<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:24:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:24:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی دواساز کمپنی کے تیارکردہ کھانسی کے شربت پر ڈبلیو ایچ او کا انتباہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201591/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت میں ایک اور ’زہریلے‘ کھانسی کے شربت کی کھیپ ملنے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے انتباہ جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-asia-india-65395716"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بھارتی کمپنی کے تیار کردہ کھانسی کے شربت مارشل آئی لینڈ اور مائیکرونیشیا میں میں فروخت ہورہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوائیفینیسن (Guaifenesin ) ٹی جی نامی سیرپ میں ڈائی ایتھیلین گلائکول (diethylene glycol) اور ایتھیلین گلائکول (ethylene glycol) کی مقدار زیادہ تھی جو انسانوں کے لیے نقصان دہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھانسی کا یہ شربت بھارت کی ریاست پنجاب میں واقع کیو پی فارماکیم لمیٹڈ نامی کمپنی تیار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا کھانسی کی اس دوا کی وجہ سے کوئی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل اسی شربت کی وجہ سے گیمبیا میں 70 اور ازبکستان میں 18 بچے ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ساختہ کھانسی کے شربت بنانے والی کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سدھیر پاٹھک نے بی بی سی کو بتایا کہ  کمپنی نے تمام ریگولیٹری مراحل سے گزر کر کھانسی کے اس شربت کی 18 ہزار 346 بوتلوں کی ایک کھیپ کمبوڈیا برآمد کی تھی، وہ نہیں جانتے کہ یہ کھانسی کے شربت مارشل آئی لینڈ اور مائیکرونیشیا تک کیسے پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/270815288796897.gif?r=081534'  alt='فوٹو: ڈبلیو ایچ او' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: ڈبلیو ایچ او&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ بوتلیں بحرالکاہل کے علاقے میں نہیں بھیجی تھیں، ہم نہیں جانتے کہ یہ شربت کن حالات میں مارشل آئی لینڈ اور مائیکرونیشیا تک پہنچی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھانسی کے شربت میں موجود اجزا سے پیٹ میں تکلیف، قے، ہیضے، سردرد، پیشاب رکنے اور گردوں کی انجری جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ بچوں میں یہ مسائل جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری انتباہ پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194560"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او کے بیان میں کہا گیا کہ مینو فیکچر اور مارکیٹر نے عالمی ادارہ صحت کو اس شربت کے معیار اور حفاظت کی ضمانت فراہم نہیں کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی جنرک ادویات کا دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، جو ترقی پذیر ممالک کی طبی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن حالیہ مہینوں میں بہت سی بھارتی کمپنیاں ادویات کے معیار کے حوالے سے تنقید کی زد میں ہیں، ماہرین نے ادویات بنانے کے طریقے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک عالمی انتباہ جاری کیا تھا اور گیمبیا میں بچوں کی ہلاکتوں کا تعلق بھارت میں ہریانہ کی ’میڈن فارماسیوٹیکلز‘ کی تیار کردہ کھانسی کے شربت سے جوڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ شربت کے نمونوں کے ٹیسٹ سے پتا چلا کہ ان میں زہریلے مادے ڈائی تھائیلین گلائیکول اور ایتھائیلین گلائیکول کی ناقابل قبول مقدار موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بھارتی حکومت اور میڈن فارماسیوٹیکلز دونوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت میں ایک اور ’زہریلے‘ کھانسی کے شربت کی کھیپ ملنے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے انتباہ جاری کردیا۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-asia-india-65395716">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بھارتی کمپنی کے تیار کردہ کھانسی کے شربت مارشل آئی لینڈ اور مائیکرونیشیا میں میں فروخت ہورہے تھے۔</p>
<p>گوائیفینیسن (Guaifenesin ) ٹی جی نامی سیرپ میں ڈائی ایتھیلین گلائکول (diethylene glycol) اور ایتھیلین گلائکول (ethylene glycol) کی مقدار زیادہ تھی جو انسانوں کے لیے نقصان دہ ہے۔</p>
<p>کھانسی کا یہ شربت بھارت کی ریاست پنجاب میں واقع کیو پی فارماکیم لمیٹڈ نامی کمپنی تیار کرتی ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ایچ او کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا کھانسی کی اس دوا کی وجہ سے کوئی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل اسی شربت کی وجہ سے گیمبیا میں 70 اور ازبکستان میں 18 بچے ہلاک ہوگئے تھے۔</p>
<p>بھارتی ساختہ کھانسی کے شربت بنانے والی کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سدھیر پاٹھک نے بی بی سی کو بتایا کہ  کمپنی نے تمام ریگولیٹری مراحل سے گزر کر کھانسی کے اس شربت کی 18 ہزار 346 بوتلوں کی ایک کھیپ کمبوڈیا برآمد کی تھی، وہ نہیں جانتے کہ یہ کھانسی کے شربت مارشل آئی لینڈ اور مائیکرونیشیا تک کیسے پہنچی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/04/270815288796897.gif?r=081534'  alt='فوٹو: ڈبلیو ایچ او' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: ڈبلیو ایچ او</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ بوتلیں بحرالکاہل کے علاقے میں نہیں بھیجی تھیں، ہم نہیں جانتے کہ یہ شربت کن حالات میں مارشل آئی لینڈ اور مائیکرونیشیا تک پہنچی ہیں۔</p>
<p>کھانسی کے شربت میں موجود اجزا سے پیٹ میں تکلیف، قے، ہیضے، سردرد، پیشاب رکنے اور گردوں کی انجری جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ بچوں میں یہ مسائل جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری انتباہ پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194560"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈبلیو ایچ او کے بیان میں کہا گیا کہ مینو فیکچر اور مارکیٹر نے عالمی ادارہ صحت کو اس شربت کے معیار اور حفاظت کی ضمانت فراہم نہیں کی ہے۔</p>
<p>بھارتی جنرک ادویات کا دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، جو ترقی پذیر ممالک کی طبی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔</p>
<p>لیکن حالیہ مہینوں میں بہت سی بھارتی کمپنیاں ادویات کے معیار کے حوالے سے تنقید کی زد میں ہیں، ماہرین نے ادویات بنانے کے طریقے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک عالمی انتباہ جاری کیا تھا اور گیمبیا میں بچوں کی ہلاکتوں کا تعلق بھارت میں ہریانہ کی ’میڈن فارماسیوٹیکلز‘ کی تیار کردہ کھانسی کے شربت سے جوڑا تھا۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ شربت کے نمونوں کے ٹیسٹ سے پتا چلا کہ ان میں زہریلے مادے ڈائی تھائیلین گلائیکول اور ایتھائیلین گلائیکول کی ناقابل قبول مقدار موجود تھی۔</p>
<p>تاہم بھارتی حکومت اور میڈن فارماسیوٹیکلز دونوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201591</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Apr 2023 12:20:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/27081454554f386.gif?r=081534" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/27081454554f386.gif?r=081534"/>
        <media:title>فائل فوٹو: انڈیا ٹوڈے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
