<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:26:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:26:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا: ہائی اسکول میں تقریب کے دوران مسلح شخص کی فائرنگ، 2 افراد ہلاک، 5 زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205509/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی ریاست ورجینیا میں ایک مسلح شخص نے گریجویشن تقریب کے موقع پر ہائی اسکول کے باہر موجود ہجوم پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک جبکہ 5 دیگر زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ایک 19 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، جو ایک متاثرہ شخص کو جانتا تھا اور اس پر اس وقت فائرنگ کی تھی جب ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کے کیمپس میں ایک تھیٹر کے اندر ہیوگینٹ ہائی اسکول کی تقریب شروع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رچمنڈ کے عبوری پولیس چیف رِک ایڈورڈز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مشتبہ شخص پر ممکنہ طور پر دوسرے درجے کے قتل اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RichmondPolice/status/1666219375471230977"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رِک ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ شوٹر کا رویہ ’شرمناک اور بزدلانہ‘ تھا کیونکہ بظاہر اس کا تنازع صرف ایک شخص کے ساتھ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جب اس طرح کا ہجوم ہوتا ہے تو بے گناہ افراد بھی نشانہ بن جاتے ہیں، اور آج بھی ایسا ہی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے یہ ایک محفوظ جگہ ہونی چاہیے تھی، یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ کوئی بندوق لانے کا فیصلہ کرتا ہے اور ہماری کمیونٹی میں خوف پھیلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں عوامی مقامات جیسا کہ اسکول، شاپنگ سینٹرز وغیرہ میں فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203323"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.gunviolencearchive.org/reports/mass-shooting"&gt;&lt;strong&gt;گن وائلنس آرکائیو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق رواں برس کے ابتدائی 157 روز میں امریکا میں فائرنگ کے 279 بڑے واقعات پیش آچکے ہیں، اس کی تعریف یہ ہے کہ  ان تمام واقعات میں 4 یا اس سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رِک ایڈورڈز نے بتایا کہ مقتولین کی عمریں 18 اور 36 سال ہیں، انہوں نے ڈبلیو ڈبلیو بی ٹی ٹی وی کی رپورٹ کی تصدیق نہیں کی، جس میں متاثرین کو باپ اور بیٹا بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک 31 سالہ زخمی شخص کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 4 دیگر زخمی افراد کے بچنے کی توقع ہے، جن کی عمریں 14، 32، 55 اور 58 سال ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایک 9 سالہ بچی کو ایک کار نے اس افراتفری میں ٹکر مار دی، اور متعدد دیگر افراد گر کر زخمی ہو گئے یا پریشانی کا شکار ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشتبہ شخص پیدل جائے وقوع سے فرار ہو گیا تھا جو بعد میں 4 ہینڈ گنز کے ساتھ پکڑا گیا، ہوسکتا ہے کہ ان میں سے تین سے فائرنگ  کی گئی ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی ریاست ورجینیا میں ایک مسلح شخص نے گریجویشن تقریب کے موقع پر ہائی اسکول کے باہر موجود ہجوم پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک جبکہ 5 دیگر زخمی ہو گئے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ایک 19 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، جو ایک متاثرہ شخص کو جانتا تھا اور اس پر اس وقت فائرنگ کی تھی جب ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کے کیمپس میں ایک تھیٹر کے اندر ہیوگینٹ ہائی اسکول کی تقریب شروع ہوئی تھی۔</p>
<p>رچمنڈ کے عبوری پولیس چیف رِک ایڈورڈز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مشتبہ شخص پر ممکنہ طور پر دوسرے درجے کے قتل اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RichmondPolice/status/1666219375471230977"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>رِک ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ شوٹر کا رویہ ’شرمناک اور بزدلانہ‘ تھا کیونکہ بظاہر اس کا تنازع صرف ایک شخص کے ساتھ تھا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ جب اس طرح کا ہجوم ہوتا ہے تو بے گناہ افراد بھی نشانہ بن جاتے ہیں، اور آج بھی ایسا ہی ہوا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے یہ ایک محفوظ جگہ ہونی چاہیے تھی، یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ کوئی بندوق لانے کا فیصلہ کرتا ہے اور ہماری کمیونٹی میں خوف پھیلاتا ہے۔</p>
<p>امریکا میں عوامی مقامات جیسا کہ اسکول، شاپنگ سینٹرز وغیرہ میں فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203323"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.gunviolencearchive.org/reports/mass-shooting"><strong>گن وائلنس آرکائیو</strong></a> کے مطابق رواں برس کے ابتدائی 157 روز میں امریکا میں فائرنگ کے 279 بڑے واقعات پیش آچکے ہیں، اس کی تعریف یہ ہے کہ  ان تمام واقعات میں 4 یا اس سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔</p>
<p>رِک ایڈورڈز نے بتایا کہ مقتولین کی عمریں 18 اور 36 سال ہیں، انہوں نے ڈبلیو ڈبلیو بی ٹی ٹی وی کی رپورٹ کی تصدیق نہیں کی، جس میں متاثرین کو باپ اور بیٹا بتایا گیا ہے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک 31 سالہ زخمی شخص کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 4 دیگر زخمی افراد کے بچنے کی توقع ہے، جن کی عمریں 14، 32، 55 اور 58 سال ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایک 9 سالہ بچی کو ایک کار نے اس افراتفری میں ٹکر مار دی، اور متعدد دیگر افراد گر کر زخمی ہو گئے یا پریشانی کا شکار ہو گئے۔</p>
<p>مشتبہ شخص پیدل جائے وقوع سے فرار ہو گیا تھا جو بعد میں 4 ہینڈ گنز کے ساتھ پکڑا گیا، ہوسکتا ہے کہ ان میں سے تین سے فائرنگ  کی گئی ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205509</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jun 2023 15:43:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/071152525804d41.png?r=154411" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/071152525804d41.png?r=154411"/>
        <media:title>ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ کوئی بندوق لانے کا فیصلہ کرتا ہے اور ہماری کمیونٹی میں خوف پھیلاتا ہے — فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/071152580423c9f.png?r=115431" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/071152580423c9f.png?r=115431"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
