<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:29:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:29:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمپیوٹر چپ کو انسانی دماغ میں آزمانے کی اجازت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204854/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://neuralink.com/"&gt;&lt;strong&gt;’نیورا لنک‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے امریکی محکمہ صحت نے کمپیوٹر چپ کو انسانی دماغ میں آزمانے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نیورا لنک‘ ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کی کمپنی ہے، جسے 2016 میں بنایا گیا تھا، اس کمپنی کا مقصد ایسی کمپیوٹرائزڈ چپ تیار کرنا ہے، جنہیں انسانی دماغ اور جسم میں داخل کرکے انسان ذات کو بیماریوں سے بچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کمپنی نے 2020 میں تیار کردہ کمپیوٹرائزڈ چپ کو جانوروں کے دماغ میں داخل کرکے اس کی آزمائش بھی کی تھی اور پھر کمپیوٹرائزڈ چپ والے جانوروں کو دنیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مذکورہ چپ کی انسانوں پر آزمائش کے لیے امریکی محکمہ صحت سے اجازت طلب کی تھی اور اب نیورا لنک کو آزمائش کی اجازت دے دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/neuralink/status/1661857379460468736"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیورا لنک کی جانب سے اپنی ٹوئٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا کے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ (ایف ڈی اے) نے کمپیوٹرائزڈ چپ کی انسانی دماغ میں آزمائش کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حوالے سے خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/elon-musk-neuralink-brain-computer-interface-7e80956022b1d8f31ee24ed7c1fe1138"&gt;&lt;strong&gt;اے پی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;) نے بتایا کہ اگرچہ محکمہ صحت نے اس حوالے سے مزید کوئی تفصیلات شیئر نہیں کیں، تاہم اس بات کی تصدیق کی کہ ادارے نے ایلون مسک کی کمپنی کو کمپیوٹرائزڈ چپ کی آزمائش کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیورا لنک کے مطابق کمپیوٹرائزڈ چپ کی انسانی دماغ میں آزمائش کے پروگرام کو امریکی محکمہ صحت کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا اور اس ضمن میں مزید تفصیلات جلد ہی جاری کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق ابھی آزمائشی پروگرام کے لیے بھرتیاں نہیں کی جا رہیں لیکن اس ضمن میں جلد ہی مزید معلومات کو عام کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلے چند ماہ میں نیورا لنک کمپنی محدود رضاکاروں کو بھرتی کرکے ان کے دماغوں میں کمپیوٹرائزڈ چپ کو داخل کرکے آزمائشی پروگرام کا آغاز کردے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیورا لنک کی جانب سے بنائی گئی مذکورہ  چپ کسی چھوٹے سکے کی سائز کی ہے اور وہ انتہائی پتلی ہے، جسے کسی بھی جاندار کے دماغ میں نصب کرکے اسے وائرلیس سسٹم کے ذریعے اسمارٹ فون سے منسلک کیا جاسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ چپ فالج، انزائٹی، ڈپریشن، جوڑوں کے شدید درد، ریڑھ کی ہڈی کے درد، دماغ کے شدید متاثر ہوکر کام چھوڑنے، نابینا پن، سماعت گویائی سے محرومی، بے خوابی اور بے ہوشی کے دوروں سمیت دیگر بیماریوں اور مسائل کو فوری طور پر حل کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ چپ کو موبائل فون کے سم کارڈ کی طرح ایسے سسٹم سے بنایا گیا ہے جو سگنل کی مدد سے اسے اسمارٹ فون سے منسلک کرے گا اور پھر فون کے ذریعے مذکورہ چیزیں شامل کی جا سکیں گی اور چپ سے چیزیں نکالی بھی جا سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ چپ انسانی خیالات کا ریکارڈ بھی جمع کرے گی جب کہ انسان کی یادداشت کو بھی محفوظ رکھ سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چپ میں محفوظ انسانی یادداشت کو کمپیوٹر یا موبائل کے ذریعے کسی بھی وقت ری پلے کیا جا سکے گا یا کسی بھی وقت ماضی میں گزرے دنوں کو اسکرین پر ڈیٹا کی صورت میں لایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://neuralink.com/"><strong>’نیورا لنک‘</strong></a> نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے امریکی محکمہ صحت نے کمپیوٹر چپ کو انسانی دماغ میں آزمانے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>’نیورا لنک‘ ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کی کمپنی ہے، جسے 2016 میں بنایا گیا تھا، اس کمپنی کا مقصد ایسی کمپیوٹرائزڈ چپ تیار کرنا ہے، جنہیں انسانی دماغ اور جسم میں داخل کرکے انسان ذات کو بیماریوں سے بچانا ہے۔</p>
<p>اسی کمپنی نے 2020 میں تیار کردہ کمپیوٹرائزڈ چپ کو جانوروں کے دماغ میں داخل کرکے اس کی آزمائش بھی کی تھی اور پھر کمپیوٹرائزڈ چپ والے جانوروں کو دنیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>کمپنی نے مذکورہ چپ کی انسانوں پر آزمائش کے لیے امریکی محکمہ صحت سے اجازت طلب کی تھی اور اب نیورا لنک کو آزمائش کی اجازت دے دی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/neuralink/status/1661857379460468736"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>نیورا لنک کی جانب سے اپنی ٹوئٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا کے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ (ایف ڈی اے) نے کمپیوٹرائزڈ چپ کی انسانی دماغ میں آزمائش کی اجازت دے دی۔</p>
<p>اسی حوالے سے خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/elon-musk-neuralink-brain-computer-interface-7e80956022b1d8f31ee24ed7c1fe1138"><strong>اے پی</strong></a>) نے بتایا کہ اگرچہ محکمہ صحت نے اس حوالے سے مزید کوئی تفصیلات شیئر نہیں کیں، تاہم اس بات کی تصدیق کی کہ ادارے نے ایلون مسک کی کمپنی کو کمپیوٹرائزڈ چپ کی آزمائش کی اجازت دے دی۔</p>
<p>نیورا لنک کے مطابق کمپیوٹرائزڈ چپ کی انسانی دماغ میں آزمائش کے پروگرام کو امریکی محکمہ صحت کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا اور اس ضمن میں مزید تفصیلات جلد ہی جاری کی جائیں گی۔</p>
<p>ادارے کے مطابق ابھی آزمائشی پروگرام کے لیے بھرتیاں نہیں کی جا رہیں لیکن اس ضمن میں جلد ہی مزید معلومات کو عام کیا جائے گا۔</p>
<p>خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلے چند ماہ میں نیورا لنک کمپنی محدود رضاکاروں کو بھرتی کرکے ان کے دماغوں میں کمپیوٹرائزڈ چپ کو داخل کرکے آزمائشی پروگرام کا آغاز کردے گی۔</p>
<p>نیورا لنک کی جانب سے بنائی گئی مذکورہ  چپ کسی چھوٹے سکے کی سائز کی ہے اور وہ انتہائی پتلی ہے، جسے کسی بھی جاندار کے دماغ میں نصب کرکے اسے وائرلیس سسٹم کے ذریعے اسمارٹ فون سے منسلک کیا جاسکے گا۔</p>
<p>مذکورہ چپ فالج، انزائٹی، ڈپریشن، جوڑوں کے شدید درد، ریڑھ کی ہڈی کے درد، دماغ کے شدید متاثر ہوکر کام چھوڑنے، نابینا پن، سماعت گویائی سے محرومی، بے خوابی اور بے ہوشی کے دوروں سمیت دیگر بیماریوں اور مسائل کو فوری طور پر حل کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔</p>
<p>مذکورہ چپ کو موبائل فون کے سم کارڈ کی طرح ایسے سسٹم سے بنایا گیا ہے جو سگنل کی مدد سے اسے اسمارٹ فون سے منسلک کرے گا اور پھر فون کے ذریعے مذکورہ چیزیں شامل کی جا سکیں گی اور چپ سے چیزیں نکالی بھی جا سکیں گی۔</p>
<p>مذکورہ چپ انسانی خیالات کا ریکارڈ بھی جمع کرے گی جب کہ انسان کی یادداشت کو بھی محفوظ رکھ سکے گی۔</p>
<p>چپ میں محفوظ انسانی یادداشت کو کمپیوٹر یا موبائل کے ذریعے کسی بھی وقت ری پلے کیا جا سکے گا یا کسی بھی وقت ماضی میں گزرے دنوں کو اسکرین پر ڈیٹا کی صورت میں لایا جا سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204854</guid>
      <pubDate>Tue, 30 May 2023 20:45:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/301807529b370d0.jpg?r=180811" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/301807529b370d0.jpg?r=180811"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ یوٹیوب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
