<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 10:21:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 10:21:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شوکت ترین نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ’مشکوک لین دین‘ کے الزامات مسترد کر دیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201306/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیئرمین کی طرف سے لگائے گئے الزامات مسترد کر دیے، جنہوں نے سابق وفاقی وزیر پر مرکزی بینک کی اسکیم کے تحت اربوں ڈالر کی ’مشکوک لین دین‘ کا الزام لگایا تھا جس کا مقصد کاروبار کو کم شرح سود پر قرضے دینا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1748736/tarin-rebuts-pacs-dubious-transaction-allegations"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق شوکت ترین نے بیان میں بتایا کہ معمولی شرح سود پر قرضے کووڈ کے بعد کے مالیاتی محرک اقدامات کا حصہ تھے جو پچھلی حکومت نے اٹھائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میرے علم میں آیا ہے کہ پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان نے مجھ پر ایس بی پی کے زیر انتظام ٹیمپرری اکنامک ری فنانس فسیلٹی (ٹی ای آر ایف) کے تحت ’4 ارب ڈالر کی مشکوک لین دین‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شوکت ترین نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان خودمختار ادارہ ہے اور کاروبار کے لیے مختلف قرضوں کی سہولت دیتا ہے، جس میں ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) اور لانگ ٹرم فنانسنگ فسیلٹی (ایل ٹی ایف ایف) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک ایک تفصیلی بیان جاری کرے گا جس میں ان اقدامات کے مقاصد، خوبیوں اور افادیت کو واضح کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1201232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی رہنما نے مزید وضاحت کی کہ وہ اپریل 2021 میں وزیر خزانہ بنے تھے جبکہ اسٹیٹ بینک نے ایک سال قبل مارچ 2020 میں ری فنانس اسکیم کا آغاز کیا تھا اور یہ سہولت مارچ 2021 میں ختم ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ لہٰذا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا بیان ’گمراہ کن اور غیر مناسب ہے‘ ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں عالمی وبا کے دوران کمرشل بینکوں سے زیرو مارک اپ پر تقریباً 3 ارب ڈالر قرض حاصل کرنے والے 600 کاروباری افراد کی فہرست طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران رکن برجیس طاہر نے مطالبہ کیا کہ ’اسٹیٹ بینک کو کمیٹی کے سامنے 600 افراد کی تفصیلات پیش کرنی چاہیے جنہوں نے یہ قرضے حاصل کیے تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین کمیٹی نورعالم خان نے کہا تھا کہ ’کس قانون کے تحت ان 600 افراد کو قرضے جاری کیے گئے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ بینکوں نے وبا کے دوران رعایت پر ان قرضوں کی پیش کش کی تھی، اس سہولت کا مقصد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے متاثر ہونے والی معیشت میں سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیئرمین کی طرف سے لگائے گئے الزامات مسترد کر دیے، جنہوں نے سابق وفاقی وزیر پر مرکزی بینک کی اسکیم کے تحت اربوں ڈالر کی ’مشکوک لین دین‘ کا الزام لگایا تھا جس کا مقصد کاروبار کو کم شرح سود پر قرضے دینا تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1748736/tarin-rebuts-pacs-dubious-transaction-allegations"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق شوکت ترین نے بیان میں بتایا کہ معمولی شرح سود پر قرضے کووڈ کے بعد کے مالیاتی محرک اقدامات کا حصہ تھے جو پچھلی حکومت نے اٹھائے تھے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ میرے علم میں آیا ہے کہ پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان نے مجھ پر ایس بی پی کے زیر انتظام ٹیمپرری اکنامک ری فنانس فسیلٹی (ٹی ای آر ایف) کے تحت ’4 ارب ڈالر کی مشکوک لین دین‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔</p>
<p>شوکت ترین نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان خودمختار ادارہ ہے اور کاروبار کے لیے مختلف قرضوں کی سہولت دیتا ہے، جس میں ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) اور لانگ ٹرم فنانسنگ فسیلٹی (ایل ٹی ایف ایف) شامل ہیں۔</p>
<p>سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک ایک تفصیلی بیان جاری کرے گا جس میں ان اقدامات کے مقاصد، خوبیوں اور افادیت کو واضح کرے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1201232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پی ٹی آئی رہنما نے مزید وضاحت کی کہ وہ اپریل 2021 میں وزیر خزانہ بنے تھے جبکہ اسٹیٹ بینک نے ایک سال قبل مارچ 2020 میں ری فنانس اسکیم کا آغاز کیا تھا اور یہ سہولت مارچ 2021 میں ختم ہو گئی تھی۔</p>
<p>شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ لہٰذا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا بیان ’گمراہ کن اور غیر مناسب ہے‘ ۔</p>
<p>خیال رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں عالمی وبا کے دوران کمرشل بینکوں سے زیرو مارک اپ پر تقریباً 3 ارب ڈالر قرض حاصل کرنے والے 600 کاروباری افراد کی فہرست طلب کی تھی۔</p>
<p>پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران رکن برجیس طاہر نے مطالبہ کیا کہ ’اسٹیٹ بینک کو کمیٹی کے سامنے 600 افراد کی تفصیلات پیش کرنی چاہیے جنہوں نے یہ قرضے حاصل کیے تھے‘۔</p>
<p>چیئرمین کمیٹی نورعالم خان نے کہا تھا کہ ’کس قانون کے تحت ان 600 افراد کو قرضے جاری کیے گئے‘۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ بینکوں نے وبا کے دوران رعایت پر ان قرضوں کی پیش کش کی تھی، اس سہولت کا مقصد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے متاثر ہونے والی معیشت میں سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی کرنا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201306</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Apr 2023 12:31:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/21093347105ff67.png?r=093740" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/21093347105ff67.png?r=093740"/>
        <media:title>— فائل فوٹو / اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
