<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 21:15:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 21:15:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آنت کی بیماریوں کی تشخیص میں مشکلات کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201178/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگرچہ عالمی سطح پر میڈیکل سائنس نے بہت ترقی کی ہے، تاہم اس باوجود آج بھی بہت ساری ایسی بیماریاں ہیں جن کی متعدد ٹیسٹس کیے جانے کے باوجود تشخیص نہیں ہو پاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر کچھ لوگوں میں بیماریوں کی علامات بھی موجود ہوتی ہیں لیکن جب ان کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تو ان میں کسی بیماری کی کوئی تشخیص نہیں ہوپاتی، اسی طرح بعض افراد میں علامات نہیں ہوتیں لیکن ٹیسٹس میں ان کی بیماری کا علم ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی ماہرین کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ سمیت دنیا بھر میں آنت کی بیماریوں کی تشخیص میں ماہرین صحت مشکلات کا شکار ہیں اور بعض مریضوں کے متعدد ٹیسٹس کیے جانے کے باوجود بھی ان میں بیماری کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/health-65276600"&gt;&lt;strong&gt;’بی بی سی نیوز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق برطانیہ میں ہر سال تقریبا 17 ہزار مریض ایسے ہوتے ہیں جن میں آنتوں کی سوزش اور درد کی بیماری (Microscopic colitis) کی تاخیر سے تشخیص ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1110703"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ایسی بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں، کیوں کہ مذکورہ بیماری میں مبتلا افراد کی تشخیص کئی سال بعد بھی نہیں ہو پاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی طبی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gutscharity.org.uk/2023/04/microscopic-colitis-awareness-week-2023/"&gt;&lt;strong&gt;تحقیقاتی ادارے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق حالیہ چند سال میں آنتوں کی سوزش اور درد کی بیماری کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو کہ ممکنہ طور پر بہتر تشخیص کا نتیجہ ہیں، کیوں کہ اب ایسی بیماری کو علامات کی بنیاد پر جلد تشخیص کیا جانے لگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ بیماری کے دوران انسان کو شدید پیٹ میں درد، ڈائریا، دست، بخار، تھکاوٹ، بے چینی اور قے جیسی شکایات رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنتوں کی سوزش اور درد کی بیماری میں مبتلا افراد کا مرض عام انفلیمیشن یعنی سوزش کے ٹیسٹس تشخیص نہیں ہو پاتا اور نہ ہی اس آنتوں کے ٹیسٹس سے اس بیماری کو پکڑا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مذکورہ بیماری کی جلد تشخیص کا بہترین طریقہ آنتوں کی بائیوپسی ہو سکتی ہے جب کہ آنتوں کو چھوٹے کیمرے کے ذریعے چیک کرنے سے بھی مذکورہ بیماری کو نہیں پکڑا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ بیماری کی جلد تشخیص عالمی سطح پر بھی چیلنج ہے اور دنیا کے متعدد ممالک کے لاکھوں مریض کئی سال تک تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے آنتوں کی شدید تکلیف کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگرچہ عالمی سطح پر میڈیکل سائنس نے بہت ترقی کی ہے، تاہم اس باوجود آج بھی بہت ساری ایسی بیماریاں ہیں جن کی متعدد ٹیسٹس کیے جانے کے باوجود تشخیص نہیں ہو پاتی۔</p>
<p>عام طور پر کچھ لوگوں میں بیماریوں کی علامات بھی موجود ہوتی ہیں لیکن جب ان کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تو ان میں کسی بیماری کی کوئی تشخیص نہیں ہوپاتی، اسی طرح بعض افراد میں علامات نہیں ہوتیں لیکن ٹیسٹس میں ان کی بیماری کا علم ہوجاتا ہے۔</p>
<p>برطانوی ماہرین کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ سمیت دنیا بھر میں آنت کی بیماریوں کی تشخیص میں ماہرین صحت مشکلات کا شکار ہیں اور بعض مریضوں کے متعدد ٹیسٹس کیے جانے کے باوجود بھی ان میں بیماری کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/health-65276600"><strong>’بی بی سی نیوز‘</strong></a> کے مطابق برطانیہ میں ہر سال تقریبا 17 ہزار مریض ایسے ہوتے ہیں جن میں آنتوں کی سوزش اور درد کی بیماری (Microscopic colitis) کی تاخیر سے تشخیص ہوتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1110703"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین کے مطابق ایسی بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں، کیوں کہ مذکورہ بیماری میں مبتلا افراد کی تشخیص کئی سال بعد بھی نہیں ہو پاتی۔</p>
<p>برطانوی طبی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gutscharity.org.uk/2023/04/microscopic-colitis-awareness-week-2023/"><strong>تحقیقاتی ادارے</strong></a> کے مطابق حالیہ چند سال میں آنتوں کی سوزش اور درد کی بیماری کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو کہ ممکنہ طور پر بہتر تشخیص کا نتیجہ ہیں، کیوں کہ اب ایسی بیماری کو علامات کی بنیاد پر جلد تشخیص کیا جانے لگا ہے۔</p>
<p>مذکورہ بیماری کے دوران انسان کو شدید پیٹ میں درد، ڈائریا، دست، بخار، تھکاوٹ، بے چینی اور قے جیسی شکایات رہتی ہیں۔</p>
<p>آنتوں کی سوزش اور درد کی بیماری میں مبتلا افراد کا مرض عام انفلیمیشن یعنی سوزش کے ٹیسٹس تشخیص نہیں ہو پاتا اور نہ ہی اس آنتوں کے ٹیسٹس سے اس بیماری کو پکڑا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق مذکورہ بیماری کی جلد تشخیص کا بہترین طریقہ آنتوں کی بائیوپسی ہو سکتی ہے جب کہ آنتوں کو چھوٹے کیمرے کے ذریعے چیک کرنے سے بھی مذکورہ بیماری کو نہیں پکڑا جا سکتا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ بیماری کی جلد تشخیص عالمی سطح پر بھی چیلنج ہے اور دنیا کے متعدد ممالک کے لاکھوں مریض کئی سال تک تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے آنتوں کی شدید تکلیف کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201178</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Apr 2023 21:17:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/19182700c2603fc.jpg?r=182735" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/19182700c2603fc.jpg?r=182735"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
