<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:53:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:53:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جوڈیشل کمیشن کی منظوری کے باوجود جج کا تقرر نہ کرنے پر اٹارنی جنرل عدالت طلب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202378/</link>
      <description>&lt;p&gt;جوڈیشل کمیشن کی منظوری کے باوجود سینئر وکیل طارق آفریدی کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج نہ بنانے کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق آفریدی کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات نہ کرنے کے حوالے سے دائر درخواست پر سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر سربراہی سماعت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق آفریدی کے وکیل حامد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ جوڈیشل کمیشن نے طارق آفریدی کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات کرنے کی منظوری دی، لیکن جوڈیشل کمیشن کی سفارش کے باوجود طارق آفریدی کو ایڈیشنل جج تعینات نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/65692"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی نے طارق آفریدی کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ پر نامزدگی مسترد کی جس میں کہا گیا تھا کہ طارق آفریدی کی ساکھ اچھی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کر سکتی ہیں؟ اس سے عدلیہ کہ آزادی پر اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے پیشہ وارانہ صلاحیت کے بجائے انٹیلی جنس رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت، معاملے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے گی کہ کیا پارلیمانی کمیٹی جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو مسترد کرسکتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202185"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو عدالت کی معاونت کے لیے بلا لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے طلب کرلیا اور کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے وکیل طارق آفریدی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 2 جولائی 2019 کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کرنے کی سفارش کی تھی لیکن پارلیمانی کمیٹی نے اس سفارش کو مسترد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمانی کمیٹی نے 8 جولائی 2019 کے فیصلے میں کہا تھا کہ طارق آفریدی کی ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے تقرری آئین پاکستان کی شقوں سے مطابقت نہیں رکھتی، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1175193"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1500567"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے ان کی نامزدگی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انٹیلی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ان کے مالی معاملات درست نہیں، وہ پیشہ ورانہ طور پر اہل نہیں اور انہوں نے قانون و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی درخواست میں طارق آفریدی نے سوال کیا تھا کہ کیا ایک ایڈیشنل جج کے عہدے کے امیدوار کی اہلیت، قابلیت اور ساکھ کو جانچنا پارلیمانی کمیٹی کی ذمہ داری ہے یا جوڈیشل کمیشن کی اور ان کا تقرر نہ کرنے کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ وجوہات متصبانہ، بدنیتی پر مبنی اور ناقابل قبول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ وفاقی حکومت کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات منظور کرنے کے لیے مناسب احکامات جاری کرتے ہوئے پابند کرے کہ ان کی ایک سال کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کی حیثیت سے تقرری کے لیے صدر مملکت کو سفارشات ارسال کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور ہائی کورٹ نے مارچ 2020 میں درخواست گزار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1540744"&gt;استدعا قبول کرتے ہوئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; طارق آفریدی کی اہلیت کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے ریمارکس کو حذف کردیا تھا اور ان کے معاملے کو دوبارہ زیر غور لانے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے سامنے رکھنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199923"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڈیشل کمیشن کی جانب سے ان کے تقرر کی سفارش کے باوجود پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج نہ بنائے جانے پر درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو دن قبل ہی مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ طارق آفریدی پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1751293/pml-n-nominee-elected-high-court-bar-president"&gt;صدر منتخب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جوڈیشل کمیشن کی منظوری کے باوجود سینئر وکیل طارق آفریدی کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج نہ بنانے کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے طلب کرلیا۔</p>
<p>طارق آفریدی کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات نہ کرنے کے حوالے سے دائر درخواست پر سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر سربراہی سماعت ہوئی۔</p>
<p>طارق آفریدی کے وکیل حامد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ جوڈیشل کمیشن نے طارق آفریدی کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات کرنے کی منظوری دی، لیکن جوڈیشل کمیشن کی سفارش کے باوجود طارق آفریدی کو ایڈیشنل جج تعینات نہیں کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/65692"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی نے طارق آفریدی کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ پر نامزدگی مسترد کی جس میں کہا گیا تھا کہ طارق آفریدی کی ساکھ اچھی نہیں۔</p>
<p>دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کر سکتی ہیں؟ اس سے عدلیہ کہ آزادی پر اثر پڑے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے پیشہ وارانہ صلاحیت کے بجائے انٹیلی جنس رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا۔</p>
<p>چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت، معاملے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے گی کہ کیا پارلیمانی کمیٹی جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو مسترد کرسکتی ہے؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202185"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو عدالت کی معاونت کے لیے بلا لیتے ہیں۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے طلب کرلیا اور کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔</p>
<p>واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے وکیل طارق آفریدی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 2 جولائی 2019 کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کرنے کی سفارش کی تھی لیکن پارلیمانی کمیٹی نے اس سفارش کو مسترد کردیا تھا۔</p>
<p>پارلیمانی کمیٹی نے 8 جولائی 2019 کے فیصلے میں کہا تھا کہ طارق آفریدی کی ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے تقرری آئین پاکستان کی شقوں سے مطابقت نہیں رکھتی، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1175193"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1500567">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے ان کی نامزدگی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انٹیلی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ان کے مالی معاملات درست نہیں، وہ پیشہ ورانہ طور پر اہل نہیں اور انہوں نے قانون و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔</p>
<p>اپنی درخواست میں طارق آفریدی نے سوال کیا تھا کہ کیا ایک ایڈیشنل جج کے عہدے کے امیدوار کی اہلیت، قابلیت اور ساکھ کو جانچنا پارلیمانی کمیٹی کی ذمہ داری ہے یا جوڈیشل کمیشن کی اور ان کا تقرر نہ کرنے کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ وجوہات متصبانہ، بدنیتی پر مبنی اور ناقابل قبول ہیں۔</p>
<p>درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ وفاقی حکومت کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات منظور کرنے کے لیے مناسب احکامات جاری کرتے ہوئے پابند کرے کہ ان کی ایک سال کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کی حیثیت سے تقرری کے لیے صدر مملکت کو سفارشات ارسال کی جائیں۔</p>
<p>پشاور ہائی کورٹ نے مارچ 2020 میں درخواست گزار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1540744">استدعا قبول کرتے ہوئے</a></strong> طارق آفریدی کی اہلیت کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے ریمارکس کو حذف کردیا تھا اور ان کے معاملے کو دوبارہ زیر غور لانے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے سامنے رکھنے کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199923"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جوڈیشل کمیشن کی جانب سے ان کے تقرر کی سفارش کے باوجود پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج نہ بنائے جانے پر درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔</p>
<p>یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو دن قبل ہی مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ طارق آفریدی پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1751293/pml-n-nominee-elected-high-court-bar-president">صدر منتخب</a></strong> ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202378</guid>
      <pubDate>Mon, 08 May 2023 15:37:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/081449108650ec9.jpg?r=153758" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/081449108650ec9.jpg?r=153758"/>
        <media:title>سپریم کورٹ آف پاکستان نے اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے طلب کرلیا — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
