<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 05:25:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 05:25:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا آئی ٹی کے شعبے کو اسمال بزنس کا درجہ دینے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205666/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے کو وسعت دینے کے لیے اسے ’اسمال اینڈ میڈیم سائزڈ انٹرپرائزز‘ (ایس ایم ایز) کا درجہ دینے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 24-2023 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئی ٹی کے کاروبار کو ایس ایم ایز کا درجہ دینے سے مذکورہ شعبہ جات کے کاروباری حضرات کو ٹیکس کی مد میں فائدہ ہوگا اور انہیں کاوروبار کرنے میں آسانیاں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات بڑھانے کے لیے 0.25 فیصد کی رعایتی شرح لاگو ہے اور مذکورہ سہولت جون 2026 تک جاری رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آئی ٹی شعبے کو ایس ایم ای کا درجہ دیا جا رہا ہے، جس سے اس شعبے کو رعایتی انکم ٹیکس ریٹس میں فائدہ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205592"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی کے کاروبار کی مانیٹرنگ کے لیے وینچر کپیٹل کی بہت اہمیت ہے، اس لیے حکومتی وسائل سے مذکورہ نظام کے قیام کے لیے بجٹ میں 5 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کاروبار کو مزید وسعت دینے کے حکومتی عزم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ٹی کے شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کو 20 فیصد رعایتی ٹیکس کا استفادہ بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی اینڈ آئی ٹی ان ایبل سروسز فرمز اپنی برآمدات کے ایک فیصد کے برابر مالیت کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر بغیر ٹیکس کے درآمد کرسکیں گے، ان درآمدات کی حد 50 ہزار ڈالر سالانہ مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی سروسز اور آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے آٹومیٹڈ ایگزیمشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے مالی سال میں ملک بھر میں 50 ہزار آئی ٹی گریجویٹس کو پیشہ ورانہ تربیت بھی دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فری لانسرز کے لیے مراعات کا اعلان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے خطاب میں بتایا کہ آئی ٹی معیشت کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے جب کہ پاکستان فری لانسرز کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اعلان کیا کہ فری لانسرز کے لیے 24 ہزار ڈالر تک سالانہ کی ایکسپورٹ پر ان کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور گوشواروں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ ان کے لیے ایک سادہ سنگل پیج انکم ٹیکس ریٹرن کا اجرا کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے مذکورہ اعلان کے بعد اب فری لانسرز سالانہ 24 ہزار ڈالرز تک کوئی بھی ٹیکس ادا نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے کو وسعت دینے کے لیے اسے ’اسمال اینڈ میڈیم سائزڈ انٹرپرائزز‘ (ایس ایم ایز) کا درجہ دینے کا اعلان کردیا۔</p>
<p>وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 24-2023 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئی ٹی کے کاروبار کو ایس ایم ایز کا درجہ دینے سے مذکورہ شعبہ جات کے کاروباری حضرات کو ٹیکس کی مد میں فائدہ ہوگا اور انہیں کاوروبار کرنے میں آسانیاں ہوں گی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات بڑھانے کے لیے 0.25 فیصد کی رعایتی شرح لاگو ہے اور مذکورہ سہولت جون 2026 تک جاری رکھی جائے گی۔</p>
<p>اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آئی ٹی شعبے کو ایس ایم ای کا درجہ دیا جا رہا ہے، جس سے اس شعبے کو رعایتی انکم ٹیکس ریٹس میں فائدہ ملے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205592"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی کے کاروبار کی مانیٹرنگ کے لیے وینچر کپیٹل کی بہت اہمیت ہے، اس لیے حکومتی وسائل سے مذکورہ نظام کے قیام کے لیے بجٹ میں 5 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کاروبار کو مزید وسعت دینے کے حکومتی عزم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ٹی کے شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کو 20 فیصد رعایتی ٹیکس کا استفادہ بھی ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی اینڈ آئی ٹی ان ایبل سروسز فرمز اپنی برآمدات کے ایک فیصد کے برابر مالیت کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر بغیر ٹیکس کے درآمد کرسکیں گے، ان درآمدات کی حد 50 ہزار ڈالر سالانہ مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی سروسز اور آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے آٹومیٹڈ ایگزیمشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے مالی سال میں ملک بھر میں 50 ہزار آئی ٹی گریجویٹس کو پیشہ ورانہ تربیت بھی دی جائے گی۔</p>
<p><strong>فری لانسرز کے لیے مراعات کا اعلان</strong></p>
<p>وزیر خزانہ نے خطاب میں بتایا کہ آئی ٹی معیشت کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے جب کہ پاکستان فری لانسرز کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔</p>
<p>انہوں نے اعلان کیا کہ فری لانسرز کے لیے 24 ہزار ڈالر تک سالانہ کی ایکسپورٹ پر ان کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور گوشواروں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ ان کے لیے ایک سادہ سنگل پیج انکم ٹیکس ریٹرن کا اجرا کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>حکومت کے مذکورہ اعلان کے بعد اب فری لانسرز سالانہ 24 ہزار ڈالرز تک کوئی بھی ٹیکس ادا نہیں کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205666</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jun 2023 21:12:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/0920552251b0887.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/0920552251b0887.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
