<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:26:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:26:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا: ڈیفالٹ سے بچنے کیلئے جوبائیڈن نے قرض کی حد بڑھانے کے بل پر دستخط کر دیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205334/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر جو بائیڈن نے کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے قرض کی حد بڑھانے کے بل پر کئی ہفتوں تک تنازع جاری رہنے کے بعد دستخط کردیے تاکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو درپیش ایک تباہ کن اور خود ساختہ ڈیفالٹ روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1757876/biden-signs-debt-ceiling-bill-into-law-averting-default"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 2023 کا مالی ذمہ داری ایکٹ حکومت کو بلوں کی ادائیگی کو مدنظر رکھتے ہوئے قرض لینے کی تجدید کے لیے قرض کی حد میں توسیع کرنے کا اختیار دیتا ہے، ٹریژری نے خبردار کیا تھا کہ اگر قرض کی حد کو پیر سے آگے تک روکا گیا تو امریکا اپنے 310 کھرب ڈالر کے قرض کے سبب دیوالیہ ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ دیوالیہ ہونے کی صورت میں کاروباری حلقوں میں بےچینی پیدا ہوجاتی، بڑے پیمانے پر ملازمتیں چھن جاتیں اور کساد بازاری کا جنم ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک رہنماؤں کا تعاون پر شکریہ ادا کیا، اوول آفس کے ایک نادر خطاب میں جو بائیڈن نے کہا کہ قرض کی حد کے بل نے ملک کو معاشی تباہی سے بچالیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1201750"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوبائیڈن نے کہا کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان تعطل کو حل کرنے والا معاہدہ ایک سمجھوتہ ہے جس میں ہر کسی کو وہ سب کچھ نہیں ملا جو وہ چاہتے تھے تاہم ہم نے معاشی بحران کو ٹال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اب امریکا کا مکمل اعتماد اور ساکھ محفوظ کرلی ہے، تاہم ایوان اور سینیٹ اختلافات کو ایک طرف رکھ کر بالآخر گزشتہ ہفتے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اکٹھے ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹنگ ایجنسی فِچ نے کہا کہ وہ معاہدے کے باوجود امریکا کی ’ٹرپل اے‘ کریڈٹ ریٹنگ کو منفی رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ قرض کی حد طے کرنا عام طور پر ایک غیر متنازع طریقہ کار سمجھا جاتا ہے جسے کانگریس کی جانب سے سالانہ منظور کیا جاتا ہے، یہ حکومت کو پہلے سے خرچ کیے گئے بلوں کی ادائیگی کے لیے رقم ادھار لینے کی اجازت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر جو بائیڈن نے کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے قرض کی حد بڑھانے کے بل پر کئی ہفتوں تک تنازع جاری رہنے کے بعد دستخط کردیے تاکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو درپیش ایک تباہ کن اور خود ساختہ ڈیفالٹ روکا جا سکے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1757876/biden-signs-debt-ceiling-bill-into-law-averting-default"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 2023 کا مالی ذمہ داری ایکٹ حکومت کو بلوں کی ادائیگی کو مدنظر رکھتے ہوئے قرض لینے کی تجدید کے لیے قرض کی حد میں توسیع کرنے کا اختیار دیتا ہے، ٹریژری نے خبردار کیا تھا کہ اگر قرض کی حد کو پیر سے آگے تک روکا گیا تو امریکا اپنے 310 کھرب ڈالر کے قرض کے سبب دیوالیہ ہو جائے گا۔</p>
<p>خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ دیوالیہ ہونے کی صورت میں کاروباری حلقوں میں بےچینی پیدا ہوجاتی، بڑے پیمانے پر ملازمتیں چھن جاتیں اور کساد بازاری کا جنم ہوتا۔</p>
<p>گزشتہ روز ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک رہنماؤں کا تعاون پر شکریہ ادا کیا، اوول آفس کے ایک نادر خطاب میں جو بائیڈن نے کہا کہ قرض کی حد کے بل نے ملک کو معاشی تباہی سے بچالیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1201750"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جوبائیڈن نے کہا کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان تعطل کو حل کرنے والا معاہدہ ایک سمجھوتہ ہے جس میں ہر کسی کو وہ سب کچھ نہیں ملا جو وہ چاہتے تھے تاہم ہم نے معاشی بحران کو ٹال دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اب امریکا کا مکمل اعتماد اور ساکھ محفوظ کرلی ہے، تاہم ایوان اور سینیٹ اختلافات کو ایک طرف رکھ کر بالآخر گزشتہ ہفتے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اکٹھے ہوگئے۔</p>
<p>ریٹنگ ایجنسی فِچ نے کہا کہ وہ معاہدے کے باوجود امریکا کی ’ٹرپل اے‘ کریڈٹ ریٹنگ کو منفی رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ قرض کی حد طے کرنا عام طور پر ایک غیر متنازع طریقہ کار سمجھا جاتا ہے جسے کانگریس کی جانب سے سالانہ منظور کیا جاتا ہے، یہ حکومت کو پہلے سے خرچ کیے گئے بلوں کی ادائیگی کے لیے رقم ادھار لینے کی اجازت دیتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205334</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Jun 2023 13:03:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/04122802eb58663.png?r=130330" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/04122802eb58663.png?r=130330"/>
        <media:title>وائٹ ہاؤس نے کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک رہنماؤں کا تعاون پر شکریہ ادا کیا— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
