<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:14:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:14:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل چوتھے ہفتے کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204381/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل چوتھے ہفتے تنزلی کے بعد 4 ارب 20 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں، جس سے بمشکل ایک مہینے کی کنٹرولڈ درآمدات کی جاسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1755846/sbp-reserves-drop-by-119m"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 19 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر 11 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کم ہو گئے جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 8 کروڑ 75 لاکھ ڈالر گر کر 5 ارب 54 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے مجموعی ذخائر 9 ارب 73 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے، جن میں کُل 20 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تنزلی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1661770383887056907"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی  معیشت کے لیے ایک ایک ڈالر اہم ہے، جس سے شرح تبادلہ پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرمبادلہ میں حالیہ کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے کے لیے سخت شرائط لگا کر درآمدات پر سخت کنٹرول رکھا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ سخت کنٹرول کے 2 نتائج ظاہر ہوتے ہیں، درآمدات کرنے کے لیے درآمدکنندگان ڈالر غیرقانونی منڈیوں سے خریدنا شروع کر دیتے ہیں اور دوسری طرف بڑے پیمانے پر اشیا کی اسمگلنگ بھی شروع ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستانی منڈیاں اسمگل شدہ ایرانی اور چینی مصنوعات سے بھری پڑی ہیں جبکہ بنگلہ دیش سے ٹیکسٹائل مصنوعات بھی آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشیا کی اسمگلنگ اور غیر قانونی منڈیوں سے ڈالر خریدنے کی وجہ سے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان ڈالر کا فرق زیادہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق 22 روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس بڑے فرق سے فائدہ اٹھانے کے سبب قانونی ذرائع کا استعمال کرنا روک دیا ہے، اپریل میں دوسرے ملک میں مقیم پاکستانیوں نے 29 فیصد کم ترسیلات زر بھیجیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالرز کی آمد قانونی سے غیر قانونی ذرائع کی طرف منتقل ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ فرق برقرار رہتا ہے تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان مجبور ہو جائے گا کہ وہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل چوتھے ہفتے تنزلی کے بعد 4 ارب 20 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں، جس سے بمشکل ایک مہینے کی کنٹرولڈ درآمدات کی جاسکتی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1755846/sbp-reserves-drop-by-119m"><strong>رپورٹ</strong></a> میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 19 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر 11 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کم ہو گئے جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 8 کروڑ 75 لاکھ ڈالر گر کر 5 ارب 54 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔</p>
<p>ملک کے مجموعی ذخائر 9 ارب 73 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے، جن میں کُل 20 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تنزلی ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1661770383887056907"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی  معیشت کے لیے ایک ایک ڈالر اہم ہے، جس سے شرح تبادلہ پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>
<p>زرمبادلہ میں حالیہ کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے کے لیے سخت شرائط لگا کر درآمدات پر سخت کنٹرول رکھا ہوا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مالیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ سخت کنٹرول کے 2 نتائج ظاہر ہوتے ہیں، درآمدات کرنے کے لیے درآمدکنندگان ڈالر غیرقانونی منڈیوں سے خریدنا شروع کر دیتے ہیں اور دوسری طرف بڑے پیمانے پر اشیا کی اسمگلنگ بھی شروع ہو جاتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستانی منڈیاں اسمگل شدہ ایرانی اور چینی مصنوعات سے بھری پڑی ہیں جبکہ بنگلہ دیش سے ٹیکسٹائل مصنوعات بھی آرہی ہیں۔</p>
<p>اشیا کی اسمگلنگ اور غیر قانونی منڈیوں سے ڈالر خریدنے کی وجہ سے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان ڈالر کا فرق زیادہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>یہ فرق 22 روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس بڑے فرق سے فائدہ اٹھانے کے سبب قانونی ذرائع کا استعمال کرنا روک دیا ہے، اپریل میں دوسرے ملک میں مقیم پاکستانیوں نے 29 فیصد کم ترسیلات زر بھیجیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالرز کی آمد قانونی سے غیر قانونی ذرائع کی طرف منتقل ہوئی ہے۔</p>
<p>اگر یہ فرق برقرار رہتا ہے تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان مجبور ہو جائے گا کہ وہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204381</guid>
      <pubDate>Fri, 26 May 2023 10:10:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/26093437a420186.jpg?r=093449" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/26093437a420186.jpg?r=093449"/>
        <media:title>موجودہ ذخائر بمشکل صرف 4 ہفتوں کی درآمدات کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
