<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:28:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 16:28:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اگلے 5 سال انسانی تاریخ کا گرم ترین دور ہوگا، اقوام متحدہ نے خبردار کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1203434/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2023 سے 2027 تک کا عرصہ انسانی تاریخ کا گرم ترین دور ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1753931/next-five-years-set-to-be-hottest-period-ever-un"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق  اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے مطابق  بحر الکاہل کو گرم کرنے والے موسمیاتی رجحان ایل نینو اور گرین ہاوس گیسوں کا مشترکہ اثر درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنے گا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل نینو ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے  پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے اور زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ بھی بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 66 فیصد امکان ہے کہ دنیا کا درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کرجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک گزشتہ 8 سال انسانی تاریخ کے گرم ترین سال قرار پائے ہیں جن میں 2016 سب سے زیادہ گرم تھا لیکن موسمیاتی تبدیلیوں میں تیزی سے تبدیلی آنے کی وجہ سے درجہ حرارت میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/1811495194dc377.gif'  alt='فوٹو: بی بی سی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: بی بی سی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ 98 فیصد امکان ہے کہ اگلے پانچ سال انسانی تاریخ کے گرم ترین دن ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے بین الحکومتی پینل کے مطابق صدی کے آخر تک عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے لانے کے لیے سنہ 2015 میں پیرس معاہدہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/science-environment-65602293"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سائنسدانوں نے خبردار کیا کہ گرین ہاؤس گیسوں سے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ادارے نے عالمی درجہ حرارت کے حوالے سے جو حد سوچی تھی اگر وہ  تجاوز کرگئی تو ممکنہ طور پر یہ صورتحال عارضی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درجہ حرارت تجاوز کرنے کا مطلب دنیا 19ویں صدی کے دوسرے نصف کے مقابلے زیادہ گرم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ہمیں-تیار-رہنے-کی-ضرورت-ہے" href="#ہمیں-تیار-رہنے-کی-ضرورت-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ادارے کی جانب سے ایک اور وارننگ جاری کی گئی کہ آنے والے مہینوں میں  ایل نینو موسمیاتی رجحان تشکیل پانے کا امکان ہے جس سے زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایسا ہوا تو دنیا میں صحت، خوراک، پانی اور ماحول کے انتظام میں مشکلات آسکتی ہیں، اس لیے ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر ایل نینو بننے کے بعد ایک سال میں زمین کے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا چونکہ یہ بننا شروع ہوچکا ہے  اس لیے اس کا سائیکل 2024 میں مکمل ہوگا جس کے بعد زمین کے درجہ حرات میں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/1811534610d8208.gif?r=115351'  alt='فوٹو: کارلس گِل/بی بی سی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: کارلس گِل/بی بی سی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایم او کے چیف پیٹری تالاس کہتے ہیں کہ ہم درجہ حرارت کو کم نہیں کرسکے اور اب ہم غلط سمت میں جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر 2060 تک ہم درجہ حرارت کو کچھ حد تک کم کرنے اور حالات کو مزید حراب ہونے سے روک سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحول میں گرین ہاؤس گیس کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، واضح رہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ زہریلی گیسز ہیں جس جو گرین ہاؤس گیسز میں موجود ہیں،۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درجہ حرارت کو معمول کی سطح پر لانے میں ہزاروں سال لگ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے ماحول میں پہلے ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بہت زیادہ ہے، گلیشیئرز پگھلنا شروع ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2023 سے 2027 تک کا عرصہ انسانی تاریخ کا گرم ترین دور ہوگا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1753931/next-five-years-set-to-be-hottest-period-ever-un">رپورٹ</a></strong> کے مطابق  اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے مطابق  بحر الکاہل کو گرم کرنے والے موسمیاتی رجحان ایل نینو اور گرین ہاوس گیسوں کا مشترکہ اثر درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنے گا</p>
<p>ایل نینو ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے  پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے اور زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ بھی بنتا ہے۔</p>
<p>سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 66 فیصد امکان ہے کہ دنیا کا درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کرجائے گا۔</p>
<p>اب تک گزشتہ 8 سال انسانی تاریخ کے گرم ترین سال قرار پائے ہیں جن میں 2016 سب سے زیادہ گرم تھا لیکن موسمیاتی تبدیلیوں میں تیزی سے تبدیلی آنے کی وجہ سے درجہ حرارت میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/1811495194dc377.gif'  alt='فوٹو: بی بی سی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: بی بی سی</figcaption>
    </figure></p>
<p>ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ 98 فیصد امکان ہے کہ اگلے پانچ سال انسانی تاریخ کے گرم ترین دن ہوں گے۔</p>
<p>یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے بین الحکومتی پینل کے مطابق صدی کے آخر تک عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے لانے کے لیے سنہ 2015 میں پیرس معاہدہ ہوا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/science-environment-65602293">رپورٹ</a></strong> کے مطابق سائنسدانوں نے خبردار کیا کہ گرین ہاؤس گیسوں سے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ادارے نے عالمی درجہ حرارت کے حوالے سے جو حد سوچی تھی اگر وہ  تجاوز کرگئی تو ممکنہ طور پر یہ صورتحال عارضی ہوگی۔</p>
<p>درجہ حرارت تجاوز کرنے کا مطلب دنیا 19ویں صدی کے دوسرے نصف کے مقابلے زیادہ گرم ہوگی۔</p>
<h3><a id="ہمیں-تیار-رہنے-کی-ضرورت-ہے" href="#ہمیں-تیار-رہنے-کی-ضرورت-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے‘</h3>
<p>دوسری جانب ادارے کی جانب سے ایک اور وارننگ جاری کی گئی کہ آنے والے مہینوں میں  ایل نینو موسمیاتی رجحان تشکیل پانے کا امکان ہے جس سے زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>اگر ایسا ہوا تو دنیا میں صحت، خوراک، پانی اور ماحول کے انتظام میں مشکلات آسکتی ہیں، اس لیے ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>عام طور پر ایل نینو بننے کے بعد ایک سال میں زمین کے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا چونکہ یہ بننا شروع ہوچکا ہے  اس لیے اس کا سائیکل 2024 میں مکمل ہوگا جس کے بعد زمین کے درجہ حرات میں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/1811534610d8208.gif?r=115351'  alt='فوٹو: کارلس گِل/بی بی سی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: کارلس گِل/بی بی سی</figcaption>
    </figure></p>
<p>ڈبلیو ایم او کے چیف پیٹری تالاس کہتے ہیں کہ ہم درجہ حرارت کو کم نہیں کرسکے اور اب ہم غلط سمت میں جارہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر 2060 تک ہم درجہ حرارت کو کچھ حد تک کم کرنے اور حالات کو مزید حراب ہونے سے روک سکتے ہیں۔</p>
<p>ماحول میں گرین ہاؤس گیس کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، واضح رہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ زہریلی گیسز ہیں جس جو گرین ہاؤس گیسز میں موجود ہیں،۔</p>
<p>درجہ حرارت کو معمول کی سطح پر لانے میں ہزاروں سال لگ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے ماحول میں پہلے ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بہت زیادہ ہے، گلیشیئرز پگھلنا شروع ہوگئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1203434</guid>
      <pubDate>Thu, 18 May 2023 12:03:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/18114951470d8a0.gif?r=120603" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/18114951470d8a0.gif?r=120603"/>
        <media:title>فوٹو: پبلک ریڈیو آف ارمینا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
