<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:45:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:45:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں مالی سال کے دوران منافع کے آؤٹ فلو میں 80 فیصد سے زائد کی کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201710/</link>
      <description>&lt;p&gt;مرکزی بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کا آؤٹ فلو رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں اس کی گزشتہ سال کی مالیت کے پانچویں حصے پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1749683"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے رپورٹ کیا کہ جولائی سے مارچ کے دوران آؤٹ فلو 23 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا جس میں ایک سال قبل کے ایک ارب 27 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 81.6 فیصد یا ایک ارب 3 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ زرمبادلہ کے کم ذخائر حکومت کے لیے ایک بڑا درد سر بنے ہوئے ہیں، مالیاتی شعبے کا خیال ہے کہ ملک کے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کے لیے جان بوجھ کر آؤٹ فلو کم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منافع کے آؤٹ فلو میں اس زبردست کمی نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو متاثر کیا ہے، رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران رقوم کی آمد 22.6 فیصد کم ہو کر ایک ارب 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1187382"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی سب سے کم شرح پاکستان کی ہے اور گزشتہ 3 برس سے رقوم کی آمد کم ہو رہی ہے، جو کہ مالی سال 20-2019 میں 2 ارب 60 کروڑ ڈالر سے مالی سال 2022 میں ایک ارب 90 کروڑ ڈالر تک کم ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی غیر یقینی سیاسی اور معاشی صورتحال کی وجہ سے محتاط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ وہ ٹریژری بلز پر 22 فیصد منافع کے ساتھ مقامی بانڈز میں سرمایہ کاری کی جانب راغب نہیں ہو سکے، ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام شعبے زوال کا شکار نہیں تاہم منافع کا آؤٹ فلو انتہائی محدود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا مارچ کے دوران مالیاتی کاروبار (بینکوں) سے منافع کا آؤٹ فلو ایک کروڑ 85 لاکھ ڈالر تھا جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں ایک کروڑ 89 لاکھ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194493"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح خوراک کے شعبے کا آؤٹ فلو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر صرف 70 لاکھ ڈالر تک رہ گیا، خوراک کے شعبے میں منافع میں کمی نہیں آئی لیکن آؤٹ فلو تقریباً رک گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منافع کمانے والے پاور سیکٹر نے بھی ایسی ہی صورتحال پیش کی اور وہ جولائی تا مارچ کے دوران گزشتہ سال کے 17 کروڑ 84 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں مشکل سے 3 کروڑ 48 لاکھ ڈالر بھیج سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے دوران بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے جس نے مارچ میں مہنگائی کو 35.4 فیصد تک بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم منافع کا اخراج بڑے پیمانے پر کم رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مرکزی بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کا آؤٹ فلو رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں اس کی گزشتہ سال کی مالیت کے پانچویں حصے پر آگیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1749683">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے رپورٹ کیا کہ جولائی سے مارچ کے دوران آؤٹ فلو 23 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا جس میں ایک سال قبل کے ایک ارب 27 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 81.6 فیصد یا ایک ارب 3 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی۔</p>
<p>چونکہ زرمبادلہ کے کم ذخائر حکومت کے لیے ایک بڑا درد سر بنے ہوئے ہیں، مالیاتی شعبے کا خیال ہے کہ ملک کے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کے لیے جان بوجھ کر آؤٹ فلو کم کیا گیا۔</p>
<p>منافع کے آؤٹ فلو میں اس زبردست کمی نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو متاثر کیا ہے، رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران رقوم کی آمد 22.6 فیصد کم ہو کر ایک ارب 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1187382"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خطے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی سب سے کم شرح پاکستان کی ہے اور گزشتہ 3 برس سے رقوم کی آمد کم ہو رہی ہے، جو کہ مالی سال 20-2019 میں 2 ارب 60 کروڑ ڈالر سے مالی سال 2022 میں ایک ارب 90 کروڑ ڈالر تک کم ہوگئی۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی غیر یقینی سیاسی اور معاشی صورتحال کی وجہ سے محتاط ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ وہ ٹریژری بلز پر 22 فیصد منافع کے ساتھ مقامی بانڈز میں سرمایہ کاری کی جانب راغب نہیں ہو سکے، ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام شعبے زوال کا شکار نہیں تاہم منافع کا آؤٹ فلو انتہائی محدود تھا۔</p>
<p>جولائی تا مارچ کے دوران مالیاتی کاروبار (بینکوں) سے منافع کا آؤٹ فلو ایک کروڑ 85 لاکھ ڈالر تھا جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں ایک کروڑ 89 لاکھ ڈالر تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194493"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسی طرح خوراک کے شعبے کا آؤٹ فلو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر صرف 70 لاکھ ڈالر تک رہ گیا، خوراک کے شعبے میں منافع میں کمی نہیں آئی لیکن آؤٹ فلو تقریباً رک گیا ہے۔</p>
<p>منافع کمانے والے پاور سیکٹر نے بھی ایسی ہی صورتحال پیش کی اور وہ جولائی تا مارچ کے دوران گزشتہ سال کے 17 کروڑ 84 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں مشکل سے 3 کروڑ 48 لاکھ ڈالر بھیج سکا۔</p>
<p>رواں مالی سال کے دوران بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے جس نے مارچ میں مہنگائی کو 35.4 فیصد تک بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم منافع کا اخراج بڑے پیمانے پر کم رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201710</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Apr 2023 14:49:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/2811353116d60a6.jpg?r=145011" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/2811353116d60a6.jpg?r=145011"/>
        <media:title>غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی غیر یقینی سیاسی اور معاشی صورتحال وجہ سے محتاط ہیں — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
