<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 17:01:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Apr 2026 17:01:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: راجستھان میں لڑاکا طیارہ مگ-21 گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202366/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت میں لڑاکا طیارہ مگ-21 پرواز کے دوران ایک گھر پر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس افسر سدھیر چوہدری نے بتایا کہ مگ 21 طیارہ ایک گھر پر گر گیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے تاہم پائلٹ کو بحفاظت نکال لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1655448546055954437"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ایئر فورس (آئی اے ایف) نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پائلٹ باہر نکل گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی اے ایف نے ٹوئٹ میں بتایا کہ بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ مگ-21 معمول کی تربیتی پرواز کے دوران کریش کر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ پائلٹ بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہا، تاہم اسے معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں، حادثے کی تحقیقات کے لیے انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IAF_MCC/status/1655446544164995075"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے (4 مئی 2023) کو بھارت کے فوجی ہیلی کاپٹر کی مقبوضہ کشمیر کے علاقے کشتوار میں ’ہنگامی لینڈنگ‘ کی وجہ سے دو پائلٹ اور ایک ٹیکنیشن زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کے مطابق بھارتی فوج کے ہیلی کاپٹر نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے کشتوار میں ہنگامی لینڈنگ کی جس کی وجہ سے دو پائلٹ اور ایک ٹیکنیشن زخمی ہوگئے جن کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے ادھم پور میں کمانڈ ہسپتال منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1185638"&gt;&lt;strong&gt;جولائی 2022&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بھی لڑاکا طیارہ مگ-21 تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 2 پائلٹ ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1150917"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگ-21 جیٹ طیاروں کو پہلی بار 1960 کی دہائی میں بھارتی سروس میں شامل کیا گیا جنہوں نے کئی دہائیوں تک بھارتی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں ہونے والے متعدد حادثات کے سبب ان طیاروں کو ان کے خراب حفاظتی ریکارڈ کی وجہ سے ’اُڑتے تابوت‘ کا نام دے دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، اس اقدام کی وجہ پاکستان کے ساتھ اس کی دہائیوں پرانی دشمنی اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی فوج نے درجنوں فرانسیسی رافیل لڑاکا طیارے خریدے ہیں جن کی ترسیل 2020 میں شروع ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت میں لڑاکا طیارہ مگ-21 پرواز کے دوران ایک گھر پر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس افسر سدھیر چوہدری نے بتایا کہ مگ 21 طیارہ ایک گھر پر گر گیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے تاہم پائلٹ کو بحفاظت نکال لیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ANI/status/1655448546055954437"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی ایئر فورس (آئی اے ایف) نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پائلٹ باہر نکل گیا تھا۔</p>
<p>آئی اے ایف نے ٹوئٹ میں بتایا کہ بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ مگ-21 معمول کی تربیتی پرواز کے دوران کریش کر گیا۔</p>
<p>ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ پائلٹ بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہا، تاہم اسے معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں، حادثے کی تحقیقات کے لیے انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IAF_MCC/status/1655446544164995075"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے (4 مئی 2023) کو بھارت کے فوجی ہیلی کاپٹر کی مقبوضہ کشمیر کے علاقے کشتوار میں ’ہنگامی لینڈنگ‘ کی وجہ سے دو پائلٹ اور ایک ٹیکنیشن زخمی ہوگئے تھے۔</p>
<p>بھارتی خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کے مطابق بھارتی فوج کے ہیلی کاپٹر نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے کشتوار میں ہنگامی لینڈنگ کی جس کی وجہ سے دو پائلٹ اور ایک ٹیکنیشن زخمی ہوگئے جن کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے ادھم پور میں کمانڈ ہسپتال منتقل کیا گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1185638"><strong>جولائی 2022</strong></a> میں بھی لڑاکا طیارہ مگ-21 تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 2 پائلٹ ہلاک ہوگئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1150917"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مگ-21 جیٹ طیاروں کو پہلی بار 1960 کی دہائی میں بھارتی سروس میں شامل کیا گیا جنہوں نے کئی دہائیوں تک بھارتی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کیا۔</p>
<p>تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں ہونے والے متعدد حادثات کے سبب ان طیاروں کو ان کے خراب حفاظتی ریکارڈ کی وجہ سے ’اُڑتے تابوت‘ کا نام دے دیا گیا ہے۔</p>
<p>بھارت اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، اس اقدام کی وجہ پاکستان کے ساتھ اس کی دہائیوں پرانی دشمنی اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔</p>
<p>بھارتی فوج نے درجنوں فرانسیسی رافیل لڑاکا طیارے خریدے ہیں جن کی ترسیل 2020 میں شروع ہوچکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202366</guid>
      <pubDate>Mon, 08 May 2023 14:06:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/08115048f0048cf.jpg?r=115255" type="image/jpeg" medium="image" height="195" width="326">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/08115048f0048cf.jpg?r=115255"/>
        <media:title>آئی اے ایف نے بتایا کہ لڑاکا طیارہ مگ-21 معمول کی تربیتی پرواز کے دوران کریش کر گیا — فوٹو: ٹائمز آف انڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
