<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 13:01:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 13:01:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس نے 15 پاکستانی کمپنیز سے چاول درآمد کرنے کی اجازت دے دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206095/</link>
      <description>&lt;p&gt;چاولوں کی برآمدات میں تنزلی کا رجحان جاری ہے ، تاہم اس حوالے سے بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے کیونکہ روس نے درآمدات کے لیے 15 سے زائد پاکستانی کمپنیز کی رجسٹریشن کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1760240/russia-clears-15-more-rice-companies-for-imports"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وزارت تحفظ خوارک و تحقیق کے محکمے پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) نے  تکنیکی آڈٹ کے بعد روسی فیڈرل سروس فار ویٹرنری اینڈ فائٹوسینٹری سرویلنس کو ان کمپنیز کی سفارش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خوراک نے ایک بیان میں بتایا کہ پاکستان کی برآمدات بڑھانے اور مجموعی معاشی صورتحال بہتر کرنے کی طرف ایک کامیاب پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیڑوں کی وجہ سے روس نے پاکستان سے چاولوں کی درآمدات پر پابندی عائد کر دی تھی، تاہم اس نے 2021 میں پابندی ختم کردی تھی اور معیار پر پورا اترنے والے صرف 4 کمپنیوں سے درآمدات کی اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی پی پی نے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے تعاون سے چاول کی برآمدات کے لیے سینیٹری اور فائٹو سینیٹری (ایس پی ایس)  کی ضروریات پورا کرنے کے لیے روس کی رہنمائی دستاویز کے مطابق مزید 15 ملوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1161817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سمت میں انتھک کوششیں کی گئیں تاکہ ان اداروں کو چاول کے معیار اور مقدار میں بہتری کے ذریعے چاول برآمد کرنے کے لیے ایس پی ایس کی ضروریات کے مطابق لایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب 19 کمپنیاں روس کو چاول برآمد کریں گی، یہ خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے چاولوں کے کاشتکاروں کے لیے اچھی خبر ہے کیونکہ یہ ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، پاکستان ایک زرعی معیشت ہونے کے ناطے عالمی منڈیوں کے مطابق معیار کو بہتر بنا کر دیگر شعبوں میں بھی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، اس معاہدے کے بعد چاول کی عالمی منڈیوں میں برآمدات کے مزید راستے کھلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاول کی پروسیسنگ کی مزید سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ ایشیا، یورپ، امریکا اور آسٹریلیا کی اعلیٰ برآمدی منڈیوں میں بڑا حصہ حاصل کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی باسمتی چاول کی برآمدات مالی سال 2023 کے ابتدائی 11 مہینوں کے دوران سکڑ کر 5 لاکھ 41 ہزار 492 ٹن (58 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) رہ گئی، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 6 لاکھ 95 ہزار 564 ٹن (63 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) ریکارڈ کی گئی تھی، مالی سال 2023 میں جولائی تا مئی کے دوران چاول کی دیگر اقسام کی برآمدات 29 لاکھ 64 ہزار ٹن رہی، جس سے 1.4 ارب ڈالر حاصل ہوئے جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 1.6 ارب ڈالر (38 لاکھ 16 ہزار ٹن) چاول برآمد کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چاولوں کی برآمدات میں تنزلی کا رجحان جاری ہے ، تاہم اس حوالے سے بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے کیونکہ روس نے درآمدات کے لیے 15 سے زائد پاکستانی کمپنیز کی رجسٹریشن کی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1760240/russia-clears-15-more-rice-companies-for-imports"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وزارت تحفظ خوارک و تحقیق کے محکمے پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) نے  تکنیکی آڈٹ کے بعد روسی فیڈرل سروس فار ویٹرنری اینڈ فائٹوسینٹری سرویلنس کو ان کمپنیز کی سفارش کی تھی۔</p>
<p>وزارت خوراک نے ایک بیان میں بتایا کہ پاکستان کی برآمدات بڑھانے اور مجموعی معاشی صورتحال بہتر کرنے کی طرف ایک کامیاب پیش رفت ہے۔</p>
<p>کیڑوں کی وجہ سے روس نے پاکستان سے چاولوں کی درآمدات پر پابندی عائد کر دی تھی، تاہم اس نے 2021 میں پابندی ختم کردی تھی اور معیار پر پورا اترنے والے صرف 4 کمپنیوں سے درآمدات کی اجازت دی تھی۔</p>
<p>ڈی پی پی نے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے تعاون سے چاول کی برآمدات کے لیے سینیٹری اور فائٹو سینیٹری (ایس پی ایس)  کی ضروریات پورا کرنے کے لیے روس کی رہنمائی دستاویز کے مطابق مزید 15 ملوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1161817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سمت میں انتھک کوششیں کی گئیں تاکہ ان اداروں کو چاول کے معیار اور مقدار میں بہتری کے ذریعے چاول برآمد کرنے کے لیے ایس پی ایس کی ضروریات کے مطابق لایا جائے۔</p>
<p>اب 19 کمپنیاں روس کو چاول برآمد کریں گی، یہ خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے چاولوں کے کاشتکاروں کے لیے اچھی خبر ہے کیونکہ یہ ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔</p>
<p>مزید برآں، پاکستان ایک زرعی معیشت ہونے کے ناطے عالمی منڈیوں کے مطابق معیار کو بہتر بنا کر دیگر شعبوں میں بھی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، اس معاہدے کے بعد چاول کی عالمی منڈیوں میں برآمدات کے مزید راستے کھلیں گے۔</p>
<p>چاول کی پروسیسنگ کی مزید سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ ایشیا، یورپ، امریکا اور آسٹریلیا کی اعلیٰ برآمدی منڈیوں میں بڑا حصہ حاصل کیا جاسکے۔</p>
<p>پاکستانی باسمتی چاول کی برآمدات مالی سال 2023 کے ابتدائی 11 مہینوں کے دوران سکڑ کر 5 لاکھ 41 ہزار 492 ٹن (58 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) رہ گئی، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 6 لاکھ 95 ہزار 564 ٹن (63 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) ریکارڈ کی گئی تھی، مالی سال 2023 میں جولائی تا مئی کے دوران چاول کی دیگر اقسام کی برآمدات 29 لاکھ 64 ہزار ٹن رہی، جس سے 1.4 ارب ڈالر حاصل ہوئے جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 1.6 ارب ڈالر (38 لاکھ 16 ہزار ٹن) چاول برآمد کیے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206095</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Jun 2023 09:26:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/17091741c26a67b.jpg?r=091753" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/17091741c26a67b.jpg?r=091753"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
