<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:15:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:15:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ میں دو تہائی نوجوان خواتین کو ملازمت کی جگہ پر ہراسانی کا سامنا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202890/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک تازہ سروے کے مطابق برطانیہ میں ملازمت کی جگہوں پر ہر 3 میں سے 2 نوجوان خواتین کو جنسی طور پر ہراسانی، غنڈہ گردی یا زبانی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ڈان اخبار میں شائع خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1752768/two-thirds-of-young-women-in-uk-face-workplace-harassment"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق برطانیہ کی لیبر آرگنائزیشن ’ٹریڈز یونین کانگریس‘ کے سروے کے مطابق زیادہ تر متاثرہ خواتین اس خوف سے واقعات کی اطلاع نہیں دیتیں کہ ان پر یقین نہیں کیا جائے گا یا اس سے ان کے پیشہ ورانہ تعلقات اور کیریئر کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ادارے نے یہ نتائج برطانیہ کی حکومت کو اس بات پر آمادہ کرنے کی مہم کے حصے کے طور پر جاری کیے کہ وہ ملازمین کو حملے اور ہراساں کرنے سے بچانے کے لیے بنائے گئے نئے قوانین پر پیچھے نہ ہٹیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ہزار خواتین کی آرا پر مشتمل سروے کے مطابق ہر 5 میں سے 3 خواتین نے ملازمت کی جگہ پر اس طرح کے واقعات کی اطلاع دی لیکن 25 سے 34 سال کی عمر کے درمیان والی خواتین میں یہ شرح دو تہائی تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188967"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کئی کیسز نہ صرف ملازمت کی جگہ پر بلکہ فون، ٹیکسٹ میسجز اور ای میلز اور سوشل میڈیا یا ورچوئل میٹنگز کے دوران بھی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ٹریڈز یونین کانگریس‘ کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے والے نئے قانون کو حکمران کنزرویٹو پارٹی کے کچھ قانون سازوں کے ذریعے سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل سیکریٹری ’ٹریڈز یونین کانگریس‘ پال نوواک نے کہا کہ ہر عورت کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے سے محفوظ ہونا چاہیے لیکن آئے روز ملازمت کی جگہوں پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہم بہت ساری خواتین کو جانتے ہیں جنہیں ملازمتوں کی جگہوں پر صارفین کی جانب سے باقاعدگی سے بدسلوکی کا شکار ہوتی ہیں، جدید دنیا میں ملازمت کی جگہوں پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور دھونس جمانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے کے مطابق جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والی ہر 3 خواتین میں سے ایک یا اس سے کم نے اپنے ادارے کو اس حوالے سے مطلع کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک تازہ سروے کے مطابق برطانیہ میں ملازمت کی جگہوں پر ہر 3 میں سے 2 نوجوان خواتین کو جنسی طور پر ہراسانی، غنڈہ گردی یا زبانی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
<p>تاہم ڈان اخبار میں شائع خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1752768/two-thirds-of-young-women-in-uk-face-workplace-harassment"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق برطانیہ کی لیبر آرگنائزیشن ’ٹریڈز یونین کانگریس‘ کے سروے کے مطابق زیادہ تر متاثرہ خواتین اس خوف سے واقعات کی اطلاع نہیں دیتیں کہ ان پر یقین نہیں کیا جائے گا یا اس سے ان کے پیشہ ورانہ تعلقات اور کیریئر کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>مذکورہ ادارے نے یہ نتائج برطانیہ کی حکومت کو اس بات پر آمادہ کرنے کی مہم کے حصے کے طور پر جاری کیے کہ وہ ملازمین کو حملے اور ہراساں کرنے سے بچانے کے لیے بنائے گئے نئے قوانین پر پیچھے نہ ہٹیں۔</p>
<p>ایک ہزار خواتین کی آرا پر مشتمل سروے کے مطابق ہر 5 میں سے 3 خواتین نے ملازمت کی جگہ پر اس طرح کے واقعات کی اطلاع دی لیکن 25 سے 34 سال کی عمر کے درمیان والی خواتین میں یہ شرح دو تہائی تک پہنچ گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188967"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان میں سے کئی کیسز نہ صرف ملازمت کی جگہ پر بلکہ فون، ٹیکسٹ میسجز اور ای میلز اور سوشل میڈیا یا ورچوئل میٹنگز کے دوران بھی ہوئے۔</p>
<p>’ٹریڈز یونین کانگریس‘ کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے والے نئے قانون کو حکمران کنزرویٹو پارٹی کے کچھ قانون سازوں کے ذریعے سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>جنرل سیکریٹری ’ٹریڈز یونین کانگریس‘ پال نوواک نے کہا کہ ہر عورت کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے سے محفوظ ہونا چاہیے لیکن آئے روز ملازمت کی جگہوں پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ہم بہت ساری خواتین کو جانتے ہیں جنہیں ملازمتوں کی جگہوں پر صارفین کی جانب سے باقاعدگی سے بدسلوکی کا شکار ہوتی ہیں، جدید دنیا میں ملازمت کی جگہوں پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور دھونس جمانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘۔</p>
<p>سروے کے مطابق جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والی ہر 3 خواتین میں سے ایک یا اس سے کم نے اپنے ادارے کو اس حوالے سے مطلع کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202890</guid>
      <pubDate>Sat, 13 May 2023 11:48:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/13113854241bc47.png?r=114502" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/13113854241bc47.png?r=114502"/>
        <media:title>پال نوواک نے کہا کہ ہر عورت کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے سے محفوظ ہونا چاہیے—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
