<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 19:48:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 19:48:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عدالت نے پولیس کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204094/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے پولیس کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1755350/police-barred-from-harassing-reporters-over-may-9-violence"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ حکم جسٹس انوارالحق پنوں نے ڈیجیٹل میڈیا جرنلسٹس کی ایک ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ متعدد سوشل میڈیا صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو احتجاج کے مقامات پر موجود ہونے کی وجہ سے غیر قانونی طور پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صحافی صرف ان واقعات کی کوریج کر رہے تھے اور کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203985"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ پولیس نے 9 مئی کے فسادات کے ذمہ داروں کی شناخت کے لیے پریس کلب اور صحافتی تنظیموں سے مدد لینے کے بجائے صحافیوں کو غیر قانونی طور پر ہراساں کیا اور گرفتار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ پولیس کو تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹس/صحافیوں بشمول رپورٹرز اور کیمرہ پرسن اور غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے دیگر افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے استدعا کی کہ عدالت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سوشل میڈیا جرنلسٹس کو گرفتار کرنے، حراست میں لینے یا ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے اس وقت تک روک دے جب تک کہ معاملے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس انوارالحق پنوں نے دلائل سننے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لا افسران کو 25 مئی تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا کہ صحافیوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہ ہونے کی صورت میں انہیں ہراساں نہ کیا جائے، اگر پولیس کو ضرورت ہو تو صحافی تحقیقات میں شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="200-سے-زائد-صحافیوں-کو-ہراساں-کیے-جانے-کا-دعویٰ" href="#200-سے-زائد-صحافیوں-کو-ہراساں-کیے-جانے-کا-دعویٰ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;200 سے زائد صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کا دعویٰ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کئی صحافتی اداروں نے 9 مئی کے بعد سے صحافیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر حکام کی مذمت کی ہے، ہنگامہ آرائی کرنے والے مشتبہ افراد کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن تیز ہونے کے ساتھ ساتھ کئی صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو بھی گرفتار کرلیاگیا کیونکہ سیل فون کی لوکیشن اور فوٹیجز میں ان کی جائے وقوع پر موجودگی ظاہر ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور پریس کلب کے مطابق تقریباً 250 صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کے دیگر متعلقہ عملے کو پولیس کی جانب سے ہراساں کیے جانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر لاہور پریس کلب اعظم چوہدری نے بتایا کہ یہ لوگ 9 مئی کو لاہور کے مختلف مقامات پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے، پولیس نے ان کے نام اُن مشتبہ افراد کی فہرست میں ڈال دیے جو فوجی تنصیبات، پولیس وین اور نجی عمارتوں پر حملوں میں ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203905"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پریس کلب نے نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر سے رابطہ کیا جنہوں نے یہ معاملہ وزیراعلیٰ کے سامنے رکھا، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ داخلہ پنجاب نے پنجاب جرنلسٹس پروٹیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے نام سے 8 رکنی کمیٹی کا نوٹیفکیشن کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمیٹی کے اراکین میں پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی (لیگل)، لاہور پریس کلب کے صدور، پنجاب یونین آف جرنلسٹس، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، وزارت اطلاعات و نشریات کے نمائندے وغیرہ شامل ہیں، تاہم ان اقدامات کے باوجود پولیس نے مزید صحافیوں کو گرفتار کیا اور ان پر تشدد کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائی کورٹ نے پولیس کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1755350/police-barred-from-harassing-reporters-over-may-9-violence"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ حکم جسٹس انوارالحق پنوں نے ڈیجیٹل میڈیا جرنلسٹس کی ایک ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا۔</p>
<p>درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ متعدد سوشل میڈیا صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو احتجاج کے مقامات پر موجود ہونے کی وجہ سے غیر قانونی طور پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صحافی صرف ان واقعات کی کوریج کر رہے تھے اور کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203985"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ پولیس نے 9 مئی کے فسادات کے ذمہ داروں کی شناخت کے لیے پریس کلب اور صحافتی تنظیموں سے مدد لینے کے بجائے صحافیوں کو غیر قانونی طور پر ہراساں کیا اور گرفتار کیا۔</p>
<p>انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ پولیس کو تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹس/صحافیوں بشمول رپورٹرز اور کیمرہ پرسن اور غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے دیگر افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے استدعا کی کہ عدالت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سوشل میڈیا جرنلسٹس کو گرفتار کرنے، حراست میں لینے یا ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے اس وقت تک روک دے جب تک کہ معاملے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔</p>
<p>جسٹس انوارالحق پنوں نے دلائل سننے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لا افسران کو 25 مئی تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا کہ صحافیوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہ ہونے کی صورت میں انہیں ہراساں نہ کیا جائے، اگر پولیس کو ضرورت ہو تو صحافی تحقیقات میں شامل ہوں۔</p>
<h3><a id="200-سے-زائد-صحافیوں-کو-ہراساں-کیے-جانے-کا-دعویٰ" href="#200-سے-زائد-صحافیوں-کو-ہراساں-کیے-جانے-کا-دعویٰ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>200 سے زائد صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کا دعویٰ</h3>
<p>کئی صحافتی اداروں نے 9 مئی کے بعد سے صحافیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر حکام کی مذمت کی ہے، ہنگامہ آرائی کرنے والے مشتبہ افراد کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن تیز ہونے کے ساتھ ساتھ کئی صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو بھی گرفتار کرلیاگیا کیونکہ سیل فون کی لوکیشن اور فوٹیجز میں ان کی جائے وقوع پر موجودگی ظاہر ہوئی تھی۔</p>
<p>لاہور پریس کلب کے مطابق تقریباً 250 صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کے دیگر متعلقہ عملے کو پولیس کی جانب سے ہراساں کیے جانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>صدر لاہور پریس کلب اعظم چوہدری نے بتایا کہ یہ لوگ 9 مئی کو لاہور کے مختلف مقامات پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے، پولیس نے ان کے نام اُن مشتبہ افراد کی فہرست میں ڈال دیے جو فوجی تنصیبات، پولیس وین اور نجی عمارتوں پر حملوں میں ملوث تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203905"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پریس کلب نے نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر سے رابطہ کیا جنہوں نے یہ معاملہ وزیراعلیٰ کے سامنے رکھا، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ داخلہ پنجاب نے پنجاب جرنلسٹس پروٹیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے نام سے 8 رکنی کمیٹی کا نوٹیفکیشن کر دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمیٹی کے اراکین میں پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی (لیگل)، لاہور پریس کلب کے صدور، پنجاب یونین آف جرنلسٹس، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، وزارت اطلاعات و نشریات کے نمائندے وغیرہ شامل ہیں، تاہم ان اقدامات کے باوجود پولیس نے مزید صحافیوں کو گرفتار کیا اور ان پر تشدد کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204094</guid>
      <pubDate>Wed, 24 May 2023 09:36:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/240932199eb5da9.jpg?r=093527" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/240932199eb5da9.jpg?r=093527"/>
        <media:title>وکیل نے کہا کہ صحافی صرف ان واقعات کی کوریج کر رہے تھے اور کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے—فائل فوٹو: ہائی کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
