<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 06:33:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 06:33:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا کی نئی قسم ’آکٹورس‘ تیزی سے پھیلنے لگی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201337/</link>
      <description>&lt;p&gt;سال 2019 کے اختتام پر دنیا میں پھیلنے والی وبا کورونا کی ایک نئی اور زیادہ تیزی سے پھیلنے والی قسم ’آکٹورس‘ کے سامنے آنے کے بعد کئی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’آکٹورس‘ دراصل پہلے سے موجود خطرناک قسم ’اومیکرون‘ کی تبدیل شدہ قسم ’ایکس بی بی 1۔16‘ کی نئی قسم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.independent.co.uk/news/health/arcturus-covid-symptoms-new-variant-b2324014.html"&gt;&lt;strong&gt;’دی انڈیپینڈنٹ‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ’آکٹورس‘ کی قسم سب سے پہلے بھارت میں جنوری 2023 میں سامنے آئی تھی مگر مارچ میں اس کے کیسز میں تیزی دیکھی گئی، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس پر نظر رکھنا شروع کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’آکٹورس‘ کے کیسز میں مارچ میں تیزی کے بعد اس کے کیسز امریکا، برطانیہ، سنگاپور اور تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں بھی رپورٹ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’آکٹورس‘ کی قسم کو بعض ممالک میں  ’ایکس بی بی 1۔16‘ کے نام سے بھی جانا جا رہا ہے اور اس وقت مذکورہ قسم دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194819"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.usnews.com/news/health-news/articles/2023-04-20/explainer-what-to-know-about-xbb-1-16-the-new-covid-19-strain-called-arcturus"&gt;&lt;strong&gt;’یو ایس اے ٹوڈے‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ’آکٹورس‘ کی قسم حالیہ دنوں میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں سب سے نمایاں ہیں اور اس وقت سامنے آنے والے 7 فیصد کیسز اسی قسم کے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ قسم کو ’اومیکرون‘ کی تمام قسموں کے مقابلے ڈیڑھ فیصد تک زیادہ متعدی قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حوالے سے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.independent.co.uk/news/health/dead-arcturus-covid-variant-thailand-b2323608.html"&gt;&lt;strong&gt;’دی انڈیپینڈنٹ‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے اپنی ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ تھائی لینڈ میں 20 اپریل کو ’آکٹورس‘ سے متاثرہ شخص ہلاک ہوگیا، جسے مذکورہ قسم کی پہلی موت قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ ماہرین کا ماننا ہے کہ ’آکٹورس‘ اس وقت تیزی سے پھیلنے والی قسم ہے، تاہم دیکھا گیا ہے کہ مذکورہ قسم مریض کو زیادہ بیمار نہیں بنا رہی، یعنی متاثرہ شخص کی حالت زیادہ تشویش ناک نہیں بن رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ’آکٹورس‘ میں متاثر ہونے والے افراد میں کورونا کی تشخیص بھی جلدی ہو رہی ہے جب کہ انہیں بروقت علاج دیے جانے پر وہ جلد ٹھیک بھی ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ کورونا کا آغاز دسمبر 2019 کے اختتام پر چین سے ہوا تھا اور مارچ 2020 میں عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی وبا قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین سال کے دوران کورونا کی متعدد بڑی قسمیں جب کہ دو درجن کے قریب ذیلی قسمیں سامنے آ چکی ہیں اور سب سے زیادہ ذیلی قسمیں اومیکرون کی آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’آکٹورس‘ بھی اومیکرون کی ذیلی قسم کی نئی تبدیل شدہ صورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سال 2019 کے اختتام پر دنیا میں پھیلنے والی وبا کورونا کی ایک نئی اور زیادہ تیزی سے پھیلنے والی قسم ’آکٹورس‘ کے سامنے آنے کے بعد کئی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔</p>
<p>’آکٹورس‘ دراصل پہلے سے موجود خطرناک قسم ’اومیکرون‘ کی تبدیل شدہ قسم ’ایکس بی بی 1۔16‘ کی نئی قسم ہے۔</p>
<p>برطانوی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.independent.co.uk/news/health/arcturus-covid-symptoms-new-variant-b2324014.html"><strong>’دی انڈیپینڈنٹ‘</strong></a> کے مطابق ’آکٹورس‘ کی قسم سب سے پہلے بھارت میں جنوری 2023 میں سامنے آئی تھی مگر مارچ میں اس کے کیسز میں تیزی دیکھی گئی، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس پر نظر رکھنا شروع کی۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’آکٹورس‘ کے کیسز میں مارچ میں تیزی کے بعد اس کے کیسز امریکا، برطانیہ، سنگاپور اور تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں بھی رپورٹ کیے گئے۔</p>
<p>’آکٹورس‘ کی قسم کو بعض ممالک میں  ’ایکس بی بی 1۔16‘ کے نام سے بھی جانا جا رہا ہے اور اس وقت مذکورہ قسم دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194819"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.usnews.com/news/health-news/articles/2023-04-20/explainer-what-to-know-about-xbb-1-16-the-new-covid-19-strain-called-arcturus"><strong>’یو ایس اے ٹوڈے‘</strong></a> کے مطابق ’آکٹورس‘ کی قسم حالیہ دنوں میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں سب سے نمایاں ہیں اور اس وقت سامنے آنے والے 7 فیصد کیسز اسی قسم کے ہیں۔</p>
<p>مذکورہ قسم کو ’اومیکرون‘ کی تمام قسموں کے مقابلے ڈیڑھ فیصد تک زیادہ متعدی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اسی حوالے سے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.independent.co.uk/news/health/dead-arcturus-covid-variant-thailand-b2323608.html"><strong>’دی انڈیپینڈنٹ‘</strong></a> نے اپنی ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ تھائی لینڈ میں 20 اپریل کو ’آکٹورس‘ سے متاثرہ شخص ہلاک ہوگیا، جسے مذکورہ قسم کی پہلی موت قرار دیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ ماہرین کا ماننا ہے کہ ’آکٹورس‘ اس وقت تیزی سے پھیلنے والی قسم ہے، تاہم دیکھا گیا ہے کہ مذکورہ قسم مریض کو زیادہ بیمار نہیں بنا رہی، یعنی متاثرہ شخص کی حالت زیادہ تشویش ناک نہیں بن رہی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ’آکٹورس‘ میں متاثر ہونے والے افراد میں کورونا کی تشخیص بھی جلدی ہو رہی ہے جب کہ انہیں بروقت علاج دیے جانے پر وہ جلد ٹھیک بھی ہو رہے ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ کورونا کا آغاز دسمبر 2019 کے اختتام پر چین سے ہوا تھا اور مارچ 2020 میں عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی وبا قرار دیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ تین سال کے دوران کورونا کی متعدد بڑی قسمیں جب کہ دو درجن کے قریب ذیلی قسمیں سامنے آ چکی ہیں اور سب سے زیادہ ذیلی قسمیں اومیکرون کی آئی ہیں۔</p>
<p>’آکٹورس‘ بھی اومیکرون کی ذیلی قسم کی نئی تبدیل شدہ صورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201337</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Apr 2023 18:14:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/211713403071435.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/211713403071435.jpg"/>
        <media:title>نئی قسم سب سے پہلے بھارت میں رپورٹ کی گئی—فوٹو: اے این آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
