملک ہوگا، جس کی آبادی فروری 2023 تک دستیاب معلومات کے مطابق  34 کروڑ ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے سابقہ اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے آبادی کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ بھارت اس ماہ چین سے آگے نکل جائے گا لیکن تازہ رپورٹ میں اس کی تاریخ کے حوالے سے نہیں بتایا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ANI/status/1648602879782170627"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اقوام متحدہ کے آبادی کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ بھارت اور چین سے آنے والے اعداد و شمار کے بارے میں ’غیر یقینی صورتحال‘ کی وجہ سے تاریخ بتانا ممکن نہیں ہے، خاص طور پر بھارت میں آخری مردم شماری 2011 میں ہوئی تھی اور 2021 میں ہونے والی اگلی  مردم شماری عالمی وبا کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔</p>
<p>اگرچہ بھارت اور چین کا 8 ارب ساڑھے چار کروڑ کی عالمی آبادی  میں ایک تہائی سے زیادہ حصہ ہے لیکن دونوں ایشیائی ممالک میں آبادی بڑھنے کی رفتار میں کمی ہورہی ہے تاہم چین میں زیادہ کمی ہوئی ہے۔</p>
<p>چین کی آبادی میں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1195613/"><strong>گزشتہ 6 دہائیوں میں</strong></a> پہلی بار کم ہوئی، سال 2022 کے اختتام تک چین کی آبادی ایک ارب 40 کروڑ سے زائد ریکارڈ کی گئی جو کہ 2021 کے مقابلے میں ساڑھے 8 لاکھ کم ہے۔</p>
<p>سرکاری اعداد وشمار کے مطابق بھارت کی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح 2011 سے اوسطاً 1.2 فیصد رہی ہے، جو اس سے قبل گزشتہ 10 سال میں 1.7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>بھارت میں یو این ایف پی اے کے نمائندے اینڈریا وجنار نے بتایا کہ بھارت میں سروے کے نتیجے سے ظاہر ہوا ہے کہ آبادی کے حوالے سے ملک کے زیادہ تر لوگ پریشان ہوئے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آبادی کے اندازے کی وجہ سے بے چینی یا خطرے کی گھنٹی نہیں بجنی چاہیے بلکہ اگر انفرادی حقوق اور انتخاب کو برقرار رکھا جا رہا ہو تو انہیں ترقی اور خواہشات کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201160</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Apr 2023 13:55:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/19134346b3448ea.png?r=134736" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/19134346b3448ea.png?r=134736"/>
        <media:title>سرکاری اعداد وشمار کے مطابق بھارت کی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح 2011 سے اوسطاً 1.2 فیصد رہی ہے— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
