<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:03:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 16:03:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی خطے کے 9 ممالک کیلئے برآمدات 28 فیصد گر گئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201964/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی خطے کے 9 ممالک کے لیے برآمدات رواں مالی سال کے ابتدائی 9 مہینے کے دوران 28.28 فیصد گر گئیں، جس کی بنیادی وجہ چین کو شپمنٹس میں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1750417/exports-to-nine-regional-states-drop-28pc"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق صرف برآمدات میں کمی نہیں ہوئی بلکہ خاص طور پر چین سے درآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی، حکومت کے کفایت شعاری اقدامات کے تحت درآمدی کنٹینرز کو کلیئرنس کا انتظار ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے صارفین کی اشیا کے لیے لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے کو ترجیح نہیں دی جارہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے لیے برآمدات کم ہو کر 2 ارب 74 کروڑ ڈالر رہ گئیں، جو مالی سال 2023 میں جولائی تا مارچ کے دوران پاکستان کی کل برآمدات (21 ارب 5 کروڑ ڈالر) کا صرف 13.83 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان علاقائی ممالک میں سب سے زیادہ برآمدات چین کو کرتا ہے جبکہ دیگر زیادہ آبادی والے ملک بھارت اور بنگلہ دیش پیچھے رہ گئے، تاہم پاکستان کی چین کے لیے برآمدات میں رواں مالی سال کے ابتدائی 9 مہینوں کے دوران سالانہ بنیادوں پر منفی نمو دیکھی گئی، پاکستان خطے کے ممالک کے لیے کُل برآمدات کا 55 فیصد چین کو بھیجتا ہے جبکہ باقی برآمدات دیگر 8 ملکوں کو کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2023 میں جولائی سے مارچ کے دوران پاکستان کی چین کے لیے برآمدات 28.31 فیصد کم ہو کر ایک ارب 52 کروڑ ڈالر رہ گئیں، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 2 ارب 12 کروڑ ڈالر تھی، کووڈ-19 کے بعد پہلی بار چین کو برآمدات میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم چین سے درآمدات بھی 48.36 فیصد تنزلی کے بعد 7 ارب 74 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان کی افغانستان کے لیے برآمدات جولائی-مارچ کے دوران 8.42 فیصد اضافے کے بعد 40 کروڑ 7 لاکھ ڈالر ہوگئیں، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 36 کروڑ 96 لاکھ ڈالر تھیں، کچھ عرصے قبل پاکستان کے لیے امریکا کے بعد افغانستان بڑی برآمدی منڈی تھی، اس میں زمینی راستے کے ذریعے ہونے والی برآمدات شامل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کے لیے برآمدات میں اگست 2021 میں کمی آنا شروع ہوئی تھی، حکومت نے طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد روپے میں درآمدات کی اجازت دی، روپے میں ہونے والی درآمدات اعداد و شمار میں شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے افغانستان اور ایران سے پیاز اور ٹماٹر کی درآمدات پر ڈیوٹی اور ٹیکسز ختم کر دیے تھے، جس کی وجہ سے ان اشیا کی درآمدات میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران بڑا اضافہ دیکھا گیا تاکہ مقامی مارکیٹ میں قلت پر قابو پایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے ابتدائی 9 مہینے کے دوران پاکستان کی ایران کے لیے باضابطہ برآمدات 27 ہزار ڈالر رہیں جو گزشتہ برس صفر تھیں، ایران کے ساتھ زیادہ تر تجارت بلوچستان کے ذریعے غیر رسمی چینلز کے ذریعے ہوتی ہے، حکومت نے تفتان اور گوادر سرحد سے پیاز اور ٹماٹر کی درآمدات کی اجازت دی، پاکستان ایران کے ساتھ بارٹر تجارت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی بھارت کو مالی سال 2023 کے ابتدائی 9 مہینے کے دوران برآمدات 78.83 فیصد کمی کے بعد 2 لاکھ 21 ہزار ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 10 لاکھ ڈالر تھیں، گزشتہ برس پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے کھڑی فصلیں تباہ ہونے کے سبب سبزیوں کی مقامی سطح پر قیمتیں زیادہ ہو گئی تھیں، جس کی وجہ سے واہگہ بارڈر کے ذریعے کپاس اور سبزیوں کی درآمدات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کو برآمدات 9.24 فیصد گرنے کے بعد 58 کروڑ 82 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئیں جو گزشتہ برس 64 کروڑ 82 لاکھ ڈالر تھیں، سری لنکا کے لیے برآمدات 21.75 فیصد کمی کے بعد 22 کروڑ 28 لاکھ ڈالررہ گئیں جو گزشتہ برس اسی عرصے میں 28 کروڑ 82 لاکھ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان کی نیپال کے لیے برآمدات 53.84 فیصد کم ہو کر 22 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی سطح پر آگئیں جو مالی سال 2022 کے ابتدائی 9 مہینے کے دوران 47 لاکھ 93 ہزار ڈالر تھیں جبکہ مالدیپ کے لیے برآمدات 21.84 فیصد اضافہ ہونے کے بعد 61 لاکھ 85 ہزار ڈالر پر پہنچ گئیں، بھوٹان کے لیے زیر جائزہ مدت میں برآمدات محض 48 ہزار ڈالر ریکارڈ کی گئی جس میں گزشتہ سال کی نسبت 92 فیصد اضافہ ہے، جب برآمدات 25 ہزار ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی خطے کے 9 ممالک کے لیے برآمدات رواں مالی سال کے ابتدائی 9 مہینے کے دوران 28.28 فیصد گر گئیں، جس کی بنیادی وجہ چین کو شپمنٹس میں کمی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1750417/exports-to-nine-regional-states-drop-28pc"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق صرف برآمدات میں کمی نہیں ہوئی بلکہ خاص طور پر چین سے درآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی، حکومت کے کفایت شعاری اقدامات کے تحت درآمدی کنٹینرز کو کلیئرنس کا انتظار ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے صارفین کی اشیا کے لیے لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے کو ترجیح نہیں دی جارہی۔</p>
<p>ملک کی افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے لیے برآمدات کم ہو کر 2 ارب 74 کروڑ ڈالر رہ گئیں، جو مالی سال 2023 میں جولائی تا مارچ کے دوران پاکستان کی کل برآمدات (21 ارب 5 کروڑ ڈالر) کا صرف 13.83 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>پاکستان علاقائی ممالک میں سب سے زیادہ برآمدات چین کو کرتا ہے جبکہ دیگر زیادہ آبادی والے ملک بھارت اور بنگلہ دیش پیچھے رہ گئے، تاہم پاکستان کی چین کے لیے برآمدات میں رواں مالی سال کے ابتدائی 9 مہینوں کے دوران سالانہ بنیادوں پر منفی نمو دیکھی گئی، پاکستان خطے کے ممالک کے لیے کُل برآمدات کا 55 فیصد چین کو بھیجتا ہے جبکہ باقی برآمدات دیگر 8 ملکوں کو کی جاتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مالی سال 2023 میں جولائی سے مارچ کے دوران پاکستان کی چین کے لیے برآمدات 28.31 فیصد کم ہو کر ایک ارب 52 کروڑ ڈالر رہ گئیں، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 2 ارب 12 کروڑ ڈالر تھی، کووڈ-19 کے بعد پہلی بار چین کو برآمدات میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم چین سے درآمدات بھی 48.36 فیصد تنزلی کے بعد 7 ارب 74 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔</p>
<p>تاہم پاکستان کی افغانستان کے لیے برآمدات جولائی-مارچ کے دوران 8.42 فیصد اضافے کے بعد 40 کروڑ 7 لاکھ ڈالر ہوگئیں، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 36 کروڑ 96 لاکھ ڈالر تھیں، کچھ عرصے قبل پاکستان کے لیے امریکا کے بعد افغانستان بڑی برآمدی منڈی تھی، اس میں زمینی راستے کے ذریعے ہونے والی برآمدات شامل نہیں ہیں۔</p>
<p>افغانستان کے لیے برآمدات میں اگست 2021 میں کمی آنا شروع ہوئی تھی، حکومت نے طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد روپے میں درآمدات کی اجازت دی، روپے میں ہونے والی درآمدات اعداد و شمار میں شامل نہیں۔</p>
<p>حکومت نے افغانستان اور ایران سے پیاز اور ٹماٹر کی درآمدات پر ڈیوٹی اور ٹیکسز ختم کر دیے تھے، جس کی وجہ سے ان اشیا کی درآمدات میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران بڑا اضافہ دیکھا گیا تاکہ مقامی مارکیٹ میں قلت پر قابو پایا جاسکے۔</p>
<p>رواں مالی سال کے ابتدائی 9 مہینے کے دوران پاکستان کی ایران کے لیے باضابطہ برآمدات 27 ہزار ڈالر رہیں جو گزشتہ برس صفر تھیں، ایران کے ساتھ زیادہ تر تجارت بلوچستان کے ذریعے غیر رسمی چینلز کے ذریعے ہوتی ہے، حکومت نے تفتان اور گوادر سرحد سے پیاز اور ٹماٹر کی درآمدات کی اجازت دی، پاکستان ایران کے ساتھ بارٹر تجارت کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ملک کی بھارت کو مالی سال 2023 کے ابتدائی 9 مہینے کے دوران برآمدات 78.83 فیصد کمی کے بعد 2 لاکھ 21 ہزار ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 10 لاکھ ڈالر تھیں، گزشتہ برس پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے کھڑی فصلیں تباہ ہونے کے سبب سبزیوں کی مقامی سطح پر قیمتیں زیادہ ہو گئی تھیں، جس کی وجہ سے واہگہ بارڈر کے ذریعے کپاس اور سبزیوں کی درآمدات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>بنگلہ دیش کو برآمدات 9.24 فیصد گرنے کے بعد 58 کروڑ 82 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئیں جو گزشتہ برس 64 کروڑ 82 لاکھ ڈالر تھیں، سری لنکا کے لیے برآمدات 21.75 فیصد کمی کے بعد 22 کروڑ 28 لاکھ ڈالررہ گئیں جو گزشتہ برس اسی عرصے میں 28 کروڑ 82 لاکھ ڈالر تھیں۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان کی نیپال کے لیے برآمدات 53.84 فیصد کم ہو کر 22 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی سطح پر آگئیں جو مالی سال 2022 کے ابتدائی 9 مہینے کے دوران 47 لاکھ 93 ہزار ڈالر تھیں جبکہ مالدیپ کے لیے برآمدات 21.84 فیصد اضافہ ہونے کے بعد 61 لاکھ 85 ہزار ڈالر پر پہنچ گئیں، بھوٹان کے لیے زیر جائزہ مدت میں برآمدات محض 48 ہزار ڈالر ریکارڈ کی گئی جس میں گزشتہ سال کی نسبت 92 فیصد اضافہ ہے، جب برآمدات 25 ہزار ڈالر تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201964</guid>
      <pubDate>Tue, 02 May 2023 14:13:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/02101140f20b003.jpg?r=141211" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/02101140f20b003.jpg?r=141211"/>
        <media:title>مالی سال 2023 میں جولائی سے مارچ کے دوران پاکستان کی چین کے لیے برآمدات 28.31 فیصد کم ہو کر ایک ارب 52 کروڑ ڈالر رہ گئیں — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
