<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:47:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:47:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: لدھیانہ کی فیکٹری میں گیس کا اخراج، 9 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201835/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ کی ایک فیکٹری میں گیس لیکیج کی وجہ سے 9 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 11 افراد کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق ’اے این آئی‘ کی جانب سے شیئر گئی ویڈیو میں نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ایک ٹیم جائے حادثہ پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ماسک پہنے ہوئے پولیس اہلکار گشت کر رہے ہیں اور مقامی افراد کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این آئی نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی ایک ٹیم بھی موقع پر موجود تھی جبکہ پولیس نے علاقے کو سیل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1185904"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این آئی نے مغربی لدھیانہ کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ سواتی کے حوالے سے بتایا کہ یقیناً یہ گیس لیکیج کا کیس ہے، لوگوں کو بچانے کرنے کے لیے این ڈی آر ایف کی ٹیم موجود ہے اور ریسکیو آپریشن کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر پر اے این آئی کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ایک مقامی شخص کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ مجھے پتا چلا ہے کہ میری فیملی کے 5 ممبر بے ہوش ہیں جبکہ پولیس افسران اس کو حادثے کی جگہ جانے سے روک رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ویڈیو میں رہائشی انجان کمار رپورٹرز کو بتارہے ہیں کہ فیکٹری سے اخراج ہونے والی گیس زہریلی ہے اور اگر کوئی اس کے اردگرد ہو تو وہ سانس لینے کے قابل نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1652538467182874624"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1185904/"&gt;&lt;strong&gt;اگست 2022&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بھی بھارت میں اپیرل مینوفیکچرنگ کے پلانٹ میں گیس لیکیج کے سبب کم از کم 112 خواتین کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا، تاہم اس وقت کوئی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1129890"&gt;&lt;strong&gt;مئی 2020&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بھی ساحلی شہر آندھرا پردیش میں کیمیکل پلانٹ میں گیس لیک ہونے کی وجہ سے 5 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ کی ایک فیکٹری میں گیس لیکیج کی وجہ سے 9 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 11 افراد کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق ’اے این آئی‘ کی جانب سے شیئر گئی ویڈیو میں نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ایک ٹیم جائے حادثہ پر موجود ہے۔</p>
<p>ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ماسک پہنے ہوئے پولیس اہلکار گشت کر رہے ہیں اور مقامی افراد کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔</p>
<p>اے این آئی نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی ایک ٹیم بھی موقع پر موجود تھی جبکہ پولیس نے علاقے کو سیل کر دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1185904"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اے این آئی نے مغربی لدھیانہ کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ سواتی کے حوالے سے بتایا کہ یقیناً یہ گیس لیکیج کا کیس ہے، لوگوں کو بچانے کرنے کے لیے این ڈی آر ایف کی ٹیم موجود ہے اور ریسکیو آپریشن کیا جائے گا۔</p>
<p>ٹوئٹر پر اے این آئی کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ایک مقامی شخص کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ مجھے پتا چلا ہے کہ میری فیملی کے 5 ممبر بے ہوش ہیں جبکہ پولیس افسران اس کو حادثے کی جگہ جانے سے روک رہے ہیں۔</p>
<p>ایک اور ویڈیو میں رہائشی انجان کمار رپورٹرز کو بتارہے ہیں کہ فیکٹری سے اخراج ہونے والی گیس زہریلی ہے اور اگر کوئی اس کے اردگرد ہو تو وہ سانس لینے کے قابل نہیں رہے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ANI/status/1652538467182874624"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1185904/"><strong>اگست 2022</strong></a> میں بھی بھارت میں اپیرل مینوفیکچرنگ کے پلانٹ میں گیس لیکیج کے سبب کم از کم 112 خواتین کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا، تاہم اس وقت کوئی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔</p>
<p>اسی طرح <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1129890"><strong>مئی 2020</strong></a> میں بھی ساحلی شہر آندھرا پردیش میں کیمیکل پلانٹ میں گیس لیک ہونے کی وجہ سے 5 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201835</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Apr 2023 14:43:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/301255300544721.png?r=135830" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/301255300544721.png?r=135830"/>
        <media:title>ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ماسک پہنے ہوئے پولیس اہلکار گشت کررہے ہیں — فوٹو: اے این آئی / ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
