<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:09:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:09:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملازمت پیشہ افراد میں بلڈ پریشر بڑھنے کی اہم وجہ دریافت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201914/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگرچہ دنیا میں اس وقت بلڈ پریشر اور تناؤ میں دیگر شعبہ جات کے افراد بھی مبتلا ہیں، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ تر ملازمت پیشہ افراد ایسی طبی پیچیدگیوں کا شکار رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حوالے سے امریکی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ملازمت پیشہ افراد میں بلڈ پریشر اور تناؤ یعنی پریشانی کا مرض انہیں دفاتر میں پیش آنے والے مسائل کی وجہ سے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://newsroom.heart.org/news/u-s-adults-who-felt-discrimination-at-work-faced-increased-risk-of-high-blood-pressure?preview=65e7"&gt;&lt;strong&gt;’ہارٹ‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق امریکی ماہرین کی جانب سے ملازمت پیشہ افراد میں بلڈ پریشر کی وجوہات جاننے کے لیے 2004 میں تحقیق شروع کی گئی، جس میں 1240 سے زائد افراد کی رضاکارانہ خدمات حاصل کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضاکاروں میں سے نصف خواتین تھیں اور تمام رضاکار اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، جنہوں نے بعد ازاں مختلف اداروں میں ملازمتیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کو 8 سال تک جاری رکھا گیا اور 2014 تک تمام رضاکاروں کے فالو اَپ کیے گئے اور ان کا بلڈ پریشر چیک کرنے سمیت ان سے غذائیت، طرز زندگی، شراب نوشی و سگریٹ نوشی سے متعلق بھی معلومات حاصل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1029478"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں ان افراد سے ملازمت کے دوران دفاتر یا اداروں میں اپنے ساتھ پیش آنے والے سلوک سے متعلق بھی پوچھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں شامل زیادہ تر رضاکار صحت مند طرز زندگی گزارنے والے تھے اور ان میں سے زیادہ تر افراد نہ تو سگریٹ نوشی کرتے تھے اور نہ ہی ان میں شراب پینے کی عادت تھی لیکن اس باوجود وہ بلڈ پریشر کا شکار ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1240 میں سے 319 رضاکاروں میں 8 سال بعد ہائی بلڈ پریشر تشخیص ہوا اور ایسے رضاکاروں کی عمریں 45 سال تک تھیں، تاہم بعض رضاکار 54 سال کی عمر کے بھی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں ان رضاکاروں میں شدید تناؤ، غصہ اور اسٹریس بھی تشخیص کیا گیا جو کہ جسم میں انفلیمیشن بڑھانے کا سبب بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے والے رضاکاروں سے دفاتر میں پیش آنے والے مسائل سے متعلق سوالات کیے تو معلوم ہوا تمام افراد ناروا سلوک کا شکار رہے تھے، ان کے ساتھ دفتر یا اداروں میں اچھے طریقے سے برتاؤ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دفاتر میں کم ناروا سلوک کا سامنا کرنے والے افراد میں بلڈ پریشر اور تناؤ کی کم سطح ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر اور تناؤ دونوں مل کر امراض قلب جیسی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے دفاتر کے نظم و ضوابط کو بہتر بناکر ملازمین کو بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگرچہ دنیا میں اس وقت بلڈ پریشر اور تناؤ میں دیگر شعبہ جات کے افراد بھی مبتلا ہیں، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ تر ملازمت پیشہ افراد ایسی طبی پیچیدگیوں کا شکار رہتے ہیں۔</p>
<p>اسی حوالے سے امریکی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ملازمت پیشہ افراد میں بلڈ پریشر اور تناؤ یعنی پریشانی کا مرض انہیں دفاتر میں پیش آنے والے مسائل کی وجہ سے ہوتا ہے۔</p>
<p>طبی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://newsroom.heart.org/news/u-s-adults-who-felt-discrimination-at-work-faced-increased-risk-of-high-blood-pressure?preview=65e7"><strong>’ہارٹ‘</strong></a> کے مطابق امریکی ماہرین کی جانب سے ملازمت پیشہ افراد میں بلڈ پریشر کی وجوہات جاننے کے لیے 2004 میں تحقیق شروع کی گئی، جس میں 1240 سے زائد افراد کی رضاکارانہ خدمات حاصل کی گئیں۔</p>
<p>رضاکاروں میں سے نصف خواتین تھیں اور تمام رضاکار اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، جنہوں نے بعد ازاں مختلف اداروں میں ملازمتیں کیں۔</p>
<p>تحقیق کو 8 سال تک جاری رکھا گیا اور 2014 تک تمام رضاکاروں کے فالو اَپ کیے گئے اور ان کا بلڈ پریشر چیک کرنے سمیت ان سے غذائیت، طرز زندگی، شراب نوشی و سگریٹ نوشی سے متعلق بھی معلومات حاصل کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1029478"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>علاوہ ازیں ان افراد سے ملازمت کے دوران دفاتر یا اداروں میں اپنے ساتھ پیش آنے والے سلوک سے متعلق بھی پوچھا گیا۔</p>
<p>تحقیق میں شامل زیادہ تر رضاکار صحت مند طرز زندگی گزارنے والے تھے اور ان میں سے زیادہ تر افراد نہ تو سگریٹ نوشی کرتے تھے اور نہ ہی ان میں شراب پینے کی عادت تھی لیکن اس باوجود وہ بلڈ پریشر کا شکار ہوگئے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1240 میں سے 319 رضاکاروں میں 8 سال بعد ہائی بلڈ پریشر تشخیص ہوا اور ایسے رضاکاروں کی عمریں 45 سال تک تھیں، تاہم بعض رضاکار 54 سال کی عمر کے بھی تھے۔</p>
<p>علاوہ ازیں ان رضاکاروں میں شدید تناؤ، غصہ اور اسٹریس بھی تشخیص کیا گیا جو کہ جسم میں انفلیمیشن بڑھانے کا سبب بنا۔</p>
<p>ماہرین نے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے والے رضاکاروں سے دفاتر میں پیش آنے والے مسائل سے متعلق سوالات کیے تو معلوم ہوا تمام افراد ناروا سلوک کا شکار رہے تھے، ان کے ساتھ دفتر یا اداروں میں اچھے طریقے سے برتاؤ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>اسی طرح دفاتر میں کم ناروا سلوک کا سامنا کرنے والے افراد میں بلڈ پریشر اور تناؤ کی کم سطح ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر اور تناؤ دونوں مل کر امراض قلب جیسی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے دفاتر کے نظم و ضوابط کو بہتر بناکر ملازمین کو بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201914</guid>
      <pubDate>Mon, 01 May 2023 18:23:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/01153930e1067b3.jpg?r=182301" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/01153930e1067b3.jpg?r=182301"/>
        <media:title>— فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
