<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:27:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:27:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملکی برآمدات میں اپریل میں 27 فیصد تنزلی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202036/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی برآمدات میں مسلسل 8 مہینے سے تنزلی جاری ہے، جو اپریل میں سالانہ بنیادوں پر 26.68 فیصد سکڑ کر 2 ارب 12 کروڑ ڈالر رہ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1750625/exports-plunge-by-27pc-in-april"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 10 مہینے (جولائی تا اپریل) کے دوران برآمدات 11.71 فیصد گر کر 23 ارب 17 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 26 ارب 24 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات میں اندرونی و بیرونی عوامل ہیں، جن کے سبب خاص طور پر ٹیکسٹائل یونٹس کی بندش کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ اپریل میں درآمدات بھی 55.67 فیصد کمی کے بعد 2 ارب 95 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ برس اسی مہینے میں 6 ارب 66 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، جولائی تا اپریل کے دوران درآمدات 28.44 فیصد کم ہونے کے بعد 46 ارب 88 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئیں جو گزشتہ برس اسی عرصے میں 65 ارب 51 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2023 میں جولائی تا اپریل کے دوران تجارتی خسارے میں 39.62 فیصد تنزلی ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ برس کے 39 ارب 27 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 23 ارب 71 کروڑ ڈالر رہ گیا، اپریل میں سالانہ بنیادوں پر تجارتی خسارہ 77.98 فیصد گر کر 82 کروڑ کی سطح پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات میں منفی نمو رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی میں شروع ہوئی جبکہ اگست میں معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا، برآمدات میں کمی ایک تشویشناک عنصر ہے، جو ملک کے بیرونی کھاتے میں توازن پیدا کرنے میں مسائل پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل اور کپڑے کا ملکی برآمدات میں 60 فیصد سے زائد حصہ ہے، اس میں کمی سے حکومت کے لیے برآمدی ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی حکمت عملی کے فقدان اور مؤثر طریقے سے ترجیح دینے میں ناکامی کے باعث ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی آرہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں تنزلی کی بنیادی وجہ میں سرمائے کی قلت، ریفنڈز کا پھنسنا جیسا کے سیلز ٹیکس، مؤخر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، مقامی ٹیکسز اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرا بیک، ٹیکنالوجی کو اَپ گریڈ کرنے کا فنڈ اور ڈیوٹی ڈرا بیک شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ بدقسمتی سے ریفنڈ کا تیز تر نظام ارادے کے مطابق کام نہیں کر رہا ہے، اب ریفنڈز میں 72 گھنٹے کے بجائے 3 سے 5 مہینے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان نے مزید کہا کہ شعبے کو مالیاتی اور توانائی کی لاگت میں نمایاں اضافے کا بھی سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی برآمدات میں مسلسل 8 مہینے سے تنزلی جاری ہے، جو اپریل میں سالانہ بنیادوں پر 26.68 فیصد سکڑ کر 2 ارب 12 کروڑ ڈالر رہ گئیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1750625/exports-plunge-by-27pc-in-april"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 10 مہینے (جولائی تا اپریل) کے دوران برآمدات 11.71 فیصد گر کر 23 ارب 17 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 26 ارب 24 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات میں اندرونی و بیرونی عوامل ہیں، جن کے سبب خاص طور پر ٹیکسٹائل یونٹس کی بندش کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ اپریل میں درآمدات بھی 55.67 فیصد کمی کے بعد 2 ارب 95 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ برس اسی مہینے میں 6 ارب 66 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، جولائی تا اپریل کے دوران درآمدات 28.44 فیصد کم ہونے کے بعد 46 ارب 88 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئیں جو گزشتہ برس اسی عرصے میں 65 ارب 51 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مالی سال 2023 میں جولائی تا اپریل کے دوران تجارتی خسارے میں 39.62 فیصد تنزلی ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ برس کے 39 ارب 27 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 23 ارب 71 کروڑ ڈالر رہ گیا، اپریل میں سالانہ بنیادوں پر تجارتی خسارہ 77.98 فیصد گر کر 82 کروڑ کی سطح پر آگیا۔</p>
<p>برآمدات میں منفی نمو رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی میں شروع ہوئی جبکہ اگست میں معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا، برآمدات میں کمی ایک تشویشناک عنصر ہے، جو ملک کے بیرونی کھاتے میں توازن پیدا کرنے میں مسائل پیدا کرے گا۔</p>
<p>ٹیکسٹائل اور کپڑے کا ملکی برآمدات میں 60 فیصد سے زائد حصہ ہے، اس میں کمی سے حکومت کے لیے برآمدی ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔</p>
<p>برآمد کنندگان نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی حکمت عملی کے فقدان اور مؤثر طریقے سے ترجیح دینے میں ناکامی کے باعث ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی آرہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں تنزلی کی بنیادی وجہ میں سرمائے کی قلت، ریفنڈز کا پھنسنا جیسا کے سیلز ٹیکس، مؤخر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، مقامی ٹیکسز اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرا بیک، ٹیکنالوجی کو اَپ گریڈ کرنے کا فنڈ اور ڈیوٹی ڈرا بیک شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ بدقسمتی سے ریفنڈ کا تیز تر نظام ارادے کے مطابق کام نہیں کر رہا ہے، اب ریفنڈز میں 72 گھنٹے کے بجائے 3 سے 5 مہینے لگتے ہیں۔</p>
<p>برآمد کنندگان نے مزید کہا کہ شعبے کو مالیاتی اور توانائی کی لاگت میں نمایاں اضافے کا بھی سامنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202036</guid>
      <pubDate>Wed, 03 May 2023 14:02:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/03105517424107b.gif?r=140342" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/03105517424107b.gif?r=140342"/>
        <media:title>اپریل میں درآمدات بھی 55.67 فیصد کمی کے بعد 2 ارب 95 کروڑ ڈالر رہ گئیں — فائل فوٹو: وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
