<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:18:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:18:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مائیکروسافٹ کے آئی اے اسسٹنٹ کے مقابلے میں گوگل کا اے آئی سرچ جنریٹو متعارف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204716/</link>
      <description>&lt;p&gt;مائیکرو سافٹ کی جانب سے ونڈو 11 کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیجیٹل اسسٹنٹ متعارف کرنے کے فوری بعد گوگل نے بھی اپنا اے آئی سرچ جنریٹو متعارف کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل نے اپنے سرچ انجن کے لیے ایس جی ای یعنی سرچ جنریٹو ایکسپیریئنس (Search Generative Experience) نامی اے آئی ٹول متعارف کروایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے بلاگ پوسٹ کے &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.engadget.com/google-begins-opening-access-to-generative-ai-in-search-175550693.html"&gt;مطابق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; صارفین اس ٹول کی مدد سے اپنے آئیڈیاز سرچ کرسکتے ہیں اور کمپنی کو فیڈ بیک بھی فراہم کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرچ جنریٹو اے آئی مختلف طریقوں سے آپ کے سوال کا جواب دے سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارف کی جانب سے سرچ پر کلک کرنے کے بعد جنریٹو اے آئی صارف کے سوال کے مطابق اس کی معلومات کے علاوہ تصاویر، ویڈیوز ایک ہی پیج پر سامنے لائے گا، یہی نہیں بلکہ پہلے سوال کی بنیاد پر آپ اے آئی جنریٹو سے فالو اَپ سوال بھی کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/dVsiusLQy5Q?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچر جدید طریقے سے کام کرے گا تو صارف کے سرچ انجن کو پہلے سےبھی زیادہ بہتر کام کرنے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر کا اعلان رواں ہفتے ہوا تھا لیکن اب ٹیسٹنگ کے لیے صارف اسے اپنے ڈیوائسز پر استعمال کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل سرچ جنریٹو ایکسپیریئنس کو استعمال کرنے کے لیے امریکا میں موجود صارفین کو گوگل لیبز میں سائن اَپ کرنا ہوگا، فیچر کا استعمال شروع کرنے کے لیے انہیں کمپنی کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچر ابھی صرف امریکی صارفین کے لیے محدود ہے، مستقبل میں اسے دیگر ممالک کے صارفین کے لیے بھی استعمال کے لیے متعارف کروایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کی جانب سے نومبر 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے نام سے ایک چیٹ باٹ لانچ کیا گیا تھا جسے ایک ہفتے کے اندر 10 لاکھ سے زیادہ صارفین نے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس وقت سوشل میڈیا پر نوجوان طلبہ چیٹ جی پی ٹی سے سب سے زیادہ خوش ہیں کیونکہ اب انہیں لگتا ہے کہ ان کے لیے اسکول، کالج یا یونیورسٹی کا کام کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مائیکرو سافٹ کی جانب سے ونڈو 11 کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیجیٹل اسسٹنٹ متعارف کرنے کے فوری بعد گوگل نے بھی اپنا اے آئی سرچ جنریٹو متعارف کردیا ہے۔</p>
<p>گوگل نے اپنے سرچ انجن کے لیے ایس جی ای یعنی سرچ جنریٹو ایکسپیریئنس (Search Generative Experience) نامی اے آئی ٹول متعارف کروایا ہے۔</p>
<p>گوگل کے بلاگ پوسٹ کے <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.engadget.com/google-begins-opening-access-to-generative-ai-in-search-175550693.html">مطابق</a></strong> صارفین اس ٹول کی مدد سے اپنے آئیڈیاز سرچ کرسکتے ہیں اور کمپنی کو فیڈ بیک بھی فراہم کر سکتے ہیں۔</p>
<p>سرچ جنریٹو اے آئی مختلف طریقوں سے آپ کے سوال کا جواب دے سکے گا۔</p>
<p>صارف کی جانب سے سرچ پر کلک کرنے کے بعد جنریٹو اے آئی صارف کے سوال کے مطابق اس کی معلومات کے علاوہ تصاویر، ویڈیوز ایک ہی پیج پر سامنے لائے گا، یہی نہیں بلکہ پہلے سوال کی بنیاد پر آپ اے آئی جنریٹو سے فالو اَپ سوال بھی کرسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/dVsiusLQy5Q?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ فیچر جدید طریقے سے کام کرے گا تو صارف کے سرچ انجن کو پہلے سےبھی زیادہ بہتر کام کرنے میں مدد دے گا۔</p>
<p>اس فیچر کا اعلان رواں ہفتے ہوا تھا لیکن اب ٹیسٹنگ کے لیے صارف اسے اپنے ڈیوائسز پر استعمال کرسکتے ہیں۔</p>
<p>گوگل سرچ جنریٹو ایکسپیریئنس کو استعمال کرنے کے لیے امریکا میں موجود صارفین کو گوگل لیبز میں سائن اَپ کرنا ہوگا، فیچر کا استعمال شروع کرنے کے لیے انہیں کمپنی کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوگا۔</p>
<p>یہ فیچر ابھی صرف امریکی صارفین کے لیے محدود ہے، مستقبل میں اسے دیگر ممالک کے صارفین کے لیے بھی استعمال کے لیے متعارف کروایا جائے گا۔</p>
<p>یاد رہے کہ مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کی جانب سے نومبر 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے نام سے ایک چیٹ باٹ لانچ کیا گیا تھا جسے ایک ہفتے کے اندر 10 لاکھ سے زیادہ صارفین نے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔</p>
<p>تاہم اس وقت سوشل میڈیا پر نوجوان طلبہ چیٹ جی پی ٹی سے سب سے زیادہ خوش ہیں کیونکہ اب انہیں لگتا ہے کہ ان کے لیے اسکول، کالج یا یونیورسٹی کا کام کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204716</guid>
      <pubDate>Mon, 29 May 2023 16:50:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/29135240c97a488.gif?r=165025" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/29135240c97a488.gif?r=165025"/>
        <media:title>— فوٹو: آن لائن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
