<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:28:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:28:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نوجوان نے آرٹ کا حصہ رہنے والا تین کروڑ روپے کا کیلا کھالیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202270/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی کوریائی طالب علم نے دنیا کے مہنگے ترین ’بنانا آرٹ‘ کا حصہ رہنے والے تقریبا ساڑھے تین کروڑ روپے کی مالیت کے کیلے کو کھانے کے بعد اس کا چھلکا دیوار پر لٹکا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ہاں، جنوبی کوریا کے کالج کے طالب علم نے میوزیم کے دورے کے دوران ایک لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی ساڑھے تین کروڑ روپے کی مالیت کے آرٹ کا حصہ رہنے والے کیلے کو کھالیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.independent.co.uk/asia/east-asia/comedian-banana-art-eaten-maurizio-cattelan-b2330205.html"&gt;&lt;strong&gt;’دی انڈیپینڈنٹ‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مذکورہ ’بنانا آرٹ‘ کیلے کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے ایک میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ’بنانا آرٹ‘ اطالوی آرٹسٹ موریزیو کیٹیلن نے 2018 میں بنایا تھا اور اس کی دو کاپیاں 2019 میں امریکی شہر میامی میں ریکارڈ قیمت پر فروخت ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/061439254809c94.jpg'  alt='&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ آرٹ کوئی پینٹنگ نہیں بلکہ دیوار پر ٹیپ کی مدد سے کیلے کو چپکانے کا ایک نمونہ ہے، جس میں کیلے کو ہر دو یا تین دن بعد تبدیل کردیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطالوی آرٹسٹ مذکورہ آرٹ کو شاہکار قرار دیتے ہوئے اسے دنیا کے مختلف شہروں میں نمائش اور فروخت کے لیے پیش کرتے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی سلسلے میں انہوں نے سیول کے میوزم کی دیوار پر ٹیپ کی مدد سے کیلے کو چپکا کر اسے نمائش اور فروخت کے لیے پیش کیا، تاہم اس بار بھی ان کے کیلے کو ایک طالب علم کھا گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کی میڈیا کے مطابق طالب علم نے میوزیم کے دورے کے دوران کیلے کو ٹیپ سے نکال کر کھالیا اور بعد ازاں اس کے چھلکے وہیں لٹکا دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/06144002d97ba93.jpg'  alt='&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالب علم کی جانب سے کیلے کو کھانے کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی اور انہوں نے بعد ازاں میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے صبح کو ناشتہ نہیں کیا تھا، اس لیے بھوک لگنے پر انہوں نے کیلے کو نکال کر کھالیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ موریزیو کیٹیلن آرٹسٹ کے اسی ’بنانا آرٹ‘ کے کیلے کو 2019 میں ایک امریکی کامیڈین نے بھی میوزیم میں نمائش کے دوران کھالیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ آرٹ کے تحت میوزیم کی دیوار پر سفید رنگ کی ٹیپ چپکائی جاتی ہے، جس میں کیلے کو لٹکا دیا جاتا ہے اور نمائش کے دوران ہر تین دن بعد کیلے کو تبدیل کرکے وہاں عام تازہ کیلا رکھ دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطالوی آرٹسٹ موریزیو کیٹیلن نے اپنے مذکورہ شاہکار آرٹ کے نمونے کی قیمت ایک لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا ساڑھے تین کروڑ روپے رکھی ہے اور اب تک وہ مذکورہ آرٹ سے پاکستانی پانچ کروڑ روپے سے زائد کی کمائی بھی کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ آرٹ کے نمونے کو خریدنے والے افراد کو ٹیپ اور کیلا دیا جاتا ہے اور انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ وہ گھر کی دیوار پر ٹیپ کو چپکا کر ہر تیسرے دن کیلے کو تبدیل کرلیا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/XMRK0a-nK9c?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی کوریائی طالب علم نے دنیا کے مہنگے ترین ’بنانا آرٹ‘ کا حصہ رہنے والے تقریبا ساڑھے تین کروڑ روپے کی مالیت کے کیلے کو کھانے کے بعد اس کا چھلکا دیوار پر لٹکا دیا۔</p>
<p>جی ہاں، جنوبی کوریا کے کالج کے طالب علم نے میوزیم کے دورے کے دوران ایک لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی ساڑھے تین کروڑ روپے کی مالیت کے آرٹ کا حصہ رہنے والے کیلے کو کھالیا۔</p>
<p>برطانوی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.independent.co.uk/asia/east-asia/comedian-banana-art-eaten-maurizio-cattelan-b2330205.html"><strong>’دی انڈیپینڈنٹ‘</strong></a> کے مطابق مذکورہ ’بنانا آرٹ‘ کیلے کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے ایک میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔</p>
<p>مذکورہ ’بنانا آرٹ‘ اطالوی آرٹسٹ موریزیو کیٹیلن نے 2018 میں بنایا تھا اور اس کی دو کاپیاں 2019 میں امریکی شہر میامی میں ریکارڈ قیمت پر فروخت ہوئی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/061439254809c94.jpg'  alt='&mdash;اسکرین شاٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—اسکرین شاٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>مذکورہ آرٹ کوئی پینٹنگ نہیں بلکہ دیوار پر ٹیپ کی مدد سے کیلے کو چپکانے کا ایک نمونہ ہے، جس میں کیلے کو ہر دو یا تین دن بعد تبدیل کردیا جاتا ہے۔</p>
<p>اطالوی آرٹسٹ مذکورہ آرٹ کو شاہکار قرار دیتے ہوئے اسے دنیا کے مختلف شہروں میں نمائش اور فروخت کے لیے پیش کرتے آ رہے ہیں۔</p>
<p>اسی سلسلے میں انہوں نے سیول کے میوزم کی دیوار پر ٹیپ کی مدد سے کیلے کو چپکا کر اسے نمائش اور فروخت کے لیے پیش کیا، تاہم اس بار بھی ان کے کیلے کو ایک طالب علم کھا گئے۔</p>
<p>جنوبی کوریا کی میڈیا کے مطابق طالب علم نے میوزیم کے دورے کے دوران کیلے کو ٹیپ سے نکال کر کھالیا اور بعد ازاں اس کے چھلکے وہیں لٹکا دیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/05/06144002d97ba93.jpg'  alt='&mdash;اسکرین شاٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—اسکرین شاٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>طالب علم کی جانب سے کیلے کو کھانے کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی اور انہوں نے بعد ازاں میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے صبح کو ناشتہ نہیں کیا تھا، اس لیے بھوک لگنے پر انہوں نے کیلے کو نکال کر کھالیا۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ موریزیو کیٹیلن آرٹسٹ کے اسی ’بنانا آرٹ‘ کے کیلے کو 2019 میں ایک امریکی کامیڈین نے بھی میوزیم میں نمائش کے دوران کھالیا تھا۔</p>
<p>مذکورہ آرٹ کے تحت میوزیم کی دیوار پر سفید رنگ کی ٹیپ چپکائی جاتی ہے، جس میں کیلے کو لٹکا دیا جاتا ہے اور نمائش کے دوران ہر تین دن بعد کیلے کو تبدیل کرکے وہاں عام تازہ کیلا رکھ دیا جاتا ہے۔</p>
<p>اطالوی آرٹسٹ موریزیو کیٹیلن نے اپنے مذکورہ شاہکار آرٹ کے نمونے کی قیمت ایک لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا ساڑھے تین کروڑ روپے رکھی ہے اور اب تک وہ مذکورہ آرٹ سے پاکستانی پانچ کروڑ روپے سے زائد کی کمائی بھی کر چکے ہیں۔</p>
<p>مذکورہ آرٹ کے نمونے کو خریدنے والے افراد کو ٹیپ اور کیلا دیا جاتا ہے اور انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ وہ گھر کی دیوار پر ٹیپ کو چپکا کر ہر تیسرے دن کیلے کو تبدیل کرلیا کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/XMRK0a-nK9c?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202270</guid>
      <pubDate>Sat, 06 May 2023 14:42:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/0614362991fb958.jpg?r=143801" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/0614362991fb958.jpg?r=143801"/>
        <media:title>——فوٹو: انسٹاگرام
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
