<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:54:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:54:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین، بھارت کو ہمالیہ میں سرحدی تنازع سے پیچھے ہٹنا ہوگا، بھارتی وزیر خارجہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205593/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت اور چین کو مغربی ہمالیہ میں ممکنہ تصادم سے پیچھے ہٹنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا کیونکہ متنازع سرحد پر یہ صورتحال جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک کے درمیان تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1134552/"&gt;&lt;strong&gt;جون 2020&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں چین اور بھارت کے درمیان سرحدی علاقے میں جھڑپ کے نتیجے میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے دونوں ملکوں نے بڑی تعداد میں فوجیوں اور دفاعی ہتھیاروں کو تعینات کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ جے شنکر نے نیو دہلی میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم دونوں کو معاملے کو بہتر کرنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ڈیڈلاک چین کے حق میں بھی بہتر نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ تعلقات متاثر ہوتے ہیں اور تعلقات متاثر ہونا جاری رہیں گے، اگر کوئی ایسی توقع ہے کہ کسی طرح معمول پر لاسکتے ہیں جبکہ سرحد پر صورتحال نارمل نہیں ہے تو یہ اچھی توقع نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عسکری اور سفارتی مذاکرات کے متعدد دور نے دو مخالف فوجی قوتوں کے درمیان تناؤ کی صورتحال کو کم کیا ہے لیکن جے شنکر نے مارچ میں کہا تھا کہ صورتحال نازک اور خطرناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1133683"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے شنکر کا کہنا تھا کہ دونوں حکومتیں رابطے میں ہیں اور دونوں طرف سے رابطوں کے لیے متعدد عسکری اور سفارتی میکانزم موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ میکانزم کام کرتے رہیں گے کیونکہ آخر کار صورتحال کو بہتر کرنا طویل عمل ہے اور یہ سب جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے شنکر کے مطابق نئی دہلی نے بیجنگ کو مئی 2020 میں سرحد پر جھڑپ سے پہلے بھی بتایا تھا کہ ہم آپ کی فورسز کی حرکت دیکھ رہے ہیں، جو ہماری نظر میں، ہماری سمجھنے کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور چین کے درمیان 3 ہزار 800 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس میں سے زیادہ تر حد بندی ناقص ہے جبکہ 1962 میں اس پر ایک مختصر لیکن خونریز جنگ لڑی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990 سے سرحدی معاہدوں کے سلسلے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بحال ہوئے، چین اب بھارت کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بھارت، آسٹریلیا، جاپان اور امریکا کے ہمارہ نام نہاد کواڈ اسٹریٹجک سیکیورٹی گروپ کا رکن ہے، جسے ایشیا۔پیسیفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نمٹنے کے لیے 2007 میں بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کواڈ پر تنقید کرتا ہے کہ یہ بلاک امریکی سربراہی میں بنایا گیا جس کا مقصد چین کی ترقی کو روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت اور چین کو مغربی ہمالیہ میں ممکنہ تصادم سے پیچھے ہٹنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا کیونکہ متنازع سرحد پر یہ صورتحال جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک کے درمیان تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1134552/"><strong>جون 2020</strong></a> میں چین اور بھارت کے درمیان سرحدی علاقے میں جھڑپ کے نتیجے میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے دونوں ملکوں نے بڑی تعداد میں فوجیوں اور دفاعی ہتھیاروں کو تعینات کر رکھا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ جے شنکر نے نیو دہلی میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم دونوں کو معاملے کو بہتر کرنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ڈیڈلاک چین کے حق میں بھی بہتر نہیں ہوگا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ تعلقات متاثر ہوتے ہیں اور تعلقات متاثر ہونا جاری رہیں گے، اگر کوئی ایسی توقع ہے کہ کسی طرح معمول پر لاسکتے ہیں جبکہ سرحد پر صورتحال نارمل نہیں ہے تو یہ اچھی توقع نہیں ہے۔</p>
<p>عسکری اور سفارتی مذاکرات کے متعدد دور نے دو مخالف فوجی قوتوں کے درمیان تناؤ کی صورتحال کو کم کیا ہے لیکن جے شنکر نے مارچ میں کہا تھا کہ صورتحال نازک اور خطرناک ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1133683"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جے شنکر کا کہنا تھا کہ دونوں حکومتیں رابطے میں ہیں اور دونوں طرف سے رابطوں کے لیے متعدد عسکری اور سفارتی میکانزم موجود ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یہ میکانزم کام کرتے رہیں گے کیونکہ آخر کار صورتحال کو بہتر کرنا طویل عمل ہے اور یہ سب جاری رہے گا۔</p>
<p>جے شنکر کے مطابق نئی دہلی نے بیجنگ کو مئی 2020 میں سرحد پر جھڑپ سے پہلے بھی بتایا تھا کہ ہم آپ کی فورسز کی حرکت دیکھ رہے ہیں، جو ہماری نظر میں، ہماری سمجھنے کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>بھارت اور چین کے درمیان 3 ہزار 800 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس میں سے زیادہ تر حد بندی ناقص ہے جبکہ 1962 میں اس پر ایک مختصر لیکن خونریز جنگ لڑی گئی۔</p>
<p>1990 سے سرحدی معاہدوں کے سلسلے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بحال ہوئے، چین اب بھارت کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ملک ہے۔</p>
<p>تاہم بھارت، آسٹریلیا، جاپان اور امریکا کے ہمارہ نام نہاد کواڈ اسٹریٹجک سیکیورٹی گروپ کا رکن ہے، جسے ایشیا۔پیسیفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نمٹنے کے لیے 2007 میں بنایا گیا تھا۔</p>
<p>بیجنگ کواڈ پر تنقید کرتا ہے کہ یہ بلاک امریکی سربراہی میں بنایا گیا جس کا مقصد چین کی ترقی کو روکنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205593</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jun 2023 21:51:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/08164432ee8d520.jpg?r=215202" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/08164432ee8d520.jpg?r=215202"/>
        <media:title>بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر — تصویر: بشکریہ ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
