<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:20:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:20:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں شامل تفتیش ہونے کی ہدایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202909/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس کی تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ تفتیشی کو جب بھی ضرورت ہو عمران خان ان کے سامنے پیش ہوں، اگر عمران خان تفتیش میں رکاوٹ ڈالیں تو نیب ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر سکتاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عالیہ کے جسٹس میاں گل اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ڈویژن بینچ نے گزشتہ روز عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی تھی جس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں 31 مئی تک کے لیے عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی اور انہیں 10 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202782"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل اٹارنی نے کہا آرٹیکل 245 کا نفاذ ہے عمران خان کو ریلیف نہیں مل سکتا، ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی کا یہ مؤقف جارحانہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید کہا کہ اس مؤقف کا مطلب وہ بنیادی حقوق غصب کرنا ہے جو جمہوری اور اسلامی ریاست کی بنیاد ہیں، تصور نہیں کیا جا سکتا ایک ذمہ دار حکومت شہریوں کیے لیے انصاف کی رسائی میں یہ رکاوٹ ڈالے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے آرٹیکل 245 کے نفاذ میں عدالت تک رسائی کے نکتےپر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دورانِ سماعت متعلقہ فورم احتساب عدالت ہونے کا اعتراض بھی اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202691"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی واضح کیا کہ عمران خان کو سپریم کورٹ احکامات پر ہائی کورٹ پیش کیا گیا تھا اس لیے ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا اعتراض درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کوڈ آف کریمنل پروسیجر کی سیکشن 561 اے کے تحت بھی کیس سننے کا اختیار رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="عمران-خان-کی-گرفتاری-غیر-قانونی-قرار" href="#عمران-خان-کی-گرفتاری-غیر-قانونی-قرار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی قرار&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ 11 مئی کو سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہاتھوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتاری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ گرفتاری کو وہیں سے ریورس کرنا ہوگا جہاں سے ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ نے نیب اور پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ عمران خان کی ہائی کورٹ میں پیشی تک ’فول پروف‘ سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں تین صفحات پر مشتمل حکم نامے میں عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین نیب کی جانب سے عمران خان کے خلاف جاری کردہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کا طریقہ غلط اور غیر قانونی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے عمران خان کو سپریم کورٹ کی نگرانی میں گیسٹ ہاؤس میں رکھنے کا حکم دیا تھا اور آئی جی اسلام آباد کو عمران خان کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان نے استدعا کی تھی کہ انہیں بنی گالہ میں رہنے کی اجازت دی جائے تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت کی نگرانی میں ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ آپ کو کوئی نقصان پہنچے، سرکار تمام سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="عمران-خان-گرفتاری-کا-معاملہ" href="#عمران-خان-گرفتاری-کا-معاملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;عمران خان گرفتاری کا معاملہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری اور بیرسٹر علی ظفر نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کو 9 اپریل کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے رینجرز کی مدد سے القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان 7 مقدمات میں ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے جہاں سے رینجرز نے ان کو حراست میں لے لیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی گرفتاری کا نوٹس لیا تھا جس کے فیصلے میں ان کی گرفتاری کو قانون کے مطابق قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب کا اصرار تھا کہ عمران خان کی گرفتاری نیب کی جانب سے کی گئی انکوائری اور تفتیش کے قانونی تقاضے پورا کرنے کے بعد کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب نے کہا کہ انکوائری/تفتیش کے عمل کے دوران عمران خان اور ان کی اہلیہ کو متعدد نوٹس جاری کیے گئے کیونکہ وہ دونوں القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹی تھے، تاہم انہوں نے یا ان کی اہلیہ کی جانب سے کسی بھی نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرفتاری کے اگلے روز عمران خان کو پولیس لائنز میں منتقل کردہ احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں نیب نے ان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے انہیں عمران خان کا 8 روزہ ریمانڈ دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس کی تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کردی۔</p>
<p>تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ تفتیشی کو جب بھی ضرورت ہو عمران خان ان کے سامنے پیش ہوں، اگر عمران خان تفتیش میں رکاوٹ ڈالیں تو نیب ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر سکتاہے۔</p>
<p>عدالت عالیہ کے جسٹس میاں گل اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ڈویژن بینچ نے گزشتہ روز عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی تھی جس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔</p>
<p>عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں 31 مئی تک کے لیے عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی اور انہیں 10 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202782"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل اٹارنی نے کہا آرٹیکل 245 کا نفاذ ہے عمران خان کو ریلیف نہیں مل سکتا، ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی کا یہ مؤقف جارحانہ ہے۔</p>
<p>عدالت نے مزید کہا کہ اس مؤقف کا مطلب وہ بنیادی حقوق غصب کرنا ہے جو جمہوری اور اسلامی ریاست کی بنیاد ہیں، تصور نہیں کیا جا سکتا ایک ذمہ دار حکومت شہریوں کیے لیے انصاف کی رسائی میں یہ رکاوٹ ڈالے گی۔</p>
<p>عدالت نے آرٹیکل 245 کے نفاذ میں عدالت تک رسائی کے نکتےپر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کرلی۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دورانِ سماعت متعلقہ فورم احتساب عدالت ہونے کا اعتراض بھی اٹھایا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202691"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ساتھ ہی واضح کیا کہ عمران خان کو سپریم کورٹ احکامات پر ہائی کورٹ پیش کیا گیا تھا اس لیے ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا اعتراض درست نہیں۔</p>
<p>حکم نامے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کوڈ آف کریمنل پروسیجر کی سیکشن 561 اے کے تحت بھی کیس سننے کا اختیار رکھتی ہے۔</p>
<h3><a id="عمران-خان-کی-گرفتاری-غیر-قانونی-قرار" href="#عمران-خان-کی-گرفتاری-غیر-قانونی-قرار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی قرار</h3>
<p>خیال رہے کہ 11 مئی کو سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہاتھوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتاری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>عدالت عظمیٰ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ گرفتاری کو وہیں سے ریورس کرنا ہوگا جہاں سے ہوئی تھی۔</p>
<p>عدالت عظمیٰ نے نیب اور پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ عمران خان کی ہائی کورٹ میں پیشی تک ’فول پروف‘ سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔</p>
<p>بعد ازاں تین صفحات پر مشتمل حکم نامے میں عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین نیب کی جانب سے عمران خان کے خلاف جاری کردہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کا طریقہ غلط اور غیر قانونی تھا۔</p>
<p>عدالت نے عمران خان کو سپریم کورٹ کی نگرانی میں گیسٹ ہاؤس میں رکھنے کا حکم دیا تھا اور آئی جی اسلام آباد کو عمران خان کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔</p>
<p>عمران خان نے استدعا کی تھی کہ انہیں بنی گالہ میں رہنے کی اجازت دی جائے تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت کی نگرانی میں ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ آپ کو کوئی نقصان پہنچے، سرکار تمام سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔</p>
<h3><a id="عمران-خان-گرفتاری-کا-معاملہ" href="#عمران-خان-گرفتاری-کا-معاملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>عمران خان گرفتاری کا معاملہ</h3>
<p>خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔</p>
<p>رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری اور بیرسٹر علی ظفر نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔</p>
<p>عمران خان کو 9 اپریل کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے رینجرز کی مدد سے القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا۔</p>
<p>عمران خان 7 مقدمات میں ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے جہاں سے رینجرز نے ان کو حراست میں لے لیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی گرفتاری کا نوٹس لیا تھا جس کے فیصلے میں ان کی گرفتاری کو قانون کے مطابق قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>نیب کا اصرار تھا کہ عمران خان کی گرفتاری نیب کی جانب سے کی گئی انکوائری اور تفتیش کے قانونی تقاضے پورا کرنے کے بعد کی گئی۔</p>
<p>نیب نے کہا کہ انکوائری/تفتیش کے عمل کے دوران عمران خان اور ان کی اہلیہ کو متعدد نوٹس جاری کیے گئے کیونکہ وہ دونوں القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹی تھے، تاہم انہوں نے یا ان کی اہلیہ کی جانب سے کسی بھی نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا۔</p>
<p>گرفتاری کے اگلے روز عمران خان کو پولیس لائنز میں منتقل کردہ احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>عدالت میں نیب نے ان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے انہیں عمران خان کا 8 روزہ ریمانڈ دے دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202909</guid>
      <pubDate>Sat, 13 May 2023 14:12:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکعمرمہتاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/131404377be7711.jpg?r=140515" type="image/jpeg" medium="image" height="800" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/131404377be7711.jpg?r=140515"/>
        <media:title>حکم نامے میں کہا گیا کہ تفتیشی کو جب بھی ضرورت ہو عمران خان ان کے سامنے پیش ہوں—تصویر: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
