<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:44:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:44:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کو قرضوں میں 98 فیصد کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1204951/</link>
      <description>&lt;p&gt;بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کو رواں مالی سال صرف 28 ارب روپے کا قرضہ دیا گیا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 98 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1757010/private-sector-credit-shrinks-by-98pc"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسٹیٹ بینک نے رپورٹ کیا کہ یکم جولائی سے 19 مئی تک نجی شعبے نے محض 27 ارب 90 کروڑ روپے کا قرضہ لیا جبکہ گزشتہ برس 14 کھرب 14 ارب کا قرضہ لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی معیشت کو تاریخ کے 21 فیصد کی بُلند ترین شرح سود اور 36 فیصد کی مہنگائی کا سامنا ہے، اوسط افراط زر کی شرح رواں مالی سال میں 30 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل مینوفیکچرر اور برآمدکنندہ عامر عزیز نے بتایا کہ بُلند افراط زر اور 36 فیصد کی غیر معمولی مہنگائی میں کاروبار کو چلانے کا کوئی چانس نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل کی برآمدات پہلے ہی گر رہی ہیں اور خدشہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں صورتحال بدتر ہو جائے گی کیونکہ ملز کے پاس کپاس کے ذخائر ختم ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملک میں صرف 50 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار ہوئی ہے جبکہ ضرورت ایک کروڑ 50 لاکھ گانٹھوں کی ہے، ملک کے پاس اس کو درآمد کرنے کے لیے زرمبادلہ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ نجی شعبہ بینکوں سے دور ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکرز نے بتایا کہ شرح سود بنیادی پالیسی ریٹ 21 فیصد کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے، اس کا انحصار قرض لینے والے سے منسلک خطرات پر ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں کوئی کاروبار نہیں چل سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی شعبے کا خیال ہے کہ مرکزی بینک مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بنیادی شرح سود میں مزید اضافہ کرسکتا ہے، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو بھی موجودہ شرح سود پر اعتراض ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بُلند شرح سود کے پہلے ہی منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں، زیادہ تر تجزیہ کاروں اور ماہرین معیشت کا خیال ہے کہ رواں مالی سال میں شرح نمو منفی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان ادارہ شماریات نے زراعت کی نمو 1.55 فیصد رپورٹ کی ہے حالانکہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ برس سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، شرح نمو اس بڑے نقصان سے مطابقت نہیں رکھتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان ادارہ شماریات کے نتائج سے خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 0.29 فیصد ہوسکتی ہے لیکن کافی کو یقین ہے کہ اس بار کوئی شرح نمو نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ ہمیں بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی بے یقینی کی صورتحال کے تحت بقا کے سنگین سوال کا سامنا ہے، خاص طور پر جب آئی ایم ایف اپنی نویں جائزے کی قسط کے اجرا پر خاموش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو موجودہ معاشی صورتحال سے نکلنے کے لیے خطیر مالی مدد کی ضرورت ہے، تجزیہ کار نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اس بار چین ہمیں بچانے کے لیے نہیں آئے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کو رواں مالی سال صرف 28 ارب روپے کا قرضہ دیا گیا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 98 فیصد کم ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1757010/private-sector-credit-shrinks-by-98pc"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسٹیٹ بینک نے رپورٹ کیا کہ یکم جولائی سے 19 مئی تک نجی شعبے نے محض 27 ارب 90 کروڑ روپے کا قرضہ لیا جبکہ گزشتہ برس 14 کھرب 14 ارب کا قرضہ لیا گیا تھا۔</p>
<p>ملکی معیشت کو تاریخ کے 21 فیصد کی بُلند ترین شرح سود اور 36 فیصد کی مہنگائی کا سامنا ہے، اوسط افراط زر کی شرح رواں مالی سال میں 30 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ٹیکسٹائل مینوفیکچرر اور برآمدکنندہ عامر عزیز نے بتایا کہ بُلند افراط زر اور 36 فیصد کی غیر معمولی مہنگائی میں کاروبار کو چلانے کا کوئی چانس نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل کی برآمدات پہلے ہی گر رہی ہیں اور خدشہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں صورتحال بدتر ہو جائے گی کیونکہ ملز کے پاس کپاس کے ذخائر ختم ہو گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملک میں صرف 50 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار ہوئی ہے جبکہ ضرورت ایک کروڑ 50 لاکھ گانٹھوں کی ہے، ملک کے پاس اس کو درآمد کرنے کے لیے زرمبادلہ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ نجی شعبہ بینکوں سے دور ہورہا ہے۔</p>
<p>بینکرز نے بتایا کہ شرح سود بنیادی پالیسی ریٹ 21 فیصد کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے، اس کا انحصار قرض لینے والے سے منسلک خطرات پر ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں کوئی کاروبار نہیں چل سکتا۔</p>
<p>مالیاتی شعبے کا خیال ہے کہ مرکزی بینک مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بنیادی شرح سود میں مزید اضافہ کرسکتا ہے، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو بھی موجودہ شرح سود پر اعتراض ہے۔</p>
<p>بُلند شرح سود کے پہلے ہی منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں، زیادہ تر تجزیہ کاروں اور ماہرین معیشت کا خیال ہے کہ رواں مالی سال میں شرح نمو منفی ہوسکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم پاکستان ادارہ شماریات نے زراعت کی نمو 1.55 فیصد رپورٹ کی ہے حالانکہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ برس سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، شرح نمو اس بڑے نقصان سے مطابقت نہیں رکھتی۔</p>
<p>کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان ادارہ شماریات کے نتائج سے خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 0.29 فیصد ہوسکتی ہے لیکن کافی کو یقین ہے کہ اس بار کوئی شرح نمو نہیں ہوگی۔</p>
<p>ایک سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ ہمیں بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی بے یقینی کی صورتحال کے تحت بقا کے سنگین سوال کا سامنا ہے، خاص طور پر جب آئی ایم ایف اپنی نویں جائزے کی قسط کے اجرا پر خاموش ہے۔</p>
<p>پاکستان کو موجودہ معاشی صورتحال سے نکلنے کے لیے خطیر مالی مدد کی ضرورت ہے، تجزیہ کار نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اس بار چین ہمیں بچانے کے لیے نہیں آئے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1204951</guid>
      <pubDate>Wed, 31 May 2023 18:06:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/311507392936b95.png?r=180641" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/311507392936b95.png?r=180641"/>
        <media:title>انہوں نے کہا کہ ملک کے پاس کپاس درآمد کرنے کے لیے زرمبادلہ نہیں ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
