<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:39:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:39:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاسی صورتحال بہتر ہونے کی امید: انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 13.85 روپے سستا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202779/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 4.86 فیصد بحال ہوگئی جو 3 فیصد گراوٹ کے بعد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق جمعے کو روپے کی قدر میں بہتری آئی اور ڈالر کے مقابلے میں 285.08 روپے پر بند ہوا اور ڈالر مجموعی طور پر 13.85 روپے سستا ہوا جبکہ گزشتہ روز ڈالر کی قیمت 298.93 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین روپے کی قدر میں بحالی کی وجہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی صورتحال میں بہتری کی امید کو قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاریکس ایسوسی ایشن کے چئیرمین ملک بوستان نے بتایا کہ روپے کی قدر میں بحالی کی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ سیاسی صورت حال بہتر ہو جائے گی اور بات چیت سے مسائل حل ہوسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے بتایا کہ مارکیٹ عارضی طور پر بڑھی تھی، ڈالر بڑھنے کی وجہ زیادہ طلب زیادہ نہیں تھی، مصنوعی طور پر روپے کی قدر میں کمی ہوئی تھی،  آج سپلائی سائیڈ بہتر ہوئی ہے تو ڈالر نیچے  آگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ڈالر 284 یا 285 پر مستحکم رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال ہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1202452/"&gt;&lt;strong&gt;عمران خان کی گرفتاری&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے بعد سیاسی عدم استحکام کے سبب گزشتہ دو دنوں میں انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 14 روپے اضافے کے بعد 299 روپے کا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز ملک بوستان نے روپے کی قدر میں کمی کی وجہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد بے یقینی سیاسی حالات کو قرار دیتے ہوئے حکومت پر اسے کنٹرول کرنے پر زور دیا تھا، اور کہا تھا کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202700"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ انہوں نے  یہ بھی کہا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے 17 مئی کو ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہونے جارہا ہے، جس میں پاکستان کے معاملے کو ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا، جس کے بعد ملک کے دیوالیہ ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، یہ بھی روپے کی بے قدری کی وجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1202447/"&gt;&lt;strong&gt;موڈیز نے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; چند روز قبل (9 مئی) کہا تھا کہ پاکستان، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بیل آؤٹ پیکیج کے بغیر ڈیفالٹ کر سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس جون کے بعد فنانسنگ کے حوالے سے غیریقینی صورتحال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور میں ریٹنگ ایجنسی کے تجزیہ کار گریس لِم نے بتایا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان جون میں ختم ہونے والے موجودہ مالی سال میں باقی غیر ملکی ادائیگیاں کر دے گا، لیکن جون کے بعد پاکستان کی فنانسنگ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے، پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر ڈیفالٹ کر سکتا ہے کیونکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر بہت کمزور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان تمام پیشگی شرائط پوری کرنے کے باوجود آئی ایم ایف قرض پروگرام بحال کرانے کی مہینوں سے جدوجہد کر رہا ہے، تاہم اب تک عالمی مالیاتی ادارے نے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی قسط جاری نہیں کی ہے، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب 38کروڑ ڈالر کے قریب ہیں، جس سے بمشکل ایک مہینے کی درآمدات ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 4.86 فیصد بحال ہوگئی جو 3 فیصد گراوٹ کے بعد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق جمعے کو روپے کی قدر میں بہتری آئی اور ڈالر کے مقابلے میں 285.08 روپے پر بند ہوا اور ڈالر مجموعی طور پر 13.85 روپے سستا ہوا جبکہ گزشتہ روز ڈالر کی قیمت 298.93 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>ماہرین روپے کی قدر میں بحالی کی وجہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی صورتحال میں بہتری کی امید کو قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p>فاریکس ایسوسی ایشن کے چئیرمین ملک بوستان نے بتایا کہ روپے کی قدر میں بحالی کی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ سیاسی صورت حال بہتر ہو جائے گی اور بات چیت سے مسائل حل ہوسکیں گے۔</p>
<p>میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے بتایا کہ مارکیٹ عارضی طور پر بڑھی تھی، ڈالر بڑھنے کی وجہ زیادہ طلب زیادہ نہیں تھی، مصنوعی طور پر روپے کی قدر میں کمی ہوئی تھی،  آج سپلائی سائیڈ بہتر ہوئی ہے تو ڈالر نیچے  آگیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ڈالر 284 یا 285 پر مستحکم رہ سکتا ہے۔</p>
<p>خیال ہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1202452/"><strong>عمران خان کی گرفتاری</strong></a> کے بعد سیاسی عدم استحکام کے سبب گزشتہ دو دنوں میں انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 14 روپے اضافے کے بعد 299 روپے کا ہوگیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ روز ملک بوستان نے روپے کی قدر میں کمی کی وجہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد بے یقینی سیاسی حالات کو قرار دیتے ہوئے حکومت پر اسے کنٹرول کرنے پر زور دیا تھا، اور کہا تھا کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202700"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ انہوں نے  یہ بھی کہا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے 17 مئی کو ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہونے جارہا ہے، جس میں پاکستان کے معاملے کو ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا، جس کے بعد ملک کے دیوالیہ ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، یہ بھی روپے کی بے قدری کی وجہ ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1202447/"><strong>موڈیز نے</strong></a> چند روز قبل (9 مئی) کہا تھا کہ پاکستان، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بیل آؤٹ پیکیج کے بغیر ڈیفالٹ کر سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس جون کے بعد فنانسنگ کے حوالے سے غیریقینی صورتحال ہے۔</p>
<p>بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور میں ریٹنگ ایجنسی کے تجزیہ کار گریس لِم نے بتایا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان جون میں ختم ہونے والے موجودہ مالی سال میں باقی غیر ملکی ادائیگیاں کر دے گا، لیکن جون کے بعد پاکستان کی فنانسنگ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے، پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر ڈیفالٹ کر سکتا ہے کیونکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر بہت کمزور ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ پاکستان تمام پیشگی شرائط پوری کرنے کے باوجود آئی ایم ایف قرض پروگرام بحال کرانے کی مہینوں سے جدوجہد کر رہا ہے، تاہم اب تک عالمی مالیاتی ادارے نے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی قسط جاری نہیں کی ہے، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب 38کروڑ ڈالر کے قریب ہیں، جس سے بمشکل ایک مہینے کی درآمدات ہوسکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202779</guid>
      <pubDate>Fri, 12 May 2023 20:37:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (تلقین زبیری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/12100843aa56767.jpg?r=100906" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/12100843aa56767.jpg?r=100906"/>
        <media:title>ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق روپے کی قدر 8 روپے 78 پیسے بڑھ گئی— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
