<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:30:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:30:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیصل آباد جیل میں دو قیدیوں کی اعلیٰ شخصیات کو مشکوک فون کالز، جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ معطل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205499/</link>
      <description>&lt;p&gt;سینٹرل جیل فیصل آباد میں دو قیدیوں کی اعلیٰ شخصیات کو مشکوک فون کالز، خفیہ اطلاع ملنے پر پنجاب کی محکمہ جیل خانہ جات کی خصوصی ٹیم نے سرچ آپریشن کے دوران قیدیوں کو حراست میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1758321"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کی خصوصی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر سینٹرل جیل فیصل آباد پر چھاپہ مارا، رپورٹس کے مطابق بیرک سے مشکوک کالز کی گئی تھیں جبکہ کال کرنے والے قیدیوں کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ جیل خانہ جات کے دو ڈی آئی جیز کی سربراہی میں ٹیم نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا، آپریشن کے دوران دو قیدیوں کو حراست میں لے کر فیصل آباد کی ہائی پروفائل شخصیت کو کال کرنے کے لیے استعمال کیے گئے موبائل فون بھی ضبط کرلیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریشن کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو ملازمت سے معطل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1050957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب جیل کے ڈی آئی جی سالک جلال اور نوید رؤف نے چھاپہ مار ٹیموں کی قیادت کی جو 5 مئی کو لاہور سے فیصل آباد کے لیے روانہ ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب حکومت کے اعلیٰ عہدیداران نے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ جیل خانہ جات کے انسپیکٹر جنرل میاں فاروق نذیر کو آپریشن ’انتہائی خفیہ‘ رکھنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باخبر ذرائع کے مطابق ماہرین یہ جان کر حیران تھے کہ غیر مجاز کالز کو بلاک کرنے کیلئے حکام کی جانب سے لگائے جیمرز کے باوجود قیدی جیل سے موبائل فون استعمال کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایجنسیوں کو جب مشکوک کالز کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے  پنجاب حکومت کو معلومات فراہم کی تھیں، عام طور پر پنجاب جیل کے قیدیوں کی جانب سے موبائل فون کے استعمال سے متعلق ماضی میں بھی شکایات رپورٹ ہوتی رہی ہیں کیونکہ قیدی جیل سے باہر اپنے اہل خانہ اور دیگر سے رابطے میں رہتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مزید بتایا کہ لیکن حالیہ واقعہ خاص نوعیت کا ہے جس کی وجہ سے پنجاب حکومت نے خصوصی ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے لاہور کی ہائی پروفائل ٹیم کو احکامات جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ کالز واٹس ایپ پر کی گئی تھیں اور پنجاب جیل حکام نے قیدیوں سے برآمد ہونے والے موبائل فون فرانزک کے لیے بھیج دیے ہیں تاکہ اس سے متعلق بڑے پیمانے پر تحقیقات کی جاسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1034353"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ قیدیوں نے فیصل آباد کی اعلیٰ شخصیات کو بھتہ خوری یا دیگر جرائم کے مقاصد کے لیے کال کی تھی، دونوں قیدیوں کو تقریباً 3 سال قبل قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزا ہوئی تھی اور دونوں ایک ہی بیرک میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریشن کے بعد پنجاب کی جیل حکام نے قدیوں کو ’پینشنمنٹ سیلز‘ (’punishment cells‘) منتقل کردیا اور تحقیقات مکمل ہونے تک قیدیوں سے ہر قسم کی ملاقات پر پابندی عائد کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی پنجاب جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے فیصل آباد جیل میں آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام کو غور کے لیے واقعے سے متعلق تفصیلی رپورٹ محکمہ داخلہ بھجوا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آپریشن کی مزید تفصیلات ظاہر نہیں کرسکتے کیونکہ واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں، تاہم فیصل آباد پولیس بیرک سے موبائل فون استعمال کرنے والے دو قیدیوں کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے میں مصروف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہ فیصل آباد سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ منصور اختر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ عطاء الرحمان کو نااہلی اور غفلت برتنے کے الزام میں 90 دن کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشتبہ کال کرنے والے قیدیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں سزا کے طور پر خصوصی سیل میں ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سینٹرل جیل فیصل آباد میں دو قیدیوں کی اعلیٰ شخصیات کو مشکوک فون کالز، خفیہ اطلاع ملنے پر پنجاب کی محکمہ جیل خانہ جات کی خصوصی ٹیم نے سرچ آپریشن کے دوران قیدیوں کو حراست میں لے لیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1758321">رپورٹ</a></strong> کے مطابق محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کی خصوصی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر سینٹرل جیل فیصل آباد پر چھاپہ مارا، رپورٹس کے مطابق بیرک سے مشکوک کالز کی گئی تھیں جبکہ کال کرنے والے قیدیوں کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے۔</p>
<p>محکمہ جیل خانہ جات کے دو ڈی آئی جیز کی سربراہی میں ٹیم نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا، آپریشن کے دوران دو قیدیوں کو حراست میں لے کر فیصل آباد کی ہائی پروفائل شخصیت کو کال کرنے کے لیے استعمال کیے گئے موبائل فون بھی ضبط کرلیے گئے۔</p>
<p>آپریشن کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو ملازمت سے معطل کردیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1050957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پنجاب جیل کے ڈی آئی جی سالک جلال اور نوید رؤف نے چھاپہ مار ٹیموں کی قیادت کی جو 5 مئی کو لاہور سے فیصل آباد کے لیے روانہ ہوئی تھی۔</p>
<p>پنجاب حکومت کے اعلیٰ عہدیداران نے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ جیل خانہ جات کے انسپیکٹر جنرل میاں فاروق نذیر کو آپریشن ’انتہائی خفیہ‘ رکھنے کا حکم دیا۔</p>
<p>باخبر ذرائع کے مطابق ماہرین یہ جان کر حیران تھے کہ غیر مجاز کالز کو بلاک کرنے کیلئے حکام کی جانب سے لگائے جیمرز کے باوجود قیدی جیل سے موبائل فون استعمال کررہے تھے۔</p>
<p>سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایجنسیوں کو جب مشکوک کالز کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے  پنجاب حکومت کو معلومات فراہم کی تھیں، عام طور پر پنجاب جیل کے قیدیوں کی جانب سے موبائل فون کے استعمال سے متعلق ماضی میں بھی شکایات رپورٹ ہوتی رہی ہیں کیونکہ قیدی جیل سے باہر اپنے اہل خانہ اور دیگر سے رابطے میں رہتے تھے۔</p>
<p>ذرائع نے مزید بتایا کہ لیکن حالیہ واقعہ خاص نوعیت کا ہے جس کی وجہ سے پنجاب حکومت نے خصوصی ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے لاہور کی ہائی پروفائل ٹیم کو احکامات جاری کیے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ کالز واٹس ایپ پر کی گئی تھیں اور پنجاب جیل حکام نے قیدیوں سے برآمد ہونے والے موبائل فون فرانزک کے لیے بھیج دیے ہیں تاکہ اس سے متعلق بڑے پیمانے پر تحقیقات کی جاسکیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1034353"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سرکاری ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ قیدیوں نے فیصل آباد کی اعلیٰ شخصیات کو بھتہ خوری یا دیگر جرائم کے مقاصد کے لیے کال کی تھی، دونوں قیدیوں کو تقریباً 3 سال قبل قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزا ہوئی تھی اور دونوں ایک ہی بیرک میں موجود تھے۔</p>
<p>آپریشن کے بعد پنجاب کی جیل حکام نے قدیوں کو ’پینشنمنٹ سیلز‘ (’punishment cells‘) منتقل کردیا اور تحقیقات مکمل ہونے تک قیدیوں سے ہر قسم کی ملاقات پر پابندی عائد کردی۔</p>
<p>آئی جی پنجاب جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے فیصل آباد جیل میں آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام کو غور کے لیے واقعے سے متعلق تفصیلی رپورٹ محکمہ داخلہ بھجوا دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آپریشن کی مزید تفصیلات ظاہر نہیں کرسکتے کیونکہ واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں، تاہم فیصل آباد پولیس بیرک سے موبائل فون استعمال کرنے والے دو قیدیوں کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے میں مصروف ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہ فیصل آباد سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ منصور اختر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ عطاء الرحمان کو نااہلی اور غفلت برتنے کے الزام میں 90 دن کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>مشتبہ کال کرنے والے قیدیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں سزا کے طور پر خصوصی سیل میں ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205499</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jun 2023 10:13:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/07100518f2ebacc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/07100518f2ebacc.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/071005190982bdb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/071005190982bdb.jpg"/>
        <media:title>فائل فوٹو: آن لائن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
