<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 03:13:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 03:13:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: جیو نیوز کے ایگزیکٹو پروڈیوسر زبیر انجم کو ’اٹھالیا‘ گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205463/</link>
      <description>&lt;p&gt;نجی چینل ’جیو نیوز‘ سے وابستہ ایگزیکٹو پروڈیوسر زبیر انجم کو ساہ لباس میں ملبوس افراد مبینہ طور پر ان کی رہائش گاہ سے ’اٹھا کر لے‘ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیو نیوز کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.geo.tv/latest/330452-"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں اہلِ خانہ کے حوالے سے کہا گیا کہ سادہ لباس افراد کے ہمراہ پولیس اہلکار بھی موجود تھے لیکن پولیس نے ان کی گرفتاری سے انکار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلِ خانہ نے مزید بتایا کہ 2 پولیس موبائل اور ایک ڈبل کیبن گاڑی ماڈل کالونی میں صحافی کی رہائش گاہ پر آئیں جن میں سے اہلکار ان کے گھر میں داخل ہوکر زبیر انجم کو لے گئے اور اہلِ خانہ نے ہراساں کرنے کا بھی الزام لگایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/geonews_urdu/status/1665836960907419650"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافی کے بھائی سعادت علی نے ڈان کو بتایا کہ منگل کی رات تقریباً ایک بجے کچھ سادہ لباس اور کچھ پولیس کی وردی پہنے ہوئے اہلکار ان کے گھر میں داخل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205123"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں میں سے کچھ بندوقیں اٹھائے اور ماسک بھی پہنے ہوئے تھے، وہ ’جلدی‘ میں تھے اور زبردستی ان کے بھائی کو لے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعادت علی کا مزید کہنا تھا کہ اہلکار زبیر انجم کا موبائل فون اور پڑوس میں لگے کیمروں کی ڈی وی آر بھی ساتھ لے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کورنگی کے ایس ایس پی طارق نواز نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کو صحافی کی گرفتاری کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ضلع کورنگی پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی طارق نواز کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اظہارِ-مذمت" href="#اظہارِ-مذمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اظہارِ مذمت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;متعدد مقامی اور بین الاقوامی میڈیا تنظیموں نے صحافی کی جبری گمشدگی کی مذمت کی اور وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر خارجہ، وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی پی سندھ سے اس کا فوری نوٹس لینے اور زبیر انجم کو فوری رہا کرنے کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ اور اس سے منسلک تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے صحافی کی گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت سے فوری تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پریس کلب کے ایک بیان میں کہا گیا کہ زبیر انجم ان کے رکن ہیں اور ان کے ’گن پوائنٹ پر اغوا‘ اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے پی سی نے اس اقدام کو میڈیا کی آزادی کو یرغمال بنانے اور اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے کے مترادف قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کلب نے پیر کی رات دیر گئے پروڈیوسر کے گھر میں زبردستی گھس کر انہیں بندوق کی نوک پر اغوا اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کو ’ریاستی دہشت گردی‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NKMalazai/status/1665946644314046465"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی یونین آف جرنلسٹس کے بھی مختلف دھڑوں نے اپنے اپنے بیانات میں الزام لگایا کہ دو پولیس موبائل اور ایک ڈبل کیبن وین پیر کی رات گئے زبیر انجم کے گھر پہنچی اور اہلکار انہیں بغیر کسی وارنٹ کے لے گئے اور  تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے یو جے کے سیکریٹری جنرل نے ایک ٹوئٹ میں ’جیو نیوز کے صحافی کے اغوا‘ پر دوپہر ساڑھے 3 بجے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کمشین فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس اور دیگر میڈیا اداروں نے کہا کہ زبیر انجم کسی بھی فوجداری مقدمے میں مطلوب نہیں تھے، لہٰذا یہ واضح طور پر ’اغوا‘ کا کیس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی زندگی اور آزادی کا تحفظ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے سندھ حکومت اور پولیس سربراہ سے مطالبہ کیا کہ زبیر انجم کی بازیابی کے لیے فوری اقدام کیے جائیں اور 36 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ کراچی سے چند روز قبل معروف وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر کو بھی گھر واپس جاتے ہوئے راستے سے اٹھا لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203869"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی گمشدگی کی صحافیوں، سول سوسائٹی کے اراکین کی جانب سے بھرپور مذمت کی گئی تھی، حراست میں لیے جانے کے ایک روز بعد جبران گھر واپس آگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو اسلام آباد میں نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے جو چھ روز بعد 30 مئی کو گھر واپس آگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اینکر پرسن عمران ریاض خان، جنہیں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کے بعد نفرت انگیز تقریر کے الزام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 11 مئی کو سیالکوٹ کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا اور پھر ’نامعلوم افراد‘ نے اٹھا لیا تھا، ابھی تک غائب ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نجی چینل ’جیو نیوز‘ سے وابستہ ایگزیکٹو پروڈیوسر زبیر انجم کو ساہ لباس میں ملبوس افراد مبینہ طور پر ان کی رہائش گاہ سے ’اٹھا کر لے‘ گئے۔</p>
<p>جیو نیوز کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.geo.tv/latest/330452-">رپورٹ</a></strong> میں اہلِ خانہ کے حوالے سے کہا گیا کہ سادہ لباس افراد کے ہمراہ پولیس اہلکار بھی موجود تھے لیکن پولیس نے ان کی گرفتاری سے انکار کیا ہے۔</p>
<p>اہلِ خانہ نے مزید بتایا کہ 2 پولیس موبائل اور ایک ڈبل کیبن گاڑی ماڈل کالونی میں صحافی کی رہائش گاہ پر آئیں جن میں سے اہلکار ان کے گھر میں داخل ہوکر زبیر انجم کو لے گئے اور اہلِ خانہ نے ہراساں کرنے کا بھی الزام لگایا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/geonews_urdu/status/1665836960907419650"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>صحافی کے بھائی سعادت علی نے ڈان کو بتایا کہ منگل کی رات تقریباً ایک بجے کچھ سادہ لباس اور کچھ پولیس کی وردی پہنے ہوئے اہلکار ان کے گھر میں داخل ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205123"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں میں سے کچھ بندوقیں اٹھائے اور ماسک بھی پہنے ہوئے تھے، وہ ’جلدی‘ میں تھے اور زبردستی ان کے بھائی کو لے گئے۔</p>
<p>سعادت علی کا مزید کہنا تھا کہ اہلکار زبیر انجم کا موبائل فون اور پڑوس میں لگے کیمروں کی ڈی وی آر بھی ساتھ لے گئے۔</p>
<p>کورنگی کے ایس ایس پی طارق نواز نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کو صحافی کی گرفتاری کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ضلع کورنگی پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔</p>
<p>ایس ایس پی طارق نواز کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں‘۔</p>
<h3><a id="اظہارِ-مذمت" href="#اظہارِ-مذمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اظہارِ مذمت</h3>
<p>متعدد مقامی اور بین الاقوامی میڈیا تنظیموں نے صحافی کی جبری گمشدگی کی مذمت کی اور وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر خارجہ، وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی پی سندھ سے اس کا فوری نوٹس لینے اور زبیر انجم کو فوری رہا کرنے کی اپیل کی۔</p>
<p>انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ اور اس سے منسلک تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے صحافی کی گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت سے فوری تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کراچی پریس کلب کے ایک بیان میں کہا گیا کہ زبیر انجم ان کے رکن ہیں اور ان کے ’گن پوائنٹ پر اغوا‘ اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔</p>
<p>کے پی سی نے اس اقدام کو میڈیا کی آزادی کو یرغمال بنانے اور اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے کے مترادف قرار دیا۔</p>
<p>پریس کلب نے پیر کی رات دیر گئے پروڈیوسر کے گھر میں زبردستی گھس کر انہیں بندوق کی نوک پر اغوا اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کو ’ریاستی دہشت گردی‘ قرار دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NKMalazai/status/1665946644314046465"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>کراچی یونین آف جرنلسٹس کے بھی مختلف دھڑوں نے اپنے اپنے بیانات میں الزام لگایا کہ دو پولیس موبائل اور ایک ڈبل کیبن وین پیر کی رات گئے زبیر انجم کے گھر پہنچی اور اہلکار انہیں بغیر کسی وارنٹ کے لے گئے اور  تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔</p>
<p>کے یو جے کے سیکریٹری جنرل نے ایک ٹوئٹ میں ’جیو نیوز کے صحافی کے اغوا‘ پر دوپہر ساڑھے 3 بجے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔</p>
<p>سندھ کمشین فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس اور دیگر میڈیا اداروں نے کہا کہ زبیر انجم کسی بھی فوجداری مقدمے میں مطلوب نہیں تھے، لہٰذا یہ واضح طور پر ’اغوا‘ کا کیس ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی زندگی اور آزادی کا تحفظ کرے۔</p>
<p>کمیشن نے سندھ حکومت اور پولیس سربراہ سے مطالبہ کیا کہ زبیر انجم کی بازیابی کے لیے فوری اقدام کیے جائیں اور 36 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کی جائے۔</p>
<p>خیال رہے کہ کراچی سے چند روز قبل معروف وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر کو بھی گھر واپس جاتے ہوئے راستے سے اٹھا لیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203869"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کی گمشدگی کی صحافیوں، سول سوسائٹی کے اراکین کی جانب سے بھرپور مذمت کی گئی تھی، حراست میں لیے جانے کے ایک روز بعد جبران گھر واپس آگئے تھے۔</p>
<p>قبل ازیں سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو اسلام آباد میں نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے جو چھ روز بعد 30 مئی کو گھر واپس آگئے تھے۔</p>
<p>دریں اثنا اینکر پرسن عمران ریاض خان، جنہیں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کے بعد نفرت انگیز تقریر کے الزام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 11 مئی کو سیالکوٹ کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا اور پھر ’نامعلوم افراد‘ نے اٹھا لیا تھا، ابھی تک غائب ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205463</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jun 2023 17:21:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکامتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/06142847f756d08.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/06142847f756d08.jpg"/>
        <media:title>صحافتی تنظیموں نے زبیر انجم کی گمشدگی کی مذمت اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے —تصویر: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
