<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 11:27:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 11:27:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جھوٹی خبر پھیلانے پر ایشوریا رائے اور ابھیشیک بچن کی بیٹی عدالت پہنچ گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201300/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی اداکار ابھیشیک بچن اور ایشوریا رائے کی بیٹی آردھیا نے اپنی صحت سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے پر یوٹیوب چینل کے خلاف دہلی ہائی کورٹ درخواست دائر کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://economictimes.indiatimes.com/news/india/delhi-hc-directs-google-youtube-to-take-down-images-videos-making-false-claims-about-aaradhya-bachchan/articleshow/99633502.cms"&gt;اکنامک ٹائمز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق 11 سالہ آرادھیا بچن کی جانب سے درخواست دائر کرنے پر ہائی کورٹ نے یوٹیوب حکام اور یوٹیوب ٹیبلوئڈز کے مالکان کو طلب کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آردھیا نے درخواست میں کہا کہ یوٹیوب چینل نے میری ’خراب صحت‘ اور ’موت‘ کے بارے میں افواہیں پھیلائیں، انہوں نے جھوٹی خبریں پھیلانے والوں پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1137370"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی کورٹ نے بچی کے حق میں فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے حقوق کی خاصی اہمیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ بھارت میں دیگر نامور اداکاروں کی اولاد کی طرح 11 سالہ آردھیا بھی اکثر خبروں میں دکھائی دیتی ہیں کیونکہ وہ اپنے والدین کے ساتھ متعدد بار فلمی پروگرام اور تہواروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں آئے روز سوشل میڈیا پر مضحکہ خیز وجوہات کی بنا پر ٹرول کیا جاتا رہا ہے جس میں ان کے چلنے کے انداز اور ہمیشہ اپنی ماں کا ہاتھ پکڑنے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں ابھیشیک بچن نے بھارتی میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کی بیٹی پر تنقید مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، اسے میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا، ٹھیک ہے کہ میں ایک عوامی شخصیت ہوں لیکن میری بیٹی اس میں شامل نہیں ہے، اگر آپ کو کچھ بھی کہنا ہے کہ تو میرے سامنے کہیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے گوگل اور یوٹیوب کو ان کی سماجی ذمہ داری یاد دلائی اور کہا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ دیکھیں کس قسم کا مواد ان کے پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا جارہا ہے،بدنیتی پر مبنی مواد کو ہٹانے یا اسے محدود کرنا ان کا فرض ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے یوٹیوب چینل کو فوری طور پر مواد ہٹانے کا حکم دیا اور کہا اگر آپ اپنے کام سے پیسہ کما رہے ہیں، تو آپ کی ایک سماجی ذمہ داری ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی عدالت نے نامزد یوٹیوب چینل سمیت چند دیگر یوٹیوب چینلز کو بھی سمن جاری کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی اداکار ابھیشیک بچن اور ایشوریا رائے کی بیٹی آردھیا نے اپنی صحت سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے پر یوٹیوب چینل کے خلاف دہلی ہائی کورٹ درخواست دائر کردی۔</p>
<p>بھارتی اخبار <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://economictimes.indiatimes.com/news/india/delhi-hc-directs-google-youtube-to-take-down-images-videos-making-false-claims-about-aaradhya-bachchan/articleshow/99633502.cms">اکنامک ٹائمز</a></strong> کے مطابق 11 سالہ آرادھیا بچن کی جانب سے درخواست دائر کرنے پر ہائی کورٹ نے یوٹیوب حکام اور یوٹیوب ٹیبلوئڈز کے مالکان کو طلب کرلیا ہے۔</p>
<p>آردھیا نے درخواست میں کہا کہ یوٹیوب چینل نے میری ’خراب صحت‘ اور ’موت‘ کے بارے میں افواہیں پھیلائیں، انہوں نے جھوٹی خبریں پھیلانے والوں پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1137370"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہائی کورٹ نے بچی کے حق میں فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے حقوق کی خاصی اہمیت ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ بھارت میں دیگر نامور اداکاروں کی اولاد کی طرح 11 سالہ آردھیا بھی اکثر خبروں میں دکھائی دیتی ہیں کیونکہ وہ اپنے والدین کے ساتھ متعدد بار فلمی پروگرام اور تہواروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں۔</p>
<p>انہیں آئے روز سوشل میڈیا پر مضحکہ خیز وجوہات کی بنا پر ٹرول کیا جاتا رہا ہے جس میں ان کے چلنے کے انداز اور ہمیشہ اپنی ماں کا ہاتھ پکڑنے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔</p>
<p>2021 میں ابھیشیک بچن نے بھارتی میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کی بیٹی پر تنقید مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، اسے میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا، ٹھیک ہے کہ میں ایک عوامی شخصیت ہوں لیکن میری بیٹی اس میں شامل نہیں ہے، اگر آپ کو کچھ بھی کہنا ہے کہ تو میرے سامنے کہیں’۔</p>
<p>عدالت نے گوگل اور یوٹیوب کو ان کی سماجی ذمہ داری یاد دلائی اور کہا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ دیکھیں کس قسم کا مواد ان کے پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا جارہا ہے،بدنیتی پر مبنی مواد کو ہٹانے یا اسے محدود کرنا ان کا فرض ہے۔</p>
<p>عدالت نے یوٹیوب چینل کو فوری طور پر مواد ہٹانے کا حکم دیا اور کہا اگر آپ اپنے کام سے پیسہ کما رہے ہیں، تو آپ کی ایک سماجی ذمہ داری ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>ساتھ ہی عدالت نے نامزد یوٹیوب چینل سمیت چند دیگر یوٹیوب چینلز کو بھی سمن جاری کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201300</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Apr 2023 08:43:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/210835445c18447.png?r=083559" type="image/png" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/210835445c18447.png?r=083559"/>
        <media:title>فائل فوٹو: انسٹاگرام
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
