<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 02:43:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 02:43:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فوکس نیوز نے ’اشتعال دلانے والے اینکر‘ ٹکر کارلسن کو برطرف کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201521/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی چینل فوکس نیوز کے مشہور پروگرام کے قدامت پرست اور ’اشتعال دلانے‘ والے میزبان ٹکر کارلسن کو چینل کی جانب سے ہتک عزت کے مقدمے کے خاتمے کے لیے بھاری ادائیگی کے بعد اچانک برطرف کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیرملکی خبرایجنسیوں کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1749353/fox-news-parts-ways-with-anchor-provocateur-tucker-carlson"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹکر کارلسن کو فوکس نیوز میں مرکزی حیثیت حاصل تھی جہاں وہ شام کو پرائم ٹائم شو کی میزبانی کرتے تھے، جس کو دائیں بازو کے ناظرین کی زبردست حمایت حاصل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ری پبلکن پارٹی کی اہم شخصیت کی حیثیت سے میزبان نے کئی مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو کیا اور وہ جھوٹی خبریں پھیلانے کے لیے بدنام تھے، اس کے ساتھ ساتھ ان پر نسل پرستانہ اور نفرت انگیز بیانات کا بھی الزام عائد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی چینل نے میزبان کی فوری کنارہ کشی کی وجوہات سے آگاہ کیے بغیر مختصر بیان میں کہا کہ ’فوکس نیوز میڈیا اور ٹکر کارلسن اپنے راستے جدا کرنے پر متفق ہوگئے ہیں، بطور میزبان اور معاون نیٹ ورک کے لیے خدمات پر ہم ان کے مشکور ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1092947"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب 53 سالہ ٹکر کارلسن نے ردعمل نہیں دیا جنہوں نے فوکس نیوز مں 2009 میں شمولیت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبرایجنسی رائٹر کے مطابق معاملے سے جڑے دو ذرائع نے بتایا کہ فوکس کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹیو لیچلن میورڈچ اور فوکس نیوز میڈیا کے سی ای او سوزانے اسکاٹ نے جمعے کی رات کو حتمی فیصلہ کیا تھا کہ وقت آگیا ہے ٹکر کارلسن سے راہیں جدا کرلی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور شخص نے بتایا کہ شو کے سینئر ایگزیکٹیو پرڈیوسر بھی اگلے پیر کو فوکس نیوز چھوڑ کر جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹکر کارلسن نے امیگریسن پالیسیوں سے لے کر بندوق کنٹرول کے خلاف جدید امریکا کے لبرل رجحانات، ناظرین کو غصہ دلانے اور کیبل ٹیلی ویژن میں شو کی مشہوری کے لیے ہر چیز کی شدید تنقید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوکس نیوز نے گزشتہ ہفتے ہتک عزت کا مقدمہ ختم کرنے کے لیے 78 کروڑ 75 لاکھ ڈالر پر معاملات طے کیے تھے جس کا مطلب ہے کہ کہ نہ تو فوکس نیوز کارپوریشن کے چیئرمین روپرٹ مورڈیچ نہ ہی  ٹکر کارلسن کی طرح میزبان کو ممکنہ سخت ٹرائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوکس نیوز کے انٹرنل کمیونیکشنز کی جانب سے شیڈول ٹرائل سے قبل کہا تھا کہ سینئر عہدیدار نے 2020 کے انتخابات میں مخالف ناظرین کے چھوٹ جانے کے خوف سے جھوٹی خبریں پھیلانے کی تیاری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹکر کارلسن نے بھی پیغام میں کہا تھا کہ ’میں اس وقت انتظار نہیں کرسکتا جب تک ٹرمپ کو اکثر نظر انداز کرسکتا، میں ان سے جذباتی طور پر نفرت کرتا ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی ووٹنگ ٹیکنالوجی کی حامل کمپنی ڈومینئین نے جھوٹے دعووں پر مبنی خبریں نشر کرنے پر فوکس نیوز کے خلاف مقدمہ کردیا تھا، چینل میں خبر چلی تھی کہ مذکورہ کمپنی کی مشینیں ٹرمپ سے صدارتی انتخابات چھیننے کے لیے استعمال کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181588"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میورڈچ کے میڈیا گروپ میں شامل ایک اور ادارہ وال اسٹریٹ جرنل نے نشان دہی کی کہ انتخابات کے بعد ٹکر کارلسن نے اس وقت دھاندلی کا تنازع کھڑا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹکر کارلسن کے تعلقات ٹرمپ کے ساتھ اس وقت بھی بہت قریبی ہیں اور 11 اپریل کو ان کے ساتھ طویل انٹرویو کیا تھا حالانکہ نیو یارک میں الزامات عائد کیے جارہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے دائیں بازو کے نظریات کے حامل چینل نیوز میکس میں پیر کو ٹرمپ نے کارلسن کے بیان پر عوامی حوالہ دیے بغیر کہا کہ وہ میزبان کی برطرفی پر حیران ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق میزبان نے جمعے کو اپنے آخری پروگرام میں کوئی منفی تاثر نہیں دیا اور مطمئن نظر آ رہے تھے جہاں انہوں نے پزا کھاتے ہوئے پروگرام مکمل کیا اور کہا تھا کہ پیر کو دوبارہ ملیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوکس نیوز نے بتایا کہ متبادل میزبان کے انتظام تک 8 بجے کا پروگرام دیگر عہدیدار عارضی طور پر میزبانی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پیر کو حریف چینل سی این این نے بھی مشہور میزبان ڈون لیمون کو برطرف کردیا، جنہوں نے حال ہی میں خواتین اور عمر کے حوالے سے جملے کسے تھے جس کو نامناسب قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی چینل فوکس نیوز کے مشہور پروگرام کے قدامت پرست اور ’اشتعال دلانے‘ والے میزبان ٹکر کارلسن کو چینل کی جانب سے ہتک عزت کے مقدمے کے خاتمے کے لیے بھاری ادائیگی کے بعد اچانک برطرف کردیا گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیرملکی خبرایجنسیوں کی <a href="https://www.dawn.com/news/1749353/fox-news-parts-ways-with-anchor-provocateur-tucker-carlson"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ٹکر کارلسن کو فوکس نیوز میں مرکزی حیثیت حاصل تھی جہاں وہ شام کو پرائم ٹائم شو کی میزبانی کرتے تھے، جس کو دائیں بازو کے ناظرین کی زبردست حمایت حاصل تھی۔</p>
<p>ری پبلکن پارٹی کی اہم شخصیت کی حیثیت سے میزبان نے کئی مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو کیا اور وہ جھوٹی خبریں پھیلانے کے لیے بدنام تھے، اس کے ساتھ ساتھ ان پر نسل پرستانہ اور نفرت انگیز بیانات کا بھی الزام عائد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>امریکی چینل نے میزبان کی فوری کنارہ کشی کی وجوہات سے آگاہ کیے بغیر مختصر بیان میں کہا کہ ’فوکس نیوز میڈیا اور ٹکر کارلسن اپنے راستے جدا کرنے پر متفق ہوگئے ہیں، بطور میزبان اور معاون نیٹ ورک کے لیے خدمات پر ہم ان کے مشکور ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1092947"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب 53 سالہ ٹکر کارلسن نے ردعمل نہیں دیا جنہوں نے فوکس نیوز مں 2009 میں شمولیت کی تھی۔</p>
<p>خبرایجنسی رائٹر کے مطابق معاملے سے جڑے دو ذرائع نے بتایا کہ فوکس کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹیو لیچلن میورڈچ اور فوکس نیوز میڈیا کے سی ای او سوزانے اسکاٹ نے جمعے کی رات کو حتمی فیصلہ کیا تھا کہ وقت آگیا ہے ٹکر کارلسن سے راہیں جدا کرلی جائیں۔</p>
<p>ایک اور شخص نے بتایا کہ شو کے سینئر ایگزیکٹیو پرڈیوسر بھی اگلے پیر کو فوکس نیوز چھوڑ کر جا رہے ہیں۔</p>
<p>ٹکر کارلسن نے امیگریسن پالیسیوں سے لے کر بندوق کنٹرول کے خلاف جدید امریکا کے لبرل رجحانات، ناظرین کو غصہ دلانے اور کیبل ٹیلی ویژن میں شو کی مشہوری کے لیے ہر چیز کی شدید تنقید کی۔</p>
<p>فوکس نیوز نے گزشتہ ہفتے ہتک عزت کا مقدمہ ختم کرنے کے لیے 78 کروڑ 75 لاکھ ڈالر پر معاملات طے کیے تھے جس کا مطلب ہے کہ کہ نہ تو فوکس نیوز کارپوریشن کے چیئرمین روپرٹ مورڈیچ نہ ہی  ٹکر کارلسن کی طرح میزبان کو ممکنہ سخت ٹرائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔</p>
<p>فوکس نیوز کے انٹرنل کمیونیکشنز کی جانب سے شیڈول ٹرائل سے قبل کہا تھا کہ سینئر عہدیدار نے 2020 کے انتخابات میں مخالف ناظرین کے چھوٹ جانے کے خوف سے جھوٹی خبریں پھیلانے کی تیاری کی۔</p>
<p>ٹکر کارلسن نے بھی پیغام میں کہا تھا کہ ’میں اس وقت انتظار نہیں کرسکتا جب تک ٹرمپ کو اکثر نظر انداز کرسکتا، میں ان سے جذباتی طور پر نفرت کرتا ہوں‘۔</p>
<p>امریکا کی ووٹنگ ٹیکنالوجی کی حامل کمپنی ڈومینئین نے جھوٹے دعووں پر مبنی خبریں نشر کرنے پر فوکس نیوز کے خلاف مقدمہ کردیا تھا، چینل میں خبر چلی تھی کہ مذکورہ کمپنی کی مشینیں ٹرمپ سے صدارتی انتخابات چھیننے کے لیے استعمال کی گئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181588"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>میورڈچ کے میڈیا گروپ میں شامل ایک اور ادارہ وال اسٹریٹ جرنل نے نشان دہی کی کہ انتخابات کے بعد ٹکر کارلسن نے اس وقت دھاندلی کا تنازع کھڑا کیا۔</p>
<p>دوسری جانب ٹکر کارلسن کے تعلقات ٹرمپ کے ساتھ اس وقت بھی بہت قریبی ہیں اور 11 اپریل کو ان کے ساتھ طویل انٹرویو کیا تھا حالانکہ نیو یارک میں الزامات عائد کیے جارہے تھے۔</p>
<p>امریکا کے دائیں بازو کے نظریات کے حامل چینل نیوز میکس میں پیر کو ٹرمپ نے کارلسن کے بیان پر عوامی حوالہ دیے بغیر کہا کہ وہ میزبان کی برطرفی پر حیران ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق میزبان نے جمعے کو اپنے آخری پروگرام میں کوئی منفی تاثر نہیں دیا اور مطمئن نظر آ رہے تھے جہاں انہوں نے پزا کھاتے ہوئے پروگرام مکمل کیا اور کہا تھا کہ پیر کو دوبارہ ملیں گے۔</p>
<p>فوکس نیوز نے بتایا کہ متبادل میزبان کے انتظام تک 8 بجے کا پروگرام دیگر عہدیدار عارضی طور پر میزبانی کریں گے۔</p>
<p>دوسری جانب پیر کو حریف چینل سی این این نے بھی مشہور میزبان ڈون لیمون کو برطرف کردیا، جنہوں نے حال ہی میں خواتین اور عمر کے حوالے سے جملے کسے تھے جس کو نامناسب قرار دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201521</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Apr 2023 09:40:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/260935432262081.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/260935432262081.jpg"/>
        <media:title>ٹکر کارلسن پر جھوٹے خبریں پھیلانے اور اشتعال انگیزی کا الزام تھا—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
