<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:40:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:40:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاند پر اترنے کی کوشش، جاپان کے پہلے نجی خلائی جہاز کا مشن ناکام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201529/</link>
      <description>&lt;p&gt;چاند پر اترنے کی کوشش کرنے والے جاپان کے پہلے نجی خلائی جہاز کا زمین سے رابطہ منقطع ہوگیا، نجی کمپنی کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز کو چاند پر اترنے میں ناکامی کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1749360/attempt-at-first-private-landing-on-moon-fails"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق آئی اسپیس کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز  Hakuto-R کی لینڈنگ سے 25 منٹ پہلے رابطہ منقطع ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ممکنہ طور پر ہم چاند پر کامیاب لینڈنگ نہیں کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ وہ خلائی جہاز کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے، اس مشن میں کوئی شخص سوار نہیں تھا کیونکہ یہ ایک ٹینس بال نما ایک روبوٹ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1105129"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی اسپیس کے بانی اور سی ای او تاکیشی ہاکاماڈا کا کہنا ہے کہ انہوں نے خلائی جہاز کا ڈیٹا حاصل کرلیا ہے، ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خلائی جہاز دو میٹر لمبا اور 340 کلو گرام وزنی ہے، یہ گزشتہ ماہ سے چاند کے مدار میں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک صرف امریکا، روس اور چین ہی حکومت کے زیر اہتمام پروگرامز کے ذریعے چاند پر اترنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2019 میں اسرائیل کی چاند پر بھیجی جانے والی خلائی گاڑی چاند کی سطح پر گر کر تباہ ہو گئی ہے۔ یہ مشن نجی فنڈنگ سے بھیجا گیا تھا، مشن کی ناکامی کی وجہ انجن کی خرابی بتائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے بھی 2016 میں خلائی جہاز کے ذریعے چاند پر اترنے کی کوشش کی تھی لیکن خلائی گاڑی چاند کی سطح پر گر کر تباہ ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کے آخر میں دو امریکی کمپنیاں ایسٹروبیٹک اور انٹیوٹو مشین چاند پر اترنے کی کوشش کریں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چاند پر اترنے کی کوشش کرنے والے جاپان کے پہلے نجی خلائی جہاز کا زمین سے رابطہ منقطع ہوگیا، نجی کمپنی کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز کو چاند پر اترنے میں ناکامی کا سامنا رہا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1749360/attempt-at-first-private-landing-on-moon-fails">رپورٹ</a></strong> کے مطابق آئی اسپیس کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز  Hakuto-R کی لینڈنگ سے 25 منٹ پہلے رابطہ منقطع ہوگیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ممکنہ طور پر ہم چاند پر کامیاب لینڈنگ نہیں کرسکے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ وہ خلائی جہاز کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے، اس مشن میں کوئی شخص سوار نہیں تھا کیونکہ یہ ایک ٹینس بال نما ایک روبوٹ تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1105129"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آئی اسپیس کے بانی اور سی ای او تاکیشی ہاکاماڈا کا کہنا ہے کہ انہوں نے خلائی جہاز کا ڈیٹا حاصل کرلیا ہے، ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>یہ خلائی جہاز دو میٹر لمبا اور 340 کلو گرام وزنی ہے، یہ گزشتہ ماہ سے چاند کے مدار میں تھا۔</p>
<p>اب تک صرف امریکا، روس اور چین ہی حکومت کے زیر اہتمام پروگرامز کے ذریعے چاند پر اترنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔</p>
<p>اپریل 2019 میں اسرائیل کی چاند پر بھیجی جانے والی خلائی گاڑی چاند کی سطح پر گر کر تباہ ہو گئی ہے۔ یہ مشن نجی فنڈنگ سے بھیجا گیا تھا، مشن کی ناکامی کی وجہ انجن کی خرابی بتائی گئی تھی۔</p>
<p>بھارت نے بھی 2016 میں خلائی جہاز کے ذریعے چاند پر اترنے کی کوشش کی تھی لیکن خلائی گاڑی چاند کی سطح پر گر کر تباہ ہو گئی تھی۔</p>
<p>رواں سال کے آخر میں دو امریکی کمپنیاں ایسٹروبیٹک اور انٹیوٹو مشین چاند پر اترنے کی کوشش کریں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201529</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Apr 2023 15:00:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/26131816b9b91ec.gif?r=131820" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/26131816b9b91ec.gif?r=131820"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/26131759e4ddae9.jpg?r=145632" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/26131759e4ddae9.jpg?r=145632"/>
        <media:title>خلائی جہاز کو چاند پر اترنے میں ناکامی کے اعلان کے بعد آئی اسپیس کے ملازمین سر جھکا رہے ہیں — فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
