<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 23:32:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 23:32:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان بڑا فرق: روپے کی قدر میں بڑی کمی کی قیاس آرائیاں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204255/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان شرح تبادلہ میں فی ڈالر 22 روپے کا بڑا فرق دیکھا گیا، جس کے سبب مقامی کرنسی کی قدر میں بڑے کمی کی قیاس آرئیاں مضبوط ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1755596/swelling-rate-gap-stirs-talk-of-big-devaluation"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 26 جنوری کو شرح تبادلہ سے کیپ ہٹا دیا گیا جس کے بعد ایک دن میں روپے کی قدر میں دو دہائیوں کے دوران بڑی تنزلی دیکھی گئی، اُس دن روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 9.6 فیصد یا 25 روپے فی ڈالر کم ہونے کے بعد 255 روپے پر بند ہوا، اس کا مقصد آئی ایم ایف کی مارکیٹ کی بنیاد پر شرح تبادلہ کے مطالبے کو پورا کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں محض 2 پیسے کی کمی ہوئی لیکن اوپن مارکیٹ میں یہ 312 روپے کی بُلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے رپورٹ کیا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 309 پر بند ہوا جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا کہ انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ 287 روپے 13 پیسے پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203433"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں مارکیٹوں میں فی ڈالر فرق 22 روپے کی سطح پر پہنچ گیا جس کے بعد مرکزی بینک کے لیے مشکل ہوگا کہ وہ بینکوں میں شرح تبادلہ کو برقرار رکھ سکے، اس کی وجہ سے ترسیلات زر میں کمی ہوئی جس میں گزشتہ مہینے 29 فیصد تنزلی ہوئی اور موجودہ مالی سال کے ابتدائی 10 مہینوں کے دوران 13 فیصد کم ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق 22 روپے فرق کی وجہ سے روپے کی قدر میں بڑی کمی ہوسکتی ہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی غیر متوقع بُلند قیمت کی تین وجوہات ہیں، پہلی زرمبادلہ کی آمد کم ہو رہی ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ بینکس کھاتے داروں اور ایکسچینج کمپنیوں کو ڈالر فراہم نہیں کررہے، اور آخری وجہ خراب ہوتی سیاسی صورتحال ہے جس کی وجہ سے لوگ مارکیٹ میں ڈالر فروخت نہیں کررہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں معمولی حجم کے مقابلے میں تجارت  سکڑ کر صرف 20 فیصد رہ گئی ہے جبکہ زیادہ تر خریدار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظفر پراچا نے مزید کہا کہ زیادہ تر پاکستانی غیر ملکی کرنسیوں کو فروخت نہیں کررہے اور اس کی وجہ شرح تبادلہ میں اتار چڑھاؤ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="روپے-کی-قدر-میں-بڑی-کمی" href="#روپے-کی-قدر-میں-بڑی-کمی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;روپے کی قدر میں بڑی کمی&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے روپے کی قدر میں بڑے کمی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا تاکہ انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر اوپن مارکیٹ کے قریب آجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ اس فرق کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ درآمدکنندگان کو درآمدات کے لیے ڈالر کا انتظام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اس سے گرے مارکیٹ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189967"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظفر پراچا نے بتایا کہ گرے مارکیٹ میں فی ڈالر کے لیے 320 سے 322 روپے کے درمیان پیش کش کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خراب سیاسی صورتحال کی وجہ سے آئی ایم ایف پاکستان کو قرض دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا میں رپورٹس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ مالی سال 2023 کی معاشی شرح نمو منفی رہ سکتی ہے، یہ ملک کے لیے ایک دھچکا ہوگا، جسے پہلے ہی ڈیفالٹ کے حوالے سے خدشات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان شرح تبادلہ میں فی ڈالر 22 روپے کا بڑا فرق دیکھا گیا، جس کے سبب مقامی کرنسی کی قدر میں بڑے کمی کی قیاس آرئیاں مضبوط ہو رہی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1755596/swelling-rate-gap-stirs-talk-of-big-devaluation"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 26 جنوری کو شرح تبادلہ سے کیپ ہٹا دیا گیا جس کے بعد ایک دن میں روپے کی قدر میں دو دہائیوں کے دوران بڑی تنزلی دیکھی گئی، اُس دن روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 9.6 فیصد یا 25 روپے فی ڈالر کم ہونے کے بعد 255 روپے پر بند ہوا، اس کا مقصد آئی ایم ایف کی مارکیٹ کی بنیاد پر شرح تبادلہ کے مطالبے کو پورا کرنا تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں محض 2 پیسے کی کمی ہوئی لیکن اوپن مارکیٹ میں یہ 312 روپے کی بُلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔</p>
<p>ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے رپورٹ کیا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 309 پر بند ہوا جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا کہ انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ 287 روپے 13 پیسے پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203433"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان دونوں مارکیٹوں میں فی ڈالر فرق 22 روپے کی سطح پر پہنچ گیا جس کے بعد مرکزی بینک کے لیے مشکل ہوگا کہ وہ بینکوں میں شرح تبادلہ کو برقرار رکھ سکے، اس کی وجہ سے ترسیلات زر میں کمی ہوئی جس میں گزشتہ مہینے 29 فیصد تنزلی ہوئی اور موجودہ مالی سال کے ابتدائی 10 مہینوں کے دوران 13 فیصد کم ہوئی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق 22 روپے فرق کی وجہ سے روپے کی قدر میں بڑی کمی ہوسکتی ہیے۔</p>
<p>ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی غیر متوقع بُلند قیمت کی تین وجوہات ہیں، پہلی زرمبادلہ کی آمد کم ہو رہی ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ بینکس کھاتے داروں اور ایکسچینج کمپنیوں کو ڈالر فراہم نہیں کررہے، اور آخری وجہ خراب ہوتی سیاسی صورتحال ہے جس کی وجہ سے لوگ مارکیٹ میں ڈالر فروخت نہیں کررہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں معمولی حجم کے مقابلے میں تجارت  سکڑ کر صرف 20 فیصد رہ گئی ہے جبکہ زیادہ تر خریدار ہیں۔</p>
<p>ظفر پراچا نے مزید کہا کہ زیادہ تر پاکستانی غیر ملکی کرنسیوں کو فروخت نہیں کررہے اور اس کی وجہ شرح تبادلہ میں اتار چڑھاؤ ہے۔</p>
<h4><a id="روپے-کی-قدر-میں-بڑی-کمی" href="#روپے-کی-قدر-میں-بڑی-کمی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>روپے کی قدر میں بڑی کمی</h4>
<p>انہوں نے روپے کی قدر میں بڑے کمی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا تاکہ انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر اوپن مارکیٹ کے قریب آجائے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ اس فرق کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ درآمدکنندگان کو درآمدات کے لیے ڈالر کا انتظام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اس سے گرے مارکیٹ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189967"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ظفر پراچا نے بتایا کہ گرے مارکیٹ میں فی ڈالر کے لیے 320 سے 322 روپے کے درمیان پیش کش کی جارہی ہے۔</p>
<p>کرنسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خراب سیاسی صورتحال کی وجہ سے آئی ایم ایف پاکستان کو قرض دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔</p>
<p>میڈیا میں رپورٹس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ مالی سال 2023 کی معاشی شرح نمو منفی رہ سکتی ہے، یہ ملک کے لیے ایک دھچکا ہوگا، جسے پہلے ہی ڈیفالٹ کے حوالے سے خدشات کا سامنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204255</guid>
      <pubDate>Thu, 25 May 2023 11:33:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/2511300016d60a6.jpg?r=113028" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/2511300016d60a6.jpg?r=113028"/>
        <media:title>اوپن مارکیٹ میں یہ 312 روپے کی بُلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
