<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:28:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:28:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل پانچویں ہفتے کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205113/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے زر مبادلہ کے مجموعی  ذخائر مزید کمی کے بعد  9 ارب 51 کروڑ امریکی ڈالر رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 26 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں پاکستان کے زر مبادلہ کے مجموعی  ذخائر 9 ارب 51 کروڑ امریکی ڈالر رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1664302933301932032"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق 26 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر  9 ارب 51 کروڑ ڈالر رہ گئے جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس 4 ارب 9 کروڑ ڈالر سے زائد  اور  کمرشل بینکوں کے ذخائر  5 ارب 42 کروڑ ڈالر  رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل چوتھے ہفتے تنزلی کے بعد 4 ارب 20 کروڑ ڈالر رہ گئے تھے، جس سے بمشکل ایک مہینے کی کنٹرولڈ درآمدات کی جاسکتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 19 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 11 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہو گئے جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 8 کروڑ 75 لاکھ ڈالر سے کم ہو کر 5 ارب 54 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ملک کے مجموعی ذخائر 9 ارب 73 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے تھے، جن میں مجموعی طور پر 20 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تنزلی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کے لیے ایک ایک ڈالر اہم ہے، جس سے شرح تبادلہ پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرمبادلہ میں حالیہ کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے کے لیے سخت شرائط لگا کر درآمدات پر سخت کنٹرول رکھا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ سخت کنٹرول کے 2 نتائج ظاہر ہوتے ہیں، درآمدات کے لیے درآمدکنندگان ڈالر غیرقانونی منڈیوں سے خریدنا شروع کر دیتے ہیں اور دوسری طرف بڑے پیمانے پر اشیا کی اسمگلنگ بھی شروع ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستانی منڈیاں اسمگل شدہ ایرانی اور چینی مصنوعات سے بھری پڑی ہیں جبکہ بنگلہ دیش سے ٹیکسٹائل مصنوعات بھی آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشیا کی اسمگلنگ اور غیر قانونی منڈیوں سے ڈالر خریدنے کی وجہ سے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان ڈالر کا فرق زیادہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے یہ فرق 22 روپے تک پہنچ چکا تھا، جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس بڑے فرق سے فائدہ اٹھانے کے سبب قانونی ذرائع کا استعمال کرنا روک دیا ہے، اپریل میں دوسرے ملک میں مقیم پاکستانیوں نے 29 فیصد کم ترسیلات زر بھیجیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالرز کی آمد قانونی سے غیر قانونی ذرائع کی طرف منتقل ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے زر مبادلہ کے مجموعی  ذخائر مزید کمی کے بعد  9 ارب 51 کروڑ امریکی ڈالر رہ گئے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 26 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں پاکستان کے زر مبادلہ کے مجموعی  ذخائر 9 ارب 51 کروڑ امریکی ڈالر رہ گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1664302933301932032"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق 26 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر  9 ارب 51 کروڑ ڈالر رہ گئے جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس 4 ارب 9 کروڑ ڈالر سے زائد  اور  کمرشل بینکوں کے ذخائر  5 ارب 42 کروڑ ڈالر  رہ گئے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل چوتھے ہفتے تنزلی کے بعد 4 ارب 20 کروڑ ڈالر رہ گئے تھے، جس سے بمشکل ایک مہینے کی کنٹرولڈ درآمدات کی جاسکتی تھیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 19 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 11 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہو گئے جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 8 کروڑ 75 لاکھ ڈالر سے کم ہو کر 5 ارب 54 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے تھے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے ملک کے مجموعی ذخائر 9 ارب 73 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے تھے، جن میں مجموعی طور پر 20 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تنزلی ہوئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کے لیے ایک ایک ڈالر اہم ہے، جس سے شرح تبادلہ پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>
<p>زرمبادلہ میں حالیہ کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے کے لیے سخت شرائط لگا کر درآمدات پر سخت کنٹرول رکھا ہوا ہے۔</p>
<p>مالیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ سخت کنٹرول کے 2 نتائج ظاہر ہوتے ہیں، درآمدات کے لیے درآمدکنندگان ڈالر غیرقانونی منڈیوں سے خریدنا شروع کر دیتے ہیں اور دوسری طرف بڑے پیمانے پر اشیا کی اسمگلنگ بھی شروع ہو جاتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستانی منڈیاں اسمگل شدہ ایرانی اور چینی مصنوعات سے بھری پڑی ہیں جبکہ بنگلہ دیش سے ٹیکسٹائل مصنوعات بھی آرہی ہیں۔</p>
<p>اشیا کی اسمگلنگ اور غیر قانونی منڈیوں سے ڈالر خریدنے کی وجہ سے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان ڈالر کا فرق زیادہ ہو گیا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے یہ فرق 22 روپے تک پہنچ چکا تھا، جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس بڑے فرق سے فائدہ اٹھانے کے سبب قانونی ذرائع کا استعمال کرنا روک دیا ہے، اپریل میں دوسرے ملک میں مقیم پاکستانیوں نے 29 فیصد کم ترسیلات زر بھیجیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالرز کی آمد قانونی سے غیر قانونی ذرائع کی طرف منتقل ہوئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205113</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jun 2023 23:59:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/01231511f165e41.jpg?r=231518" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/01231511f165e41.jpg?r=231518"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
