<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:08:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:08:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سری لنکا: چینی کشتی حادثے کا شکار، 14 لاشیں برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204156/</link>
      <description>&lt;p&gt;سری لنکن نیوی نے کہا ہے کہ مچھلیاں پکڑنے والی چینی کشتی سے 14 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جو کہ گزشتہ ہفتے پلٹ گئی تھی جس میں 39 افراد سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اس ہولناک حادثے سے متعلق چینی حکومت کی ابتدائی تحقیقات اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ 16 مئی کو الٹنے والی کشتی میں کوئی بھی شخص نہیں بچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق لو پینگ یوآن یو 028 پر 17 چینی، 17 انڈونیشین اور 5 فلپائنی شہری سوار تھے اور یہ پرتھ سے 5 ہزار کلومیٹر مغرب میں آسٹریلیا کے وسیع سرچ اینڈ ریسکیو ریجن میں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/srilanka_navy/status/1661039478440607749"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپائن کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ 18 مئی کو کشتی کا سری لنکا کے جنوب میں تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور پتا چلا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے ریسکیو کی کوششوں میں رکاوٹ کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکن نیوی نے بتایا کہ اس کے غوطہ خوروں نے 2 لاشیں برآمد کی تھیں جبکہ مزید 12 کی نشاندہی بھی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ گلنے سڑنے اور محدود حفاظتی پوشاک کے ساتھ آلودہ پانی میں کام کرنے سے پیدا ہونے والے ممکنہ صحت کے خطرات کی وجہ سے یہ طے پایا کہ ان لاشوں کو بازیافت کرنا انتہائی خطرناک ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ کشتی کے اندر موجود 12 لاشوں کے مقامات کا نقشہ بنایا گیا اور چینی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ تاہم برآمد ہونے والی لاشوں کی قومیت معلوم نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا نے بین الاقوامی سرچ اینڈ ریسکیو کوششوں میں تین ہوائی جہاز اور چار کشتیاں مدد کے لیے بھیجی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193774"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق امدادی کارکنوں نے تقریباً 64 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے کو گھیر لیا ہے جہاں بچنے والوں کا کوئی نشان نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے ماہی گیروں کے بحری جہاز کو پہلی بار مشکلات اس وقت پیش آئیں جب سائیکلون ’فیبیان‘ سے سات میٹر تک اونچی لہریں اور اس علاقے میں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے لگیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سمندری کشتی پینگلائی جِنگلو فشری کمپنی کی ملکیت تھی، جو چین کی ایک بڑی سرکاری ماہی گیری کمپنی ہے جس کو نارتھ پیسیفک فشریز کمیشن کے مطابق نیون فلائنگ اسکویڈ اور پیسیفک سوری کے لیے مچھلی پکڑنے کا اختیار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرین ٹریفک کی ویب سائٹ کے مطابق سمندری کشتی 5 مئی کو جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاؤن سے جنوبی کوریا کے بوسان کے لیے روانہ ہوئی تھی جس کو آخری بار 10 مئی کو بحر ہند میں ایک چھوٹے فرانسیسی جزیرے ری یونین کے جنوب مشرق میں پایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سری لنکن نیوی نے کہا ہے کہ مچھلیاں پکڑنے والی چینی کشتی سے 14 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جو کہ گزشتہ ہفتے پلٹ گئی تھی جس میں 39 افراد سوار تھے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اس ہولناک حادثے سے متعلق چینی حکومت کی ابتدائی تحقیقات اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ 16 مئی کو الٹنے والی کشتی میں کوئی بھی شخص نہیں بچا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق لو پینگ یوآن یو 028 پر 17 چینی، 17 انڈونیشین اور 5 فلپائنی شہری سوار تھے اور یہ پرتھ سے 5 ہزار کلومیٹر مغرب میں آسٹریلیا کے وسیع سرچ اینڈ ریسکیو ریجن میں تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/srilanka_navy/status/1661039478440607749"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>فلپائن کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ 18 مئی کو کشتی کا سری لنکا کے جنوب میں تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور پتا چلا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے ریسکیو کی کوششوں میں رکاوٹ کا سامنا رہا۔</p>
<p>سری لنکن نیوی نے بتایا کہ اس کے غوطہ خوروں نے 2 لاشیں برآمد کی تھیں جبکہ مزید 12 کی نشاندہی بھی کی ہے۔</p>
<p>نیوی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ گلنے سڑنے اور محدود حفاظتی پوشاک کے ساتھ آلودہ پانی میں کام کرنے سے پیدا ہونے والے ممکنہ صحت کے خطرات کی وجہ سے یہ طے پایا کہ ان لاشوں کو بازیافت کرنا انتہائی خطرناک ہوگا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ کشتی کے اندر موجود 12 لاشوں کے مقامات کا نقشہ بنایا گیا اور چینی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ تاہم برآمد ہونے والی لاشوں کی قومیت معلوم نہیں ہو سکی۔</p>
<p>آسٹریلیا نے بین الاقوامی سرچ اینڈ ریسکیو کوششوں میں تین ہوائی جہاز اور چار کشتیاں مدد کے لیے بھیجی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193774"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چین کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق امدادی کارکنوں نے تقریباً 64 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے کو گھیر لیا ہے جہاں بچنے والوں کا کوئی نشان نہیں ملا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے ماہی گیروں کے بحری جہاز کو پہلی بار مشکلات اس وقت پیش آئیں جب سائیکلون ’فیبیان‘ سے سات میٹر تک اونچی لہریں اور اس علاقے میں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے لگیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سمندری کشتی پینگلائی جِنگلو فشری کمپنی کی ملکیت تھی، جو چین کی ایک بڑی سرکاری ماہی گیری کمپنی ہے جس کو نارتھ پیسیفک فشریز کمیشن کے مطابق نیون فلائنگ اسکویڈ اور پیسیفک سوری کے لیے مچھلی پکڑنے کا اختیار دیا گیا تھا۔</p>
<p>میرین ٹریفک کی ویب سائٹ کے مطابق سمندری کشتی 5 مئی کو جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاؤن سے جنوبی کوریا کے بوسان کے لیے روانہ ہوئی تھی جس کو آخری بار 10 مئی کو بحر ہند میں ایک چھوٹے فرانسیسی جزیرے ری یونین کے جنوب مشرق میں پایا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204156</guid>
      <pubDate>Wed, 24 May 2023 17:04:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/241624356baa011.jpg?r=170553" type="image/jpeg" medium="image" height="460" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/241624356baa011.jpg?r=170553"/>
        <media:title>آسٹریلیا نے بین الاقوامی سرچ اینڈ ریسکیو کوششوں میں تین ہوائی جہاز اور چار کشتیاں مدد کے لیے بھیجی ہیں — فوٹو: سری لنکا نیوی ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
