<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 16:43:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 16:43:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سستی گیس سے بجلی بنا کر مہنگی بیچنےوالوں سے گیس واپس لے لی گئی ہے، مصدق ملک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201744/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ سستی گیس سے بجلی بنا کر مہنگی بیچنے والوں سے گیس واپس لے لی گئی ہے، چند امیر لوگ، کمپنیاں گیس کو صرف پیسہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے تھیں اس لیے ان سے گیس واپس لے کر  عوام کو لوٹا دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ  وزیراعظم کے ذہن کے اندر آگے بڑھتے پاکستان کا ایک خاکہ ہے اور وہ خاکہ یہ ہے کہ ملک کے ہر کارخانے سے دھواں اٹھ رہا ہو، ملک کے ہر میدان میں ہل چل رہا ہو، لوگ عزت کی روٹی حاصل کر رہے ہوں گے، لوگوں کو روزگار مہیا ہوگا، نوجوانوں کے لیے ذریعہ روزگار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/pmln_org/status/1651967285282603009"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا اس معاشی سفر کے ارتقا کے لیے ہمیں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ توانائی ہے، اگر آپ کو ایک فیصد معاشی ترقی کرنی ہو تو آپ کو توانائی دو فیصد بڑھانی پڑتی ہے، میں ان لوگوں سے پوچھتا ہوں جو کہہ رہے تھے ملک میں اتنی توانائی ہے کہ ہمیں توانائی کی ضرورت نہیں ہے تو ان کے ذہن میں ملک کی ترقی کا کیا خاکہ تھا کہ یہاں کبھی ترقی نہیں ہوگی، ہر سال چار پانچ فیصد ترقی کے لیے آٹھ یا نو فیصد ہمیں توانائی چاہیے، وہ کہاں سے آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصدق ملک نے کہا کہ اس صورتحال میں وزیراعظم نے آتے ہی سب سے پہلے ہدایت دی کہ توانائی کے فقدان کو پورا کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ مجھے فرانس کے صدر کا فون آیا، میں نے بات نہیں کی، مجھے امریکا والے فون نہیں کر رہے ، مودی میرا فون نہیں اٹھاتا، میں روس گیا تھا وہ مجھے تیل دینے لگے، یہ سب باتیں آپ نے سنی ہیں، کیا وہ تیل ملا؟ روسی سفیر کا وہ بیان چلائیں جس میں اس نے کہا کہ سابق وزیر اعظم سے ہماری کسی تیل کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی، ہماری بات صرف پائپ لائن کی ہوئی تھی، جس کام کا ڈھنڈورا کئی مہینے تک پیٹا گیا، اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی تھی، ہم نے وہ کام چند مہینوں کے اندر وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="وزیراعظم-نے-10-سے-14-ارب-ڈالر-یعنی-10-سے-14-ہزار-ملین-ڈالر-سے-ریفائنری-لگانے-کی-منظوری-دے-دی" href="#وزیراعظم-نے-10-سے-14-ارب-ڈالر-یعنی-10-سے-14-ہزار-ملین-ڈالر-سے-ریفائنری-لگانے-کی-منظوری-دے-دی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’وزیراعظم نے 10 سے 14 ارب ڈالر یعنی 10 سے 14 ہزار ملین ڈالر سے ریفائنری لگانے کی منظوری دے دی‘&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کل بتایا کہ روس سے معاہدہ ہوچکا ہے اور بہت جلد پاکستان کو روسی تیل ملنے والا ہے جس سے تیل کی قیمت نیچے آئے گی اور توانائی کے فقدان کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آج کابینہ کی توانائی کمیٹی کا اجلاس ہوا، اس میں وزیراعظم نے منظوری دی کہ ملک میں 10 سے 14 ارب ڈالر یعنی 10 سے 14 ہزار ملین ڈالر کی لاگت سے یہاں پر ایک ریفائنری لگائی جائے گی، جس کے لیے حکومت پہلے سے تک و دو کر رہی ہے لیکن آج اس پالیسی کو وزیراعظم نے منظور کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصدق ملک نے کہا کہ جیسے روس سے تیل لینے والی بات صرف بات نہیں رہی، اس کو تیل کی شکل دی گئی، اس سے ملک میں تیل کی قیمتیں کم ہوں گی، توانائی میں اضافہ ہوگا، اسی طرح سے  یہ ریفائنری کوئی خواب نہیں ہے بلکہ آج اس کی منظوری دے دی گئی ہے، اس کے لیے انویسمنٹ پیکج، اس کی پالیسی کو حتمی شکل دے کر منظور کرلیا گیا ہے، اب پاکستان میں 10 سے 14 ارب ڈالر کی ریفائنری لگنے جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="-کچھ-لوگ-سستی-گیس-لے-کر-مہنگی-بجلی-گرڈ-کو-بیچ-رہے-تھے" href="#-کچھ-لوگ-سستی-گیس-لے-کر-مہنگی-بجلی-گرڈ-کو-بیچ-رہے-تھے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’ کچھ لوگ سستی گیس لے کر  مہنگی بجلی گرڈ کو بیچ رہے تھے’&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج کابینہ کمیٹی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ گیس ان سرمایہ کاروں سے جنہوں نے کہا کہ آپ یہ گیس ہمیں دے دیں، ہم اس گیس سے کارخانہ چلائیں گے، ان امیر آدمیوں نے گیس سے کارخانہ چلانے کے بجائے غریب آدمی کی سستی گیس سے بجلی بنا کر مہنگی بیچنی شروع کردی،  آج اس پالیسی کو ختم کردیا گیا ہے، فیکٹریوں سے گیس نہیں لی گئی، فیکٹریوں سے بجلی بنانے کی گیس بھی نہیں لی گئی، وہ اسی طرح سے چلیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ لیکن وہ لوگ جو گیس کو صرف پیسہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے تھے، وہ لوگ جو سستی گیس لے کر بجلی بنا رہے تھے اور پھر وہ بجلی گرڈ کو مہنگی بیچ رہے تھے، وہ سہولت آج ختم کردی گئی ہے، عوام کی گیس عوام کو لوٹا دی گئی ہے، چند امرا سے، چند کمپنیوں سے گیس واپس لے لی گئی ہے اور یہ گیس عوام کو فراہم کی جائے گی، ان فیکڑیوں کو فراہم کی جائے گی جو لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ملک کے بڑے شہروں کو اونچی اونچی بلڈنگز بن رہی ہیں لیکن وہاں گیس کا کوئی انتظام نہیں ہے، آج ایک پالیسی ترتیب دی گئی ہے کہ اس طرح کی بلڈنگز اور ہاؤسنگ اسکیمز میں جہاں پر گیس کی زیادہ ضرورت ہے، وہاں پر ایل پی جی، ایل این جی، سولر سمیت ان تمام چیزوں کی ایک نئی  پالیسی کی منظوری دی گئی ہے جن کے ذریعے ان کو توانائی فراہم کی جاتی ہے اور اب آنے والے وقت میں یہ توانائی آپ کے گھروں کی دہلیز پر فراہم کی جائے گی، کچھ لوگوں کی اجارہ داری کو ختم کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس پالیسی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ نہیں ہوگا کہ کسی بھی جگہ، اونچی عمارت یا ہاؤسنگ سوسائٹی میں مالک ہی پلانٹ لگا کر گیس فروخت کرے، وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق مسابقت کو کھول دیا گیا ہے، ان مالکان پر لازمی ہوگا کہ اگر کوئی شخص باہر سے آکر اسی پائپ لائن یا پلانٹ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی گیس، ایل این جی، ایل پی جی بیچنا چاہیے تو وہ بیچ سکتا ہے، اسے کوئی نہیں روک سکے گا، اس طرح سے مقابلے کی فضا پیدا ہوگی اور قیمتیں نیچے آئیں گی، آپ کی سہولت بڑھائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="توانائی-کی-بچت-کے-لیے-جامع-پالیسی-کی-بھی-منظوری-دی-گئی" href="#توانائی-کی-بچت-کے-لیے-جامع-پالیسی-کی-بھی-منظوری-دی-گئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’توانائی کی بچت کے لیے جامع پالیسی کی بھی منظوری دی گئی‘&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس اجازت سے مسابقت بڑھے گی، سوئی گیس کمپنیاں بھی وہاں پر جا سکتی ہیں، ایل پی جی، ایل این جی لے کر بھی وہاں جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ ان بلڈنگز کی چھتوں پر کوئی کمپنی سولر پینل لگا کر بجلی فراہم کرنا  چاہے تو اس کی بھی اجازت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت نے کہا کہ دو ہی چیزیں ہوتی ہیں جن سے قومیں خود کفیل ہوتی ہیں، ان میں سے ایک توانائی کی فراہمی اور دوسری یہ کہ اسے ذمے داری کے ساتھ استعمال کیا جائے، توانائی کی بچت کے لیے ایک جامع پالیسی کی بھی منظوری دی گئی، بجلی، گیس کے ذریعے چلنے والے آلات کے لیے نئے اسٹینڈرڈ بنائے گئے ہیں جس کی تمام تفصیلات آنے والے دنوں میں آپ کے سامنے آجائیں گی، ایک طرف ہم اپنے ان اقدامات سے توانائی کی فراہمی بڑھا رہے ہیں، دوسری طرف ہم اس کی بچت کا کلچر بھی لے کر آ رہے ہیں، یہ توانائی ہمارا اور ہمارے بچوں کا مستقبل ہے، ضائع کی جانے والی توانائی پیداواری کاموں میں استعمال کی جا سکتی ہے جس سے روزگار پیدا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصدق ملک نے کہا کہ ہمیں سیاست کے سوا کوئی اور بات سوجھتی نہیں ہے تو وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہے ہماری سیاست، یہ سائفر نہیں ہے، یہ معاہدے، یہ اقدامات ہماری سیاست ہیں، ہماری سیاست قوم اور اس کے لیے توانائی ہے، ہماری سیاست جھوٹے بیانات نہیں، روس سے حقیقت میں آنے والا تیل ہے، وہ 10 سے 14 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے جس سے توانائی کا ایک نیا شہر تعمیر ہوگا،  اس کے علاوہ ہماری اور بہت سی پالیسیز چل رہی ہیں، جو چیزیں ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں، ان کو آپ کے سامنے لاتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ سستی گیس سے بجلی بنا کر مہنگی بیچنے والوں سے گیس واپس لے لی گئی ہے، چند امیر لوگ، کمپنیاں گیس کو صرف پیسہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے تھیں اس لیے ان سے گیس واپس لے کر  عوام کو لوٹا دی گئی ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ  وزیراعظم کے ذہن کے اندر آگے بڑھتے پاکستان کا ایک خاکہ ہے اور وہ خاکہ یہ ہے کہ ملک کے ہر کارخانے سے دھواں اٹھ رہا ہو، ملک کے ہر میدان میں ہل چل رہا ہو، لوگ عزت کی روٹی حاصل کر رہے ہوں گے، لوگوں کو روزگار مہیا ہوگا، نوجوانوں کے لیے ذریعہ روزگار ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/pmln_org/status/1651967285282603009"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا اس معاشی سفر کے ارتقا کے لیے ہمیں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ توانائی ہے، اگر آپ کو ایک فیصد معاشی ترقی کرنی ہو تو آپ کو توانائی دو فیصد بڑھانی پڑتی ہے، میں ان لوگوں سے پوچھتا ہوں جو کہہ رہے تھے ملک میں اتنی توانائی ہے کہ ہمیں توانائی کی ضرورت نہیں ہے تو ان کے ذہن میں ملک کی ترقی کا کیا خاکہ تھا کہ یہاں کبھی ترقی نہیں ہوگی، ہر سال چار پانچ فیصد ترقی کے لیے آٹھ یا نو فیصد ہمیں توانائی چاہیے، وہ کہاں سے آئے گی۔</p>
<p>مصدق ملک نے کہا کہ اس صورتحال میں وزیراعظم نے آتے ہی سب سے پہلے ہدایت دی کہ توانائی کے فقدان کو پورا کیا جائے۔</p>
<p>وزیر مملکت نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ مجھے فرانس کے صدر کا فون آیا، میں نے بات نہیں کی، مجھے امریکا والے فون نہیں کر رہے ، مودی میرا فون نہیں اٹھاتا، میں روس گیا تھا وہ مجھے تیل دینے لگے، یہ سب باتیں آپ نے سنی ہیں، کیا وہ تیل ملا؟ روسی سفیر کا وہ بیان چلائیں جس میں اس نے کہا کہ سابق وزیر اعظم سے ہماری کسی تیل کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی، ہماری بات صرف پائپ لائن کی ہوئی تھی، جس کام کا ڈھنڈورا کئی مہینے تک پیٹا گیا، اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی تھی، ہم نے وہ کام چند مہینوں کے اندر وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا۔</p>
<h4><a id="وزیراعظم-نے-10-سے-14-ارب-ڈالر-یعنی-10-سے-14-ہزار-ملین-ڈالر-سے-ریفائنری-لگانے-کی-منظوری-دے-دی" href="#وزیراعظم-نے-10-سے-14-ارب-ڈالر-یعنی-10-سے-14-ہزار-ملین-ڈالر-سے-ریفائنری-لگانے-کی-منظوری-دے-دی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’وزیراعظم نے 10 سے 14 ارب ڈالر یعنی 10 سے 14 ہزار ملین ڈالر سے ریفائنری لگانے کی منظوری دے دی‘</h4>
<p>انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کل بتایا کہ روس سے معاہدہ ہوچکا ہے اور بہت جلد پاکستان کو روسی تیل ملنے والا ہے جس سے تیل کی قیمت نیچے آئے گی اور توانائی کے فقدان کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آج کابینہ کی توانائی کمیٹی کا اجلاس ہوا، اس میں وزیراعظم نے منظوری دی کہ ملک میں 10 سے 14 ارب ڈالر یعنی 10 سے 14 ہزار ملین ڈالر کی لاگت سے یہاں پر ایک ریفائنری لگائی جائے گی، جس کے لیے حکومت پہلے سے تک و دو کر رہی ہے لیکن آج اس پالیسی کو وزیراعظم نے منظور کردیا۔</p>
<p>مصدق ملک نے کہا کہ جیسے روس سے تیل لینے والی بات صرف بات نہیں رہی، اس کو تیل کی شکل دی گئی، اس سے ملک میں تیل کی قیمتیں کم ہوں گی، توانائی میں اضافہ ہوگا، اسی طرح سے  یہ ریفائنری کوئی خواب نہیں ہے بلکہ آج اس کی منظوری دے دی گئی ہے، اس کے لیے انویسمنٹ پیکج، اس کی پالیسی کو حتمی شکل دے کر منظور کرلیا گیا ہے، اب پاکستان میں 10 سے 14 ارب ڈالر کی ریفائنری لگنے جا رہی ہے۔</p>
<h4><a id="-کچھ-لوگ-سستی-گیس-لے-کر-مہنگی-بجلی-گرڈ-کو-بیچ-رہے-تھے" href="#-کچھ-لوگ-سستی-گیس-لے-کر-مہنگی-بجلی-گرڈ-کو-بیچ-رہے-تھے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’ کچھ لوگ سستی گیس لے کر  مہنگی بجلی گرڈ کو بیچ رہے تھے’</h4>
<p>انہوں نے کہا کہ آج کابینہ کمیٹی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ گیس ان سرمایہ کاروں سے جنہوں نے کہا کہ آپ یہ گیس ہمیں دے دیں، ہم اس گیس سے کارخانہ چلائیں گے، ان امیر آدمیوں نے گیس سے کارخانہ چلانے کے بجائے غریب آدمی کی سستی گیس سے بجلی بنا کر مہنگی بیچنی شروع کردی،  آج اس پالیسی کو ختم کردیا گیا ہے، فیکٹریوں سے گیس نہیں لی گئی، فیکٹریوں سے بجلی بنانے کی گیس بھی نہیں لی گئی، وہ اسی طرح سے چلیں گی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ لیکن وہ لوگ جو گیس کو صرف پیسہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے تھے، وہ لوگ جو سستی گیس لے کر بجلی بنا رہے تھے اور پھر وہ بجلی گرڈ کو مہنگی بیچ رہے تھے، وہ سہولت آج ختم کردی گئی ہے، عوام کی گیس عوام کو لوٹا دی گئی ہے، چند امرا سے، چند کمپنیوں سے گیس واپس لے لی گئی ہے اور یہ گیس عوام کو فراہم کی جائے گی، ان فیکڑیوں کو فراہم کی جائے گی جو لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ملک کے بڑے شہروں کو اونچی اونچی بلڈنگز بن رہی ہیں لیکن وہاں گیس کا کوئی انتظام نہیں ہے، آج ایک پالیسی ترتیب دی گئی ہے کہ اس طرح کی بلڈنگز اور ہاؤسنگ اسکیمز میں جہاں پر گیس کی زیادہ ضرورت ہے، وہاں پر ایل پی جی، ایل این جی، سولر سمیت ان تمام چیزوں کی ایک نئی  پالیسی کی منظوری دی گئی ہے جن کے ذریعے ان کو توانائی فراہم کی جاتی ہے اور اب آنے والے وقت میں یہ توانائی آپ کے گھروں کی دہلیز پر فراہم کی جائے گی، کچھ لوگوں کی اجارہ داری کو ختم کردیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس پالیسی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ نہیں ہوگا کہ کسی بھی جگہ، اونچی عمارت یا ہاؤسنگ سوسائٹی میں مالک ہی پلانٹ لگا کر گیس فروخت کرے، وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق مسابقت کو کھول دیا گیا ہے، ان مالکان پر لازمی ہوگا کہ اگر کوئی شخص باہر سے آکر اسی پائپ لائن یا پلانٹ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی گیس، ایل این جی، ایل پی جی بیچنا چاہیے تو وہ بیچ سکتا ہے، اسے کوئی نہیں روک سکے گا، اس طرح سے مقابلے کی فضا پیدا ہوگی اور قیمتیں نیچے آئیں گی، آپ کی سہولت بڑھائی جائے گی۔</p>
<h4><a id="توانائی-کی-بچت-کے-لیے-جامع-پالیسی-کی-بھی-منظوری-دی-گئی" href="#توانائی-کی-بچت-کے-لیے-جامع-پالیسی-کی-بھی-منظوری-دی-گئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’توانائی کی بچت کے لیے جامع پالیسی کی بھی منظوری دی گئی‘</h4>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس اجازت سے مسابقت بڑھے گی، سوئی گیس کمپنیاں بھی وہاں پر جا سکتی ہیں، ایل پی جی، ایل این جی لے کر بھی وہاں جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ ان بلڈنگز کی چھتوں پر کوئی کمپنی سولر پینل لگا کر بجلی فراہم کرنا  چاہے تو اس کی بھی اجازت دی جائے گی۔</p>
<p>وزیر مملکت نے کہا کہ دو ہی چیزیں ہوتی ہیں جن سے قومیں خود کفیل ہوتی ہیں، ان میں سے ایک توانائی کی فراہمی اور دوسری یہ کہ اسے ذمے داری کے ساتھ استعمال کیا جائے، توانائی کی بچت کے لیے ایک جامع پالیسی کی بھی منظوری دی گئی، بجلی، گیس کے ذریعے چلنے والے آلات کے لیے نئے اسٹینڈرڈ بنائے گئے ہیں جس کی تمام تفصیلات آنے والے دنوں میں آپ کے سامنے آجائیں گی، ایک طرف ہم اپنے ان اقدامات سے توانائی کی فراہمی بڑھا رہے ہیں، دوسری طرف ہم اس کی بچت کا کلچر بھی لے کر آ رہے ہیں، یہ توانائی ہمارا اور ہمارے بچوں کا مستقبل ہے، ضائع کی جانے والی توانائی پیداواری کاموں میں استعمال کی جا سکتی ہے جس سے روزگار پیدا ہوگا۔</p>
<p>مصدق ملک نے کہا کہ ہمیں سیاست کے سوا کوئی اور بات سوجھتی نہیں ہے تو وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہے ہماری سیاست، یہ سائفر نہیں ہے، یہ معاہدے، یہ اقدامات ہماری سیاست ہیں، ہماری سیاست قوم اور اس کے لیے توانائی ہے، ہماری سیاست جھوٹے بیانات نہیں، روس سے حقیقت میں آنے والا تیل ہے، وہ 10 سے 14 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے جس سے توانائی کا ایک نیا شہر تعمیر ہوگا،  اس کے علاوہ ہماری اور بہت سی پالیسیز چل رہی ہیں، جو چیزیں ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں، ان کو آپ کے سامنے لاتے رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201744</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Apr 2023 22:48:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/281953226bdd57c.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/281953226bdd57c.png"/>
        <media:title>مصدق ملک نے کہا کہ معاشی سفر کے ارتقا کے لیے ہمیں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ توانائی ہے—فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
