<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:44:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:44:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کیلئے پاکستان کے پاس وقت ختم ہو رہا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1205999/</link>
      <description>&lt;p&gt;موڈیز نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے پاس عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)  کو 6.7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے تحت 2.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے پر قائل کرنے کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1759803"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ریٹنگ ایجنسی نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر ملک، آئی ایم ایف پروگرام حاصل کرنے میں ناکام رہا تو وہ دیوالیہ ہو سکتا ہے، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار متعدد سیشنز میں آئی ایم ایف حکام کو نویں جائزے کی تکمیل کے لیے قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو 1.1 ارب ڈالر کی قسط حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے صرف 2 ہفتے رہ گئے ہیں، یا پھر ناکامی کی صورت میں معیشت پر شدید نتائج مرتب ہوسکتے ہیں، بیل آؤٹ پیکیج کا اختتام 30 جون کو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ نے سنگاپور میں مقیم موڈیز کے خودمختار تجزیہ کار گریس لم کے حوالے سے بتایا کہ خطرات بڑھ رہے ہیں کہ شاید پاکستان، آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل نہ کرسکے جس کا اختتام جون میں ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205920"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی صف اول کی تقریباً تمام ریٹنگ ایجنسیوں نے موجودہ مالی سال میں متعدد بار پاکستانی معیشت کی ریٹنگ میں تنزلی کی ہے، زیادہ تر کُلی معاشی اشاریے منفی ہیں جبکہ زرمبادلہ کے خراب ذخائر کی وجہ سے پورے مالی سال معیشت دباؤ کا شکار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت دوست ممالک اور ڈونر ایجنسیوں کی مدد سے پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچانے کی جہدوجہد کر رہی ہے، لیکن خراب معاشی کارکردگی اس کی مضبوط وجہ ہے کہ مددگار فاصلہ رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے حالیہ تخمینے کے مطابق مالی سال 2023 میں معاشی نمو 0.29 فیصد رہی لیکن غیرجانبدار تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ معاشی نمو 2 تا 3 فیصد سکڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹنگ ایجنسی نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر پاکستان ڈیفالٹ کرسکتا ہے کیونکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال کمزور ہے، مرکزی بینک کے پاس 4 ارب ڈالر سے کم کے ذخائر رہ گئے ہیں، موڈیز کے علاوہ دیگر ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کو مسترد کرتا ہے تو پاکستان دیوالیہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205870"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے متعدد بار اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام پیشگی شرائط پوری کردی ہیں، ماہرین اور تجزیہ کار بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی درکار شرائط کو پورا کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر پالیسی ریٹ 21 فیصد کی تاریخی بُلند شرح مقرر کی گئی اور درآمدات کو محدود کیا گیا، جس کے سبب معیشت لڑکھڑا گئی اور ملک کو 38 فیصد مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز کے تجزیہ کار نے بتایا کہ پاکستان کے مالیاتی آپشن جون کے بعد انتہائی غیریقینی ہیں اور اسے اگلے مالی سال میں بڑی غیر ملکی ادائیگیاں کرنا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مالیاتی شعبے کا خیال ہے کہ بیل آؤٹ پیکج کی ناکامی سے ملک کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، جبکہ رواں برس کے آخر تک عام انتخابات کے بعد آنے والی نئی حکومت کے لیے تباہ کن معاشی حالات سے گزرنا آسان نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>موڈیز نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے پاس عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)  کو 6.7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے تحت 2.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے پر قائل کرنے کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1759803"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ریٹنگ ایجنسی نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر ملک، آئی ایم ایف پروگرام حاصل کرنے میں ناکام رہا تو وہ دیوالیہ ہو سکتا ہے، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار متعدد سیشنز میں آئی ایم ایف حکام کو نویں جائزے کی تکمیل کے لیے قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو 1.1 ارب ڈالر کی قسط حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے صرف 2 ہفتے رہ گئے ہیں، یا پھر ناکامی کی صورت میں معیشت پر شدید نتائج مرتب ہوسکتے ہیں، بیل آؤٹ پیکیج کا اختتام 30 جون کو ہوگا۔</p>
<p>بلومبرگ نے سنگاپور میں مقیم موڈیز کے خودمختار تجزیہ کار گریس لم کے حوالے سے بتایا کہ خطرات بڑھ رہے ہیں کہ شاید پاکستان، آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل نہ کرسکے جس کا اختتام جون میں ہو رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205920"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دنیا کی صف اول کی تقریباً تمام ریٹنگ ایجنسیوں نے موجودہ مالی سال میں متعدد بار پاکستانی معیشت کی ریٹنگ میں تنزلی کی ہے، زیادہ تر کُلی معاشی اشاریے منفی ہیں جبکہ زرمبادلہ کے خراب ذخائر کی وجہ سے پورے مالی سال معیشت دباؤ کا شکار رہی۔</p>
<p>حکومت دوست ممالک اور ڈونر ایجنسیوں کی مدد سے پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچانے کی جہدوجہد کر رہی ہے، لیکن خراب معاشی کارکردگی اس کی مضبوط وجہ ہے کہ مددگار فاصلہ رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>حکومت کے حالیہ تخمینے کے مطابق مالی سال 2023 میں معاشی نمو 0.29 فیصد رہی لیکن غیرجانبدار تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ معاشی نمو 2 تا 3 فیصد سکڑ سکتی ہے۔</p>
<p>ریٹنگ ایجنسی نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر پاکستان ڈیفالٹ کرسکتا ہے کیونکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال کمزور ہے، مرکزی بینک کے پاس 4 ارب ڈالر سے کم کے ذخائر رہ گئے ہیں، موڈیز کے علاوہ دیگر ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کو مسترد کرتا ہے تو پاکستان دیوالیہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205870"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے متعدد بار اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام پیشگی شرائط پوری کردی ہیں، ماہرین اور تجزیہ کار بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی درکار شرائط کو پورا کر دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر پالیسی ریٹ 21 فیصد کی تاریخی بُلند شرح مقرر کی گئی اور درآمدات کو محدود کیا گیا، جس کے سبب معیشت لڑکھڑا گئی اور ملک کو 38 فیصد مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے۔</p>
<p>موڈیز کے تجزیہ کار نے بتایا کہ پاکستان کے مالیاتی آپشن جون کے بعد انتہائی غیریقینی ہیں اور اسے اگلے مالی سال میں بڑی غیر ملکی ادائیگیاں کرنا ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں مالیاتی شعبے کا خیال ہے کہ بیل آؤٹ پیکج کی ناکامی سے ملک کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، جبکہ رواں برس کے آخر تک عام انتخابات کے بعد آنے والی نئی حکومت کے لیے تباہ کن معاشی حالات سے گزرنا آسان نہیں ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1205999</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Jun 2023 16:29:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/151358146d0a7f4.jpg?r=162944" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/151358146d0a7f4.jpg?r=162944"/>
        <media:title>وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے متعدد بار اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام پیشگی شرائط پوری کر دی ہیں — فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
